Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

There-is-a-lot-of-Ghibli-art-on-the-internet-What-is-Ghibli-art-and-what-is-its-background
سائنس و ٹیکنالوجیاہم ترینتازہ ترینخبریں

انٹرنیٹ پر گبلی آرٹ کی بھرمار۔۔ گبلی آرٹ کیا ہے اور اس کا پسِ منظر کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
اپریل 2, 2025 7 Min Read
0

اگر آپ کسی غار میں نہیں رہ رہے تھے، تو یقینی طور پر آپ نے اپنے دوستوں، خاندان کے افراد، اور جاننے والوں کو ایک مخصوص طرز کے کارٹون میں ڈھال کر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کرتے دیکھا ہوگا۔ اوپن اے آئی کے نئے امیج-جنریشن ٹول کا پچھلے ہفتے اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ کمپنی کے سی ای او سیم آلٹمین نے دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے کمپنی کے GPUs ”پگھل“ رہے ہیں۔

سیم آلٹمین لوگوں سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ ان کی کمپنی کے نئے اے آئی امیج جنریٹر سے تصویریں بنانے میں کچھ کمی کریں۔ آلٹمین نے X پر کہا، ”ہماری ٹیم کو نیند کی ضرورت ہے۔“

جی ہاں، ان دنوں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (آے آئی) کے پلیٹ فارم اوپن اے آئی جی پی ٹی فور نے دنیا بھر میں گِبلی (Ghibli) اسٹائل میں تصاویر یعنی پورٹریٹ بنانے کی سہولت دے کر دھوم مچا دی ہے، جس کے بعد صارفین کی تصاویر گِبلی آرٹ میں وائرل ہو رہی ہیں۔

اس دوران یہ بحث بھی جاری ہے کہ آخر گبلی آرٹ کیا ہے اور اس کا پسِ منظر کیا ہے، جبکہ اوپن اے آئی کی جانب سے اسٹوڈیو گبلی کے دانشورانہ حقوق کی ممکنہ خلاف ورزی، اور جنریٹیو اے آئی کے ماحولیاتی اثرات پر بھی گفتگو ہو رہی ہے۔

ایک بحث اصل آرٹ کے مالکانہ حقوق کے حوالے سے بھی ہو رہے۔ پچھلے ہفتے کئی لوگ اپنی اے آئی بنی تصاویر بنانے میں مصروف رہے، کچھ لوگوں نے اصل آرٹ اور فنکاروں کا دفاع بھی کیا۔ کئی صارفین نے جاپانی اینیمی ہدایت کار ہایاؤ میازاکی (Hayao Miyazaki) کے 2016 کے ایک بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے اے آئی کو ”زندگی کی توہین“ قرار دیا تھا۔

بہرحال یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اے آئی کے ذریعے اپنی تصاویر کو گبلی آرٹ میں تبدیل کرنے کا یہ رجحان پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ گوگل ٹرینڈز کے ڈیٹا کے مطابق، یہ رجحان جنوبی ایشیائی ممالک میں کہیں زیادہ مقبول رہا، جہاں بنگلہ دیش سرفہرست رہا اور اس کے بعد بھارت کا نمبر آیا، جبکہ پاکستان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہا

اسٹوڈیو گبلی کی عالمی شہرت کے باوجود، گوگل ٹرینڈز کی عالمی ہیٹ میپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گبلی آرٹ کی تلاش زیادہ تر جنوبی ایشیا میں مقبول رہی۔ بنگلہ دیش (100)، بھارت (85)، نیپال (80)، پاکستان (47)، اور سری لنکا (46) ان ممالک میں شامل تھے جہاں اس رجحان کو سب سے زیادہ پذیرائی ملی، جبکہ مغربی ممالک میں اس میں نسبتاً کم دلچسپی دیکھی گئی۔ سب-صحارن افریقہ میں اس خصوصیت میں دلچسپی سب سے کم رہی۔

آئیے دنیا بھر میں دھوم مچانے والے اس گبلی آرٹ کے پسِ منظر اور تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

جب بھی اینیمیشن کی دنیا میں جادو، تخیل اور جذبات کی بات آتی ہے، تو جاپان کے ایوارڈ یافتہ اینیمیشن اسٹوڈیو گِبلی کا نام ذہن میں آتا ہے۔ یہ اسٹوڈیو، جو 1985 میں ہایاؤ میازاکی، ایساؤ تاکاہاتا اور توشیو سوزوکی کے ہاتھوں قائم ہوا۔ ٹوکیو کے علاقے کوگانئی میں واقع یہ اسٹوڈیو نہ صرف جاپان بلکہ پوری دنیا میں اینیمیشن کا مترادف بن چکا ہے۔ اس کی فلمیں بچوں اور بڑوں کو یکساں طور پر مسحور کر دیتی ہیں اور ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہیں جہاں حقیقت اور تخیل کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔

میازاکی کی فلموں میں ہینڈ ڈراؤن اینیمیشن کا استعمال ہوتا ہے، جس سے ہر فریم ایک مکمل آرٹ ورک کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنے کام میں باریک تفصیلات پر خاص توجہ دیتے ہیں، جیسے گھاس کی ہلکی سی جنبش یا پانی کی لہروں کی حرکت۔

’گبلی‘ نام لیبیا کی عربی زبان کے ایک لفظ سے ماخوذ ہے، جو گرم صحرا کی ہوا کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ ایک اور رائے کے مطابق یہ ایک اطالوی لفظ ہے، جس کا مطلب گرم صحارا کی ہوا ہے، جو مغربی دنیا میں جدت اور نئے خیالات لانے کی علامت ہے۔ ہایاؤ میازاکی نے اس نام کا انتخاب اس امید کے ساتھ کیا کہ ان کا اسٹوڈیو جاپانی اینیمیشن میں ایک نئی ہوا کی طرح انقلاب برپا کرے گا۔

گِبلی کا قیام ایسے وقت میں ہوا جب جاپانی اینیمیشن کو زیادہ تر ٹی وی سیریز اور محدود بجٹ والی فلموں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ میازاکی اور تاکاہاتا نے ایک ایسے اسٹوڈیو کا خواب دیکھا جو اعلیٰ معیار کی اینیمیشن فلمیں تخلیق کرے، جہاں کہانی اور کرداروں پر خاص توجہ دی جائے۔

ان کی پہلی بڑی کامیابی ”ناوسیکا آف دی ویلی آف دی ونڈ“ (1984) تھی، جو ماحولیات اور انسانی فطرت کے پیچیدہ مسائل پر مبنی ایک متاثر کن کہانی تھی۔ اس فلم کی کامیابی نے گِبلی کے قیام کی راہ ہموار کی اور ان کے منفرد انداز کی بنیاد رکھی۔

گِبلی کے منفرد انداز اور موضوعات کی بات کی جائے تو گِبلی کی فلمیں صرف بچوں کے لیے بنائی گئی سادہ کہانیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ گہرے فلسفیانہ اور معاشرتی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔

میازاکی کی فلمیں صرف تفریح ہی فراہم نہیں کرتیں، یہ اکثر فطرت اور صنعتی ترقی کے درمیان کشمکش جیسے بامقصد موضوعات پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ ”پرنسس مونونوکے“ (1997) میں، یہ تنازعہ انتہائی خوبصورتی اور گہرائی سے پیش کیا گیا ہے، جہاں فطرت کی حفاظت اور انسانی ترقی کے درمیان توازن کی تلاش کی جاتی ہے۔

گِبلی کی فلموں میں اکثر ایک ایسی دنیا دکھائی جاتی ہے جو حقیقت اور جادو کے امتزاج سے بنی ہوتی ہے۔ ”مای نیبر ٹوٹورو“ (1988) میں، فطرت کی جادوئی مخلوقات بچوں کو تسلی اور محبت فراہم کرتی ہیں۔

گِبلی کی کئی فلمیں جنگ کے خلاف موثر پیغام بھی دیتی ہیں، جیسے ”گریو آف دی فائر فلائز“ (1988)، جو جنگ کی تباہ کاریوں کو انتہائی دردناک انداز میں پیش کرتی ہے۔

گبلی آرٹ کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی اور اس نے اپنے اثرات مرتب کیے۔ 2001 میں، ”سپریٹڈ اوے“ نے آسکر جیت کر نہ صرف گِبلی بلکہ جاپانی اینیمیشن کو بھی عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ یہ فلم آج بھی اینیمیشن دنیا کی بہترین تخلیقات میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے بعد، ”ہاؤلز موونگ کیسل“ (2004) اور ”دی ونڈ رائزز“ (2013) جیسی فلمیں بھی بین الاقوامی سطح پر بے حد پسند کی گئیں۔

گِبلی کی فلموں کا اثر مغربی اینیمیشن انڈسٹری پر بھی پڑا۔ ڈزنی اور پکسار جیسے بڑے اسٹوڈیوز کے تخلیق کار، بشمول جان لیسٹر، میازاکی کے مداح ہیں اور ان کی فلموں سے متاثر ہو کر اپنے اینیمیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آئیے اب ایک نظر ڈالتے ہیں گِبلی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل پر۔۔ 2013 میں، ہایاؤ میازاکی نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، مگر ان کے جانے کے بعد بھی اسٹوڈیو نے اپنی شناخت برقرار رکھی۔ 2020 میں، ”ایئر وِگ اینڈ دی وچ“ ریلیز ہوئی، جو گِبلی کی پہلی مکمل طور پر CGI فلم تھی، مگر اسے کلاسیکی گِبلی فلموں جیسی پذیرائی نہیں ملی۔ تاہم، 2023 میں ”دی بوائے اینڈ دی ہیرون“ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ گِبلی کا جادو آج بھی زندہ ہے۔

اسٹوڈیو گِبلی صرف ایک اینیمیشن کمپنی نہیں بلکہ ایک تخلیقی تحریک ہے جس نے دنیا کو یہ سکھایا کہ اینیمیشن محض تفریح نہیں، بلکہ ایک فن ہے جو انسانی جذبات، معاشرتی مسائل، اور زندگی کی گہرائیوں کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کر سکتا ہے۔ چاہے وہ ٹوٹورو کی معصوم دنیا ہو، چیہیرو کی جادوئی مہم ہو، یا اشیتاکا کی جنگ اور امن کے درمیان کشمکش، گِبلی کی کہانیاں ہمیشہ دلوں کو چھوتی رہیں گی۔

اوپن اے آئی پر گِبلی آرٹ کون استعمال کر سکتا ہے؟

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے اعلان کیا کہ دنیا بھر میں گِبلی آرٹ کی غیر معمولی ڈیمانڈ کے بعد ابھی تک اس فیچر کو چیٹ جی پی ٹی پر صارفین کے لیے مفت شروع نہیں کیا گیا۔
یعنی جو صارفین چیٹ جی پی ٹی کا بیسک پلان استعمال کرتے ہیں، وہ اس سہولت سے محروم رہیں گے تاہم گوگل جیمینائے اور گروک جیسے آرٹیفیشل پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے گِبلی آرٹ بنایا جا سکتا ہے۔

یہاں واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کی نسبت گروک اور جیمینائے پر گِبلی آرٹ کے ذریعے بننے والی تصاویر مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح کرائون، ڈِیپ اے آئی اور پلے گراؤنڈ اے آئی کے ذریعے بھی صارفین گِبلی آرٹ بنا سکتے ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی-4 اور گبلی آرٹ کا امتزاج

مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈل جیسے چیٹ جی پی ٹی-4 تخلیقی آرٹ، کہانی نویسی، اور بصری فنون کے لیے غیر معمولی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اگرچہ چیٹ جی پی ٹی-4 بذاتِ خود تصویریں نہیں بنا سکتا، لیکن اس کی مدد سے گبلی اسٹائل کے آرٹ کے لیے خیالات، منظرنامے، اور کہانیوں کے خاکے تیار کیے جا سکتے ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی-4 سے گبلی آرٹ کے لیے آئیڈیاز کیسے حاصل کریں؟

اگر آپ ایک گبلی اسٹائل کہانی لکھنا چاہتے ہیں تو چیٹ جی پی ٹی-4 سے خیالات لے سکتے ہیں، جیسے:

ایک ایسے بچے کی کہانی جو ایک جادوئی دریا سے گزرتا ہے اور پریوں کی سلطنت میں جا پہنچتا ہے۔

ایک بوڑھا درزی جس کے بنائے ہوئے کپڑے پہننے سے لوگ اپنے خوابوں میں جا سکتے ہیں۔

اگر آپ گبلی طرز کی پینٹنگ بنانا چاہتے ہیں تو چیٹ جی پی ٹی-4 سے تفصیلی منظرنامہ لے سکتے ہیں، مثلاً: ایک سرسبز وادی جس میں چھوٹے چھوٹے لکڑی کے گھر ہیں، ایک بڑی بلی درخت کی شاخ پر بیٹھی ہے، اور ہوا میں روشنی کے ننھے ذرّے تیر رہے ہیں۔

Tags:

AI and animated film aestheticsAI and artistic integrityAI and character emotionsAI and children’s animationAI and cinematic visualsAI and copyrightAI and creative expressionAI and dreamlike visualsAI and dreamscapesAI and environmental impactAI and ethicsAI and fairy tale aestheticsAI and fan artAI and fantasy artAI and film industryAI and folkloreAI and Japanese cultureAI and magical realismAI and modern animationAI and mythologyAI and nostalgiaAI and social mediaAI and soft color palettesAI and storytellingAI and surrealismAI and timeless storytellingAI and traditional animationAI and traditional artAI and visual storytellingAI and warm color tonesAI and watercolor aestheticsAI animationAI ArtAI art and JapanAI art communitiesAI art controversyAI art ethicsAI art in BangladeshAI art in IndiaAI art in NepalAI art in PakistanAI art in Sri LankaAI art softwareAI creativityAI fantasy illustrationsAI GPUsAI image generationAI image trendsAI in animation industryAI in cultural expressionAI in film productionAI in online creativityAI in South AsiaAI in visual artsAI portrait trendsAI tools for artistsAI vs human artistsAI-driven character designAI-driven conceptual artAI-driven creativityAI-enhanced art stylesAI-generated animeAI-generated anime scenesAI-generated charactersAI-generated fairy talesAI-generated fantasy citiesAI-generated fantasy creaturesAI-generated Ghibli worldsAI-generated landscapesAI-generated movie postersAI-generated mystical realmsAI-generated mystical worldsAI-generated portraitsAI-generated whimsical charactersAI-inspired magical worldsAI-powered aesthetic enhancementsAI-powered anime creationsAI-powered digital artistsanime-inspired AIchatgpt 4ChatGPT and artdigital art revolutionfantasy AI artgenerative aiGhibli animationGhibli ArtGhibli art historyGhibli art in digital ageGhibli-inspired AI artGhibli-style imagesGoogle Trends AIhand-drawn animationHayao MiyazakiJapanese animationopenaiStudio GhibliStudio Ghibli legacy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
A-forgotten-topic-of-history-human-emotions
Previous

تاریخ کا ایک فراموش کردہ موضوع: انسانی جذبات

Should-patriotism-be-included-in-the-educational-curriculum-or-not
Next

تعلیمی نصاب میں وطن پرستی کو شامل کرنا چاہیے یا نہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme