Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بحیرہ جنوبی چین میں گرنے والے امریکی لڑاکا جہاز کو نکالنے میں چین اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟

By Akhtar Rasool
جنوری 28, 2022 4 Min Read
0

بیجنگ – چین اور امریکن نیوی ان دنوں سمندر میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے ایف-35 سی تک پہلے پہنچنے کی انوکھی دوڑ کا حصہ ہیں

یاد رہے کہ دس کروڑ ڈالر کی مالیت کا ایف-35 سی طیارہ بحیرہ جنوبی چین میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس کارل ونسن سے اڑان بھرتے وقت ایک ’حادثے‘ کا شکار ہو گیا تھا

یہ لڑاکا طیار امریکی نیوی کا جدید ترین طیارہ ہے اور اس میں خفیہ آلات نصب ہیں، جو ظاہر ہے امریکا نہیں چاہتا کہ کسی اور کے ہاتھ لگیں، لیکن کیونکہ یہ طیارہ بین الاقوامی پانیوں میں گرا ہے، اس لیے تکنیکی اعتبار سے اسے حاصل کرنے کی دوڑ قواعد کے مطابق ہے

جو بھی اس تک پہلے پہنچے گا، جیت اسی کی ہوگی اور جیتنے کا انعام کیا ہوگا؟

اس انتہائی مہنگے اور جدید لڑاکا طیارے میں چھپے رازوں تک رسائی!

اطلاعات کے مطابق گذشتہ پیر کو جب یہ طیارہ ایک جنگی مشق کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کارل ونسن پر کریش لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا تھا تو اس حادثے میں سات افراد زخمی ہوئے تھے

اس وقت یہ بحیرہ جنوبی چین کی گہرائیوں میں موجود ہے، لیکن اس کو یہاں سے کیسے نکالا جائے گا، یہ تاحال ایک معمہ ہے

امریکی نیوی کی جانب سے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ طیارہ سمندر میں کس جگہ گرا تھا اور اسے وہاں سے نکالنے میں کتنا وقت لگے گا

دوسری جانب چین کا دعویٰ ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے مکمل حصے پر اس کا قبضہ ہے اور چین کی جانب سے گذشتہ کئی سال کے دوران ایسے کئی اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی اجارہ داری ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے

یاد رہے کہ چین نے سنہ 2016ر میں ایک بین الاقوامی ٹریبونل کی جانب سے اپنے خلاف آنے والے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ چین کا بحیرہ جنوبی چین پر قانونی طور پر کوئی حق نہیں

ادہر قومی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی فوج اس طیارے تک پہنچنے کی پوری کوشش کرے گی، جبکہ امدادی کارروائی کے لیے آنے والے امریکی بحری جہاز کو طیارے کی کریش سائٹ تک پہنچنے کے لیے دس دن لگیں گے

دفاعی تجزیہ کار ایبی آسٹن کا کہنا ہے کہ یوں تو بہت دیر ہو جائے گی، کیونکہ طیارے میں نصب بلیک باکس کی بیٹری اس سے پہلے ختم ہو جائے گی اور یوں اسے طیارے تک پہنچنے میں دشواری پیش آنے کا امکان ہوگا

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ انتہائی اہم ہے کہ امریکا اس طیارے کو کامیابی سے سمندر سے نکالے۔ ایف-35 دراصل ایک اڑتے ہوئے کمپیوٹر جیسا ہے۔ اس کے ذریعے آپ دیگر آلات کو بھی لنک کر سکتے ہیں، جسے ایئر فورس کی اصطلاح میں ’سینسرز اور شوٹرز کو لنک کرنا‘ کہا جاتا ہے

ایبی آسٹن بتاتی ہیں کہ چین کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں، اس لیے اگر یہ ان کے ہاتھ لگ جائے تو یہ ان کے لیے انتہائی فائدہ مند ہو گا

وہ کہتی ہیں ”اگر چین ایف 35 کی نیٹ ورکنگ قابلیت تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس پھر طیارہ بردار جہازوں کے فلسفے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا اس واقعے سے انہیں سرد جنگ کی باز گشت سنائی دے رہی، ایبی آسٹن کا کہنا تھا کہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔ یہ کہانی ہوبہو فلم ’دی ہنٹ فار ریڈ کراس اکتوبر‘ اور ’دی ابس‘ جیسی ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ایک ڈرامے جیسا ہے

واضح رہے کہ ایف-35 سی کئی لحاظ سے بہت ہی خاص ہے. اس طیارے میں نیٹ ورک سے چلنے والا مشن سسٹم ہے، جو دوران پرواز جمع کی جانے والی معلومات کو اسی وقت میں شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے

امریکی بحریہ کا پہلا ’کم قابل مشاہدہ‘ کیریئر پر مبنی ہوائی جہاز، جو اسے دشمن کی فضائی حدود میں بغیر پتا چلے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔
اس طیارے کے بڑے پر اور طاقتور لینڈنگ گیئر اسے بحری بیڑے سے تیز اور فوری پرواز کرنے میں مدد دیتے ہیں

اس کے علاوہ اس طیارے میں دنیا کا سب سے طاقتور لڑاکا انجن ہے اور یہ بارہ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نشانہ بنا سکتا ہے

یہ جہاز اپنے پنکھوں پر دو جبکہ اپنے اندر چار میزائل رکھنے کی صلاحیت کا بھی حامل ہے

امریکا کے جوائنٹ چیفس چیئرمین کی سابق مشیر اور نیٹو اور یورپی یونین کی سابق سینئر سفارت کار ایبی آسٹن کہتی ہیں کہ ان کا ماننا ہے کہ چین کی جانب سے اس جہاز پر حقوق کے دعوے کی کوشش کرنا، امریکا کو ’دباؤ میں ڈال کر آزمانے کی کوشش‘ ہے

ٹرومین پروجیکٹ میں چینی امور کے تجزیہ کار برائس باروس کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین یہ طیارہ حاصل کرنا چاہتا ہے، حالانکہ سائبر جاسوسی کا مطلب ہو سکتا ہے کہ انہیں اس کے اندرونی ڈھانچے اور کام کے بارے میں پہلے سے ہی کچھ علم ہوں

وہ کہتے ہیں ”میرے خیال میں وہ طیارے کے اصل حصوں کو دیکھنا چاہیں گے، تاکہ بہتر طریقے سے یہ سمجھ سکیں کہ یہ کیسے بنایا گیا اور اس میں کیا کمزوریاں ہیں۔“

امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا ہے کہ یو ایس ایس کارل ونسن پر حادثے کا شکار ہونے والے ایف 35 سی طیارے کو نکالنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پب جی: بیٹے نے ماں اور تین بہن بھائیوں کو یہ سوچ کر مارا کہ وہ زندہ ہوجائیں گے، پولیس

Next

بلیک سپاٹکس اور سینٹ ڈومینگو کا آزادی پسند سیاہ فام باغی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme