Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ایک افغان شہری: عمر 120، پوتے پوتیاں 130 سے زائد!

By Akhtar Rasool
اکتوبر 9, 2022 3 Min Read
0

گذشتہ کئی صدیوں سے دنیا میں اوسط عمر تقریباً 60 سال ہے، جبکہ افغانستان میں جنگوں کی وجہ سے اوسط عمر تقریباً 45 سال تک آ گئی ہے، لیکن پھر بھی یہاں ہر علاقے میں کچھ لوگ طویل عمر پاتے ہیں

جنگ زدہ افغانستان میں زندہ رہنا ہی بڑی بات ہے، سو یہاں طویل عمر پانے یعنی لگ بھگ سوا صدی تک زندہ رہنے کو تو ’جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے‘ کی عملی تصویر ہی کہا جا سکتا ہے

عمر کے سالوں کی تعداد بتاتے وقت کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے زندگی کی ساٹھ یا ستر بہاریں دیکھی ہیں۔ لیکن عمر کے سال گنوانے کے لیے یہی بات اگر کسی افغان شہری کے لیے کہی جائے، تو علامتی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ’اس نے پچاس جنگیں‘ دیکھی ہیں!

سو علامتی انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ ننگرہار کے بہسود کے رہنے والے صلاح محمد اپنی عمر کی ایک سو بیس جنگیں دیکھ چکے ہیں۔۔ جی ہاں، ان کی عمر ایک سو بیس سال ہے!

طویل عمر کے باعث انہیں اپنے بیٹوں کی تعداد تو یاد ہے، بیٹیوں کے حوالے سے انہیں کچھ زیادہ یاد نہیں، تو پوتے پوتیوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

صلاح محمد کے 80 سالہ بیٹے غلام محمد کہتے ہیں ”ہمارے والد کے پوتے اور پوتیوں کی تعداد 130 سے زیادہ ہے“

افغانستان میں جنگوں کی وجہ سے ہر شخص کو اپنے ہی گاؤں کے درجنوں نوجوانوں کی موت یاد ہے، جن میں خود صلاح محمد کے کئی رشتہ دار بھی شامل ہیں

اس لیے گاؤں والوں کے لیے صلاح محمد کی طویل عمر کچھ زیادہ ہی حیرت کا باعث ہے، جس میں افغانوں نے دنیا کی تین بڑی طاقتوں کے خلاف جنگیں لڑیں

صلاح محمد کی دماغی قوت اور حافظہ گذشتہ بیس سالوں سے ٹھیک طور پر کام نہیں کرتا، اس لیے انہیں امریکیوں کے آنے اور جانے کا پتہ ہی نہیں لگا، جبکہ انگریزوں کے خلاف لڑائی پر بھی سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے وہ تبصرہ نہیں کر پاتے

روس کے خلاف لڑائی انہیں اس لیے یاد ہے، کیونکہ تب بھی وہ بوڑھے تو تھے، لیکن کچھ صحت مند تھے۔ تاہم پھر بھی انہوں نے اس پر بس اتنا ہی کہا ”روس نے یہاں (افغانستان) میں شکست کھائی“

وہ کہتے ہیں کہ ان کے بچپن میں حبیب اللہ خان کی بادشاہت تھی، جو 1901ع میں بادشاہ بنے تھے

صلاح محمد کہتے ہیں ”بہت سے بادشاہ میری زندگی میں گزرے ہیں۔۔ مجھے سب یاد نہیں۔ ان میں میرے پسندیدہ ظاہر شاہ تھے۔ جبکہ حبیب اللہ بھی اچھے تھے۔۔“

صلاح محمد کے فرزند غلام محمد کہتے ہیں ”ہمارے والد پندرہ بیس سال پہلے تک ہمیں اکثر پرانے زمانے کے قصے سنایا کرتے تھے، جن میں بادشاہوں کے قصے بھی شامل ہیں“

صلاح محمد امان اللہ خان کے دور کے آخری اور نادر خان کے مختصر دوروں اور ظاہر شاہ کے ابتدائی دور میں جوان تھے، اس لیے انہیں کچھ قصے، جس پر پرانے دورکی مجالس میں بہت تبصرے ہوا کرتے تھے، یاد ہیں

وہ بتاتے ہیں ”امان اللہ خان نے کچھ عورتوں کو ملک سے باہر بھیج دیا تھا تاکہ وہ وہاں کچھ سیکھ کر آ جائیں اور افغان عورتوں کی خدمت کریں تو ان پر کفر کے فتوے لگ گئے لیکن وہ اچھے آدمی تھے۔۔۔ وہ توغازی تھے وہ کیسے کافر ہو سکتے تھے۔“

سیاست سے ہٹ کر زندگی کے بارے میں صلاح محمد کا کہنا ہے ”ہمارے زمانے میں لوگ بہت غریب تھے، کسی کے پاس اتنا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ لوگ حج کے لیے پیدل جایا کرتے تھے اور ایک خاندان کے لیے ایک ہی کمرہ ہوا کرتا تھا“

انہوں نے بتایا ”امیر لوگ رات کو گیہوں کی روٹی، صبح کو جَو کی روٹی کھایا کرتے تھے جبکہ غریب لوگ تو باجرے کی روٹی کھاتے تھے“

غلام محمد کے مطابق ”میرے والد کھانے میں ساری چیزیں کھاتے ہیں، جس میں انہیں نرم گوشت زیادہ پسند ہے اور پھل بھی شوق سے کھاتے ہیں“

بیٹے نے بتایا ”ہمارے والد اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کے زمانے میں لوگ سادگی پسند کرتے تھے اور ان کے درمیاں محبت اور خلوص زیادہ تھا، سب لوگ اکٹھے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب تو ہر ایک شخص دوسرے سے الگ اور دور ہے بلکہ ہر کسی کا دوست اس کا اپنا موبائل ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ مصروف رہتا ہے“

غلام محمد کہتے ہیں ”اس وقت ہمارے آس پاس کے علاقے میں ان کی عمر کا کوئی بھی نہیں اور جب عید کی نماز کے لیے باہر جاتے ہیں تو یہ بزرگ حضرات ان کے احترام میں ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔

Tags:

120 years oldAfghanistanAged Person
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ٹیکنالوجی میں چین پر امریکی پابندیاں اور سپر کمپیوٹر۔۔ زیادہ گھاٹے میں کون؟

Next

خیمے میں رہنے پر مجبور پشتو لوک گلوکارہ زر سانگہ کے لیے عالمی ایوارڈ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme