Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ببول کی گوند اور سافٹ ڈرنکس کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پریشانی۔۔

By Akhtar Rasool
مئی 2, 2023 3 Min Read
0

سوڈان میں جاری لڑائی کی وجہ سے جہاں دیگر مسائل پیدا ہوئے ہیں، وہیں اشیائے خورونوش کے بین الاقوامی تیار کنندگان کی Gum Arabic یا ببول کی گوند کے حصول کے لیے دوڑیں لگوا دی ہیں

واضح رہے کہ یہ سوڈان کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ مطلوب مصنوعات میں سے ایک ہے اور اسے سوڈے والے مشروبات سے لے کر ٹافیوں اور کاسمیٹکس کی تیاری میں ایک کلیدی جزو کی حثیت حاصل ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں عربک گوند کے نام سے معروف ببول کی گوند کی رسد کا لگ بھگ ستر فی صد سوڈان کے بیچوں بیچ سے گزرنے والے ساحل کے علاقے میں موجود ببول کے درختوں سے آتا ہے۔ افریقی خطے کے اس تیسرے بڑے ملک میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے اس کلیدی عنصر کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے

ببول کی گوند کے برآمد کنندگان اور صنعت کے ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ اس پر انحصار کرنے والی کوکاکولا اور پیپسی سمیت دیگر کمپنیاں سوڈان میں مسلسل عدم تحفظ سے پہلے ہی ہوشیار تھیں اور انہوں نے طویل عرصے سے گوند ذخیرہ کر رکھی ہے۔ یہ ذخیرہ تین سے چھ ماہ کے لیے ہے تاکہ یہ کمپنیاں اس کی فوری کمی کا شکار ہونے سے بچ سکیں

صنعت کے ذرائع نے بتایا کہ مشروبات تیار کرنے والی کمپنیاں اس گوند کے پاؤڈر کو ایک خشک سپرے کی شکل میں استعمال کرتی ہیں۔ اگرچہ کاسمیٹکس اور پرنٹنگ مینوفیکچررز اس گوند کا متبادل بھی استعمال کر سکتے ہیں، لیکن سوڈا ڈرنکس میں اس گوند کا کوئی متبادل نہیں۔ یہ ان مشروبات میں شامل اجزاء کو ایک دوسرے سے یکجا کر کے رکھتی ہے۔ یہ اشیائے خورونوش کی صنعت میں اس کی اہمیت ہی کا مظہر ہے کہ امریکہ نے 1990ع کی دہائی سے سوڈان کے خلاف عائد پابندیوں سے عربک گوند کو مستثنیٰ رکھا ہے

دنیا میں کھانے اور مشروبات تیار کرنے والی کمپنیوں کو عربک گوند فراہم کرنے والی ایک کمپنی کیری گروپ کے پروکیورمنٹ مینیجر رچرڈ فنیگن کے مطابق ”شیلف پر رکھے تیار شدہ سامان پر موجودہ صورتحال کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس بات کا تعین اس تنازعے کی طوالت پر منحصر ہوگا“

رچرڈ فنیگن نے اندازہ لگایا کہ ببول کی گوند کے موجودہ ذخائر پانچ سے چھ مہینوں میں ختم ہو جائیں گے

کیری گروپ کے تخمینے کے مطابق ببول کی گوند کی عالمی پیداوار تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ٹن سالانہ ہے، جس کی مالیت ایک اعشاریہ ایک بلین ڈالر ہے۔ یہ پراڈکٹ زیادہ تر ’گم بیلٹ‘ میں پائی جاتی ہے، جو مشرقی سے مغربی افریقہ تک پانچ سو میل تک پھیلا ہوا ہے، جہاں ایتھوپیا، چاڈ، صومالیہ اور اریٹیریا میں قابل کاشت زمین صحرا سے ملتی ہے

ببول کی گوند سپلائی کرنے والے بارہ درآمد گنندگان اور تقسیم کاروں نے روئٹرز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کھانے پینے کے اجزاء کو یکجا کرنے کے کام آنے والی اس گوند کی تجارت بند ہو گئی ہے۔ امریکہ میں صارفین کو ببول کی گوند کو ایک ہیلتھ سپلیمنٹ کے طور پر فروخت کرنے والی کمپنی گم عربک-یو ایس اے چلانے والے محمد النور کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے سوڈان کے دیہی علاقوں سے اضافی گوند کا حصول فی الحال ممکن نہیں ہے

سوڈانی خانہ بدوش ببول کے درختوں سے عنبر کے رنگ کی گوند اکھٹی کرتے ہیں اور پھر اسے ملک بھر میں بہتر بنانے کے بعد پیک کیا جاتا ہے۔ ’گم سوڈان‘ نامی کمپنی کے مطابق اس گوند کے کاروبار سے ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی وابستہ ہے اور زیادہ مہنگی قسم کی قیمت تقریباً تین ہزار ڈالر فی ٹن ہو سکتی ہے

محمد النور کا کہنا ہے کہ سوڈان سے باہر سے ملنے والی گوند سستی لیکن ناقص معیار کی ہے، اس لیے اعلیٰ معیار کی گوند صرف سوڈان، جنوبی سوڈان اور چاڈ میں ببول کے درختوں میں پائی جاتی ہے

سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں سوانا لائف کمپنی کے جنرل مینیجر فواز اببارو نے کہا کہ ان کے پاس گوند کی خریداری کے آرڈرز ہیں اور وہ ساٹھ سے ستر ٹن گوند برآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن انہیں شک ہے کہ وہ سوڈانی تنازعے کی وجہ سے شاید ہی ایسا کر سکیں گے

ابارو نے کہا ”یہ کھانے پینے کی اشیاء کی خریدو فروخت کے لیے مستحکم وقت نہیں اور یہ کاروبار کے لیے بھی بہتر نہیں۔ فی الحال تمام تجارت رک جائے گی۔‘‘

Tags:

acacia gumdrinksgrocery haul smart and finalguar gum demandguar gum importing countriesguar gum industry in indiaguar gum market in indiagum applicationindian and international food lawsinstant drinksketo at smart and finalketo foods at smart and finalketo questions and answersketo smart and finalprotein drinkssmart and finalsmart and final grocery haulsmart and final haulsmart and final keto dietweight management drinks
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈائنوسارز کے ڈھانچوں میں سرمایہ کاری، ایک انوکھا شوق!

Next

لیونل میسی: سعودی عرب کی سیر اور بارسلونا واپسی کے امکانات

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme