Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ایمازون کے جنگل میں چالیس دن گزارنے والے بچوں پر کیا بیتی؟

By Akhtar Rasool
جون 13, 2023 5 Min Read
0

کولمبیا میں طیارے کی تباہی کے بعد چالیس دن تک ایمازون کے گھنے جنگلات میں گزار کر زندہ بچ جانے والے چار بہن بھائیوں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بچوں نے اپنی تکالیف کے بارے میں جو کچھ بتایا، ان کے والد، خاندان کے دیگر افراد اور امدادی ٹیموں نے وہ تفصیلات ذرائع ابلاغ کے ساتھ شیئر کی ہیں

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ جنگل میں تنہا رہنے کے بعد مقامی ویتوتو قبیلے سے تعلق رکھنے والے بچوں جن کی عمریں تیرہ، نو، پانچ اور ایک سال ہیں، کو نو مئی کو ریسکیو کر کے طیارے کے ذریعے جنگل سے باہر منتقل کیا گیا تھا اور اب وہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوتا کے فوجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

بچوں کے والد مینوئل ملر رانوک نے اتوار کو ہسپتال کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ یکم مئی کو طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں ان کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئی تھیں اور وہ جنگل میں چار دن تک زندہ رہیں۔ اس دوران بچے انہی کے پاس رہے

رانوک کا کہنا تھا ’ایک بات جو تیرہ سالہ لیسلی نے مجھ پر واضح کی وہ یہ تھی کہ ان کی والدہ چار دن تک زندہ رہی۔‘

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق خاندان نے انکشاف کیا ہے کہ بچوں میں سب سے بڑی تیرہ سالہ لیسلی نے ایمازون کے اس گھنے جنگل میں خود کو اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو چالیس دن تک زندہ رکھنے کے لیے ’بقا کی جنگ‘ لڑی

بچوں کی خالہ دیمارس موکوتوئی نے بتایا کہ کسی بیرونی امداد کے بغیر لیسلی اور نو سالہ سولینی نے زندہ رہنے کے لیے جنگل کے بارے میں اپنی معلومات سے کام لیا

کیراکول نیوز نیٹ ورک سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ لیسلی اور سولینی اکثر ایک کھیل کھیلتی تھیں، جس میں وہ کسی بھی قدرتی آفت سے قبل ’چھوٹے کیمپ‘ بناتی تھیں

لیسلی نے طیارے کے حادثے کے بعد اسی کھیل سے مدد لی اور بالوں میں باندھنے والے ربنز کی مدد سے کیمپ بنائے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو جنگل میں محفوظ رکھا، جہاں تیندوے، شیر اور سانپ پائے جاتے ہیں اور مسلح گروہ بھی اس علاقے کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں

بچوں کو بچانے کے بعد کولمبیا کی فوج کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں ہیئربینڈز کو درختوں کی شاخوں اور زمین پر پڑا دیکھا جا سکتا ہے

لیسلی کی نانی فاطمہ ویلنسیا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کیمپ بنانے کے علاوہ لیسلی کو علم تھا کہ وہ کون سے پھل نہیں کھا سکتی ہیں، کیوں کہ جنگل میں بہت سے زہریلے پھل پائے جاتے ہیں۔ اسے پتہ تھا کہ چھوٹے بچے کی دیکھ بھال کیسی کی جاتی ہے

فاطمہ ویلنسیا نے مزید بتایا کہ لیسلی نے اس تجربے سے فائدہ اٹھایا جو انہیں اس وقت بہن بھائیوں کی دیکھ بھال سے حاصل ہوا جب ان کی والدہ کام پر ہوتی تھیں

خیال کیا جاتا ہے کہ جنگل میں رہنے کے علم، طیارے کے ملبے سے مل جانے والی خوراک اور ویتوتو کے مقامی گروپ میں رہ کر پلنے بڑھنے کی بدولت بچوں کو اتنے طویل عرصے تک زندہ رہنے میں مدد ملی

فاطمہ ویلنسیا نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا ’لیسلی نے بہن بھائیوں کو آٹا، کساوا بریڈ اور اس جھاڑی کا پھل دیا جس کے بارے میں انہیں علم تھا کہ اسے کھانا ہوگا۔‘

کولمبیا کے جنوبی حصے کے علاقے واؤپیس میں، جہاں یہ بچے پلے بڑھے، گوانانو گروپ کے رہنما جان مورینو نے بتایا کہ بچوں کی پرورش ان کی نانی نے کی۔ انہوں نے اس علم سے کام لیا جو انہوں نے برادری میں رہ کر سیکھا اور زندہ رہنے کے لیے اپنا آبائی علم استعمال کیا

بچوں کی تلاش کا کام اس وقت شروع ہوا جب تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے سے ان کی لاشیں نہیں ملیں۔ طیارے کا ملبہ 15 اور 16 مئی کے درمیان ملا تھا

بعد ازاں علاقے کا علم رکھنے والے تقریباً دو سو فوجیوں اور مقامی لوگوں کو جنگل کے تین سو بیس مربع کلو میٹر کے لگ بھگ علاقے میں بچوں کی تلاش کے لیے بھیجا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امدادی کارکن بعض اوقات سو میٹر کی دوری پر بھی پہنچے لیکن طوفانوں، گھنے سبزے اور دلدلی زمین نے انہیں بچوں کے ساتھ رابطے سے روکا

کولمیبا کی فضائیہ نے خوراک کے پیکٹ اور دس ہزار پمفلٹس بھی جنگل میں گرائے تھے، جن میں انہیں حوصلہ اور زندہ رہنے کے لیے مشورے دیے گئے تھے

کولمبیا کے صدر گستاوو پیترو کے ساتھ ہسپتال میں بچوں کی عیادت کرنے والے وزیر دفاع ایوان ولاسکے نے کہا کہ بچوں کی حالت بہتر ہو رہی ہے لیکن ابھی وہ ٹھوس خوراک نہیں کھا سکتے

سب سے چھوٹے دو بچوں جو اب پانچ اور ایک سال کے ہیں، نے اپنی سالگرہ کا دن جنگل میں گزارا، جہاں ان کی بڑی بہن لیسلی نے مشکل وقت میں بہن بھائیوں کی رہنمائی کی

ولاسکے نے کہا ’لیسلی کا شکریہ۔ ان کی ہمت، رہنمائی، دیکھ بھال اور جنگل کے بارے میں معلومات کی بدولت دیگر تین بچوں کی جان بچ گئی۔‘

بچوں کی تلاش کے آپریشن کی قیادت کرنے والے جنرل پیدرو سانچیز نے اس کا سہرا ریسکیو ٹیموں کی کوششوں میں شامل مقامی لوگوں کو دیا

جنرل سانچیز نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بچے ہمیں مل گئے۔ معجزہ ہو گیا، معجزہ ہو گیا، معجرہ ہو گیا!‘

اتوار کو سرکاری نشریاتی چینل آر ٹی وی سی پر انٹرویو میں مقامی ریسکیو ٹیم نے بچوں سے ملنے کے بعد کے لمحات کا ذکر کیا

سرچ اور ریسکیو ٹیم میں شامل نکولس آردونیز گومیز کا کہنا تھا ’بڑی بہن لیسلی جس نے چھوٹی بہن کو ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا، دوڑ کر ہماری طرف آئی۔ لیسلی نے کہا کہ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔ بچوں میں سے ایک زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ اٹھا اور مجھ سے کہا کہ میری والدہ مر چکی ہیں۔‘

آردونیز نے مزید کہا ’ہم فوری طور پر مثبت الفاظ کے ساتھ آگے بڑھے اور ان سے کہا کہ ہم دوست ہیں اور ہمیں ان کے خاندان، والد اور چچا نے بھیجا ہے۔ ہم ان کے خاندان کے لوگ ہیں۔‘

کولمبیا کی فوج کے سربراہ ہیلدر ہیرالدو نے اپنی ٹویٹ کہا ’وہ مقصد جو ناممکن دکھائی دے رہا تھا، حاصل کر لیا گیا۔‘

دوسری جانب صدر پیترو نے کہا ”مقامی اور فوجی علم کے امتزاج کی بدولت کامیابی ملی۔ اس طرح ایک نئے کولمبیا کی جانب ایک مختلف راستہ دکھایا گیا“

Tags:

40 days in the amazon jungle40 days lost in the amazon jungleamazon after plane crashamazon jungleamazon jungle children foundChildrenchildren missing amazon junglecolombia plane crash childrencolombia plane crash missing childrencolombian children junglecolombian children jungle 40 daysfour children survive amazon junglefour young children amazon jungleplane crash in colombiayoung children found alive in amazon jungle
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نو مئی کے واقعات کو ایک ماہ مکمل ہونے پر صورتحال کیا ہے؟ ’وہ ملوث ہے، جسے فائدہ ہوا‘ عمران خان

Next

اغوا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال نے امریکی حکام کو چکرا کے رکھ دیا!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme