Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںموسم

آب و ہوا میں تبدیلی: ایک تہائی اموات کی وجہ شدید گرمی قرار

By Akhtar Rasool
جون 2, 2021 2 Min Read
0

لندن: عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ اب ایک زبان زدِ عام استعارہ بن چکا ہے۔ جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں بڑھتی ہوئی گرمی سے جتنے بھی لوگ فوت ہوئے ہیں ان میں سے 37 فیصد اموات کی وجہ وہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جو انسانی سرگرمیوں سے اب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں

اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی ایک طویل عرصے سے ہیٹ ویوز کی وجہ بن کر انسانی جانوں کا خراج طلب کررہی ہے۔ اگرچہ اس کے اثرات دنیا کے ہربرِاعظم میں دیکھے گئے ہیں لیکن حالیہ تحقیق اس پر مزید روشنی ڈالتی ہے اور اس ضمن میں دنیا بھرمیں حرارت سے اموات کے نقشے بھی بنائے گئے ہیں

لندن اسکول آف ہائیجن اور ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر اینتونیو جیسپرانی اور ان کے ساتھیوں نے یہ تحقیق کی ہے۔ ’آب وہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) کے اثرات اب محض مستقبل کا معاملہ نہیں رہے۔ بلکہ یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور ہم اس کے منفی اثرات دیکھ رہے ہیں۔‘

تحقیق کے مطابق وسطی اور جنوبی افریقی ممالک مثلاً گوئٹے مالا اور کولمبیا، مشرقِ وسطیٰ اور ایران میں 50 فیصد، فلپائن اور جنوب مشرقی ایشیا میں گرمیوں کی شدت کی شرح بہت زیادہ دیکھی گئی ہے۔ تاہم امریکا، کینیڈا اور یورپ وغیرہ میں اس کی شرح بہت کم نوٹ کی گئی ہے

اپنی تحقیق میں سائنسدانوں نے 1991ع سے 2018ع کے درمیان 43 ممالک کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے لیے ایک کمپیوٹر ماڈل بنایا گیا جس میں عالمی حدت میں 1.1 درجے سینٹی گریڈ کے اضافے کو شامل نہیں کیا گیا تھا جو دیگر ماڈلوں میں تجویز کیا گیا تھا۔ اس فرق کو دیکھتے ہوئے گرمی بڑھنے کے واقعات کا حقیقی جائزہ لیا گیا ہے

اس طرح کل 732 مقامات پر گرمی کی لہروں کے واقعات اور اموات کا خطرہ دیکھا گیا۔ مثلاً اگرجوہانس برگ میں گرمی بڑھتی تو ہے تو عین اسی درجہ حرارت سے برلن میں زیادہ اور جوہانس برگ میں کم اموات ہوسکتی ہیں۔ ماہرین نے اس پہلو کو بھی مدِ نظر رکھا

اس تحقیق سے غیروابستہ ایک اور ماہر اور ریڈنگ یونیورسٹ کی کلوای برمیکومب کہتی ہیں کہ یہ تحقیق ماضی کے آئینے سے ہمیں آج رونما ہونے والی گرمی کی لہروں کی خبر دیتی ہیں۔ اگر ماضی میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روکا جاتا تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ جس طرح تحقیق بتاتی ہے کہ ہر سال 9702 افراد کلائمٹ چینج والی گرمی سے مررہے ہیں تو شاید ان کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے تحقیق میں ہر ملک کے چار گرم ترین مہینوں کو ہی شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ دنیا کے کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں سال میں کسی بھی وقت ہیٹ ویو اٹھ سکتی ہیں اور ان میں منطقہ حارہ کے کئی ممالک شامل ہیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دنیا کے 55 فیصد پلاسٹک فضلہ کے لئے بیس کمپنیاں ذمہ دار ہیں

Next

حیدرآباد، چالیس کروڑ کے ترقیاتی کام ایک ہی ٹھیکیدارکے حوالے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme