Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

two-thousand-years-old-lost-city-in-the-amazon-jungle
تاریخاہم ترینتازہ ترینخبریں

ایمازون جنگل میں دو ہزار سال پرانے گم شدہ شہروں کی ’ناقابل یقین‘ وادی دریافت

By Akhtar Rasool
جنوری 14, 2024 3 Min Read
0

ماہرین آثار قدیمہ نے ایمازون کے جنگلات میں وہ گم شدہ شہر دریافت کیے ہیں، جہاں تقریباً دو ہزار سال قبل کم از کم دس ہزار کاشت کار رہا کرتے تھے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریافت کو ’ناقابلِ یقین‘ قرار دیتے ہوئے کہا ”یہ انتہائی پیچیدہ معاشرہ تھا۔“

اسٹیفن روسٹین نے دو دہائیاں قبل پہلی بار ایکواڈور میں مٹی کے ٹیلوں اور دفن شدہ سڑکوں کا سلسلہ دریافت کیا، جس کی تھری ڈی تصاویر بنائی گئیں۔ تاہم انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے کیا دریافت کیا ہے۔

سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے بارے میں رپورٹ کرنے والے محققین میں سے ایک اسٹیفن کا کہنا ہے ”مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ سب ایک ساتھ کیسے فٹ بیٹھتا ہے۔“

لیزر سینسر ٹیکنالوجی میپنگ سے پتا چلتا ہے کہ یہ مقامات بستیوں اور ان سے جڑی سڑکوں کے گنجان نیٹ ورک کا حصہ تھے، جو اینڈیز کے پہاڑی سلسلے کے جنگلات کے دامن میں واقع تھے۔

اینڈیز کا پہاڑی سلسلہ جنوبی امریکہ کے اوپر سے نیچے تک پھیلا ہوا ہے۔ بستیوں اور سڑکوں کا وجود تقریباً ایک ہزار سال تک موجود رہا۔

فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ میں تحقیق کی نگرانی کرنے والے اسٹیفن کہتے ہیں ”یہ شہروں کی وادی ہے، جو گم ہو گئی۔ یہ ناقابل یقین ہے۔“

محققین نے دریافت کیا کہ ان بستیوں میں 500 قبل مسیح سے 300 سے 600 سن عیسوی کے درمیان اپانو لوگ آباد تھے۔ یہ وہ دور ہے، جو یورپ میں رومن سلطنت کا کسی حد تک ہم عصر ہے۔

مٹی کے چھ ہزار سے زیادہ ٹیلوں پر رہائشی اور رسوم کی ادائیگی کے لیے تعمیر کی گئیں عمارتیں کھیتوں اور نکاسیِ آب کے نالوں کے درمیان گھری ہوئی تھیں۔

سب سے بڑی سڑکیں 33 فٹ (10 میٹر) چوڑی تھیں اور چھ سے بارہ میل (دس سے بیس کلومیٹر) تک پھیلی ہوئی تھیں۔

اسی فرانسیسی انسٹیٹیوٹ کے ماہرِ آثارِ قدیمہ اور تحقیق کے شریک مصنف آنتوان دوریسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبادی کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اس جگہ پر کم از کم دس ہزار لوگ رہتے تھے اور شاید اپنے عروج پر پندرہ یا تیس ہزار کے قریب تھے۔

اس کا موازنہ رومن دور کے لندن کی آبادی سے کیا جا سکتا ہے، جو اس وقت برطانیہ کا سب سے بڑا شہر تھا۔

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہرِ آثارِ قدیمہ مائیکل ہیکن برگر، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، کا کہنا ہے ”اس سے انتہائی گنجان آباد اور انتہائی پیچیدہ معاشرہ ظاہر ہوتا ہے۔ جہاں تک اس علاقے کا تعلق ہے تو یہ قدامت کے اعتبار سے واقعی اپنی ہی طرز کا ہے“

یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہرِ آثارِ قدیمہ جوزے ایریارٹے کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور مٹی کے ہزاروں ٹیلوں کی تعمیر کے لیے منظم انداز میں محنت کے وسیع نظام کی ضرورت ہوگی۔

جوزے ایریارٹے کے مطابق ”انکا اور مایا تہذیبوں میں پتھر استعمال کیا گیا لیکن ایمازونیا کے لوگوں کو تعمیرات کے لیے پتھر دستیاب نہیں تھا، اس لیے انہوں نے مٹی کا استعمال کیا۔ اس کے باوجود یہ بہت محنت طلب کام تھا۔“ ایریارٹے تحقیق میں شامل نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا ”ایمازون کے جنگل کے بارے میں اکثر سمجھا جاتا ہے کہ ’وہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے جہاں لوگوں کے محض چھوٹے گروپ رہتے ہیں‘ لیکن حالیہ دریافتوں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس کا ماضی کس قدر زیادہ پیچیدہ تھا“

سائنسدانوں کو حال ہی میں ایمازون میں یورپی باشندوں کی آمد سے قبل برساتی جنگلوں کے پیچیدہ معاشروں کی موجودگی کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ یہ شواہد بولیویا اور برازیل میں پائے گئے۔

اسٹیفن کے مطابق: ”ایمازون میں ہمیشہ لوگوں اور بستیوں کا ناقابلِ یقین تنوع رہا ہے۔ زندگی کا صرف ایک انداز نہیں اپنایا گیا۔ ہم ان کے لوگوں کے بارے میں محض مزید جان رہے ہیں۔“

Tags:

Amazonamazon cityamazon jungleamazon jungle discoveriesamazon jungle factsamazon lost cityamazon rainforestel dorado lost cityfinding the lost city of goldjunglelost amazon citieslost citieslost citylost city in the amazonlost city in the amazon rainforestlost city in the rainforestlost city of zlost tribes of the amazonscientists just discovered a lost city in the amazonthe lost amazon citiesthe lost city of z
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Sindh-Empire-The-Story-of-Sindhu-in-Her-Own-Words-Episode-77-
Previous

سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط77)

If-you-spend-your-childhood-eating-fatty-foods-you-will-spend-your-youth-in-diseases
Next

بچپن چکنائی والی غذائیں کھا کر گزارو گے تو جوانی بیماریوں میں گزرے گی۔۔ تحقیق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme