Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںفن

برطانوی مصور نے اپنی ایک ہزار پینٹنگز جلادیں، مزید تین ہزار نذرِ آتش کریں گے

By Akhtar Rasool
اکتوبر 13, 2022 3 Min Read
0

برطانوی مصور نے مکمل ہوش و حواس میں اپنی ایک ہزار سے زائد پینٹنگ جلا دی ہیں اور اب مہینے کے آخر تک وہ اپنی بنائی ہوئی مزید تین ہزار تصاویر نذرِ آتش کریں گے

گزشتہ ہفتے 57 سالہ ڈیمین ہرسٹ کی آرٹ گیلری سے دھواں خارج ہو رہا تھا، کیونکہ انہوں نے بہت تیزی سے رنگین دائروں والی اپنی پینٹنگ نذر آتش کیں اور جب تک ایک ہزار تصاویر راکھ نہیں ہو گئیں، انہوں نے ہاتھ نہیں روکا ۔ اب وہ مزید تصاویر جلائیں گے، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے

اس سارے منظر کو کیمرہ مین نے رکارڈ کیا اور چھ آتش دانوں میں جلنے والی تصاویر کی آن لائن اسٹریم جاری تھی۔ اسے انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر کیا گیا تھا

ڈیمین نے چھ برس قبل ’دی کرنسی‘ نام کا ایک مصورانہ منصوبہ شروع کیا تھا، جس میں اس نے رنگ برنگی گول نقاط والی دس ہزار تصاویر بنائی تھیں۔ اب وہ چاہتے تھے کہ تمام شاہکار ایک مقام پر محفوظ رکھے جائیں اور سب کی ’این ایف ٹی‘ (نان فنجبل ٹوکن) بنائی جائے

تاہم بعد میں انہوں نے اپنے صارفین سے کہا کہ آیا وہ حقیقی پینٹنگ کے ڈجیٹل ٹوکن چاہتے ہیں یا پھر وہ اسے آگ میں جلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جواب میں 4851 صارفین نے کہا کہ پینٹنگ جلادی جائیں اور اس منگل کو انہوں نے اپنی اولین سینکڑوں تصاویر جلائی ہیں

یعنی خریدار یا تو نان فنجبل ٹوکن رکھ سکتے ہیں، جس صورت میں پینٹنگ جل جائے گی، یا پینٹنگ رکھ سکتے ہیں، ایسی صورت میں وہ NFT سے محروم ہو جائیں گے

ڈیمین نے کہا ”یہ کوئی جوا نہیں اور نہ ہی بے عقلی ہے کیونکہ آج کے دور میں آرٹ حقیقی ہو یا پھر ڈجیٹل، اس کی قدروقیمت برقرار رہتی ہے۔ اس طرح کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ جلانے کے بعد انہیں ڈجیٹل این ایف ٹی پر منتقل کردیا جائے، جنہیں بعد میں فروخت کیا جا سکے گا“

انہوں نے کہا ”بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ میں لاکھوں ڈالر کا آرٹ جلا رہا ہوں لیکن میں ایسا نہیں ہوں، میں فزیکل ورژنز کو جلا کر ان فزیکل آرٹ ورکس کو nfts میں تبدیل کر رہا ہوں“

2016ع سے شروع کی جانے والی ہزاروں تصاویر میں سے ہر ایک پر ڈیمین کے دستخط موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی جیسی ہونے کے باوجود ان کی کوئی دو تصاویر یساں نہیں اور ہر ایک کے ٹوکن کی قیمت دو ہزار ڈالر رکھی گئی ہے

اب تک ان کی ایک این ایف ٹی کی قیمت پونے دو لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ جلنے کے بعد این ایف ٹی کی قیمت دس گنا زائد تک بھی ہوسکتی ہے جبکہ ڈیمین اب مزید ہزاروں پینٹنگ جلانے کا ارادہ رکھتے ہیں

انسٹاگرام پر براہ راست ڈیمین ہرسٹ کی طرف سے اپنی پینٹنگز جلانے کے اقدام پر بہت سے لوگوں نے تبصرہ کیا اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کسی بھی طرح سے پیسے کمانے کے ایک حربے کے علاوہ کچھ بھی نہیں

این ایف ٹی کیا ہے؟

این ایف ٹی دراصل ”نان فنجیبل ٹوکن“ کا مختصر نام ہے۔ فنجیبل معاشیات کی زبان میں ایسے اثاثے کو کہتے ہیں، جس کے کسی ایک حصے کو یا اسے مکمل طور پر کسی اور چیز سے بدلا جا سکے، یعنی جو قابلِ تبادلہ یا قابلِ تقسیم ہو اور اس کے بدلے اسی قیمت کے برابر کچھ حاصل کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر سو روپے کے نوٹ کے بدلے ہم دو پچاس روپے کے نوٹ یا پانچ بیس روپے کے نوٹ تبدیل کروا سکتے ہیں۔ بٹ کوائن بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ایک کوائن کے بدلے ہم اس کی مالیت کے پیسے یا کوئی اور کرنسی حاصل کر سکتے ہیں

البتہ”نان فنجیبل“ وہ چیز کہلاتی ہے، جو منفرد ہو اور جسے کسی اور چیز سے تبدیل کرنا ممکن نہ ہو۔ اس اعتبار سے ”نان فنجیبل ٹوکن“ یعنی این ایف ٹی کی اصطلاح ایسے ڈجیٹل اثاثوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو صرف اور صرف آپ کی ملکیت ہوں۔ ایک این ایف ٹی کوئی وڈیو بھی ہو سکتا ہے اور اور کوئی موسیقی بھی۔ کسی وڈیو گیم کا کوئی حصہ بھی اور کوئی اینیمیٹڈ تصویر یا کردار بھی یا محض کوئی تصویر بھی.. آپ اپنی تیار کردہ یا اپنی ملکیتی ڈجیٹل چیزوں کا این ایف ٹی یا ڈجیٹل سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں، جس سے آپ اس کا حقِ ملکیت حاصل کرتے ہیں۔ آپ پھر اس این ایف ٹی کو آن لائن فروخت بھی کر سکتے ہیں اور اسی طرح دوسروں کے ملکیتی این ایف ٹی خرید بھی سکتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں:

Latest

Tags:

British artistNFTpaintings
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آرمی چیف بارے اعتزاز کا بیان: پیپلز پارٹی کا اظہار لاتعلقی۔ ’میں بیان پر قائم ہوں‘ اعتزاز

Next

جیل میں تعلیم: قتل کیس میں قید کے دوران تعلیم حاصل کرکے وکیل بننے والے ایاز کیا کہتے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme