Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

بعض آتش فشاں ہر وقت لاوا کیوں اگلتے رہتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
نومبر 17, 2023 4 Min Read
0

عام طور پر آتش فشاں پھٹنے کی خبریں تب ہی شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کرتی ہیں، جب ایٹنا، کیلاویا، ماؤنٹ لو، میراپی، ایافیا تلایا کیتل، فاگرا دا اوسلیاک جیسے بڑے آتش فشاں پھٹ پڑتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں آتش فشاں پھٹںے کے پچاس سے اَسی واقعات رونما ہو سکتے ہیں

اسمتھ سونین انسٹیٹیوٹ کے گلوبل آتش فشاں پروگرام کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں 2023 کے پہلے چھ مہینوں میں آتش فشاں پھٹنے کے چھپن واقعات پیش آئے۔ نومبر 2023 میں زمین کی تہہ کے نیچے میگما کی منتقلی نے آئس لینڈ کے شہر گرنداوک کے ارد گرد سینکڑوں زلزلوں کو جنم دیا، جنہیں آتش فشاں کے پھٹنے کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جا رہا ہے

اٹلی کا ماؤنٹ ایٹنا، دنیا کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاؤں میں سے ایک ہے اور یہ بڑے پیمانے پر عوامی تشویش کا باعث بھی ہے۔ اس میں سے ایک سال قبل ہی لاوا بہنا شروع ہوا ہے

ماؤنٹ ایٹنا یورپ کا سب سے زیادہ فعال اور دنیا کے سب سے بڑے آتش فشاؤں میں سے ایک ہے۔ اس کی ریکارڈ شدہ سرگرمیاں 1500 قبل مسیح کی ہیں۔ تب سے اب تک یہ دو سو سے زیادہ مرتبہ پھٹ چکا ہے۔ حال ہی میں ایٹنا کے پھٹنے کی وجہ سے قریبی کیٹینیا ہوائی اڈے پر پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ سڑکوں پر راکھ کی زیادہ مقدار کے باعث کاروں اور موٹر سائیکلوں کے استعمال پر بھی اڑتالیس گھنٹوں کے لیے پابندی عائد کر دی گئی۔ کیونکہ راکھ سے پھسلن ہو سکتی ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

طویل مدتی آتش فشاؤں کی طویل مدتی سرگرمیوں کے لیے جزیرہ ہوائی پر واقع کیلاویا سب سے مشہور آتش فشاؤں میں سے ایک ہے۔ یہ آتش فشاں 1983ع کے بعد سے مسلسل تقریباً پینتیس سال یعنی 2018ع تک فعال رہا اور کچھ وقفے کے بعد یہ 2021ع میں دوبارہ پھٹ پڑا اور یہ عمل اب بھی جاری ہے

انڈونیشیا میں ڈوکونو آتش فشاں اگست 1933 میں پھٹنا شروع ہوا اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ گوئٹے مالا میں سانتا ماریا جون 1922 میں پھٹنا شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اور وانواتو میں یاسور پہلی بار تقریباً 1270 میں راکھ اگلنا شروع ہوا اور 9 جون 2023 تک بھی یہ عمل جاری تھا

 آتش فشاں کیا ہے؟

آتش فشاں کے بارے میں امریکی جیولوجیکل سروے کی جانب سے پیش کی تعریف کے خلاصے کے مطابق ”آتش فشاں وہ کھلی جگہیں یا ایسے سوراخ ہوتے ہیں، جہاں سے لاوا، ٹیفرا (چھوٹی چٹانیں) اور بھاپ زمین کی سطح پر پھیل جاتا ہے۔“ آتش فشاں زمین اور سمندر دونوں میں ہو سکتے ہیں۔ یہ جزوی طور پر ان کے اپنے ہی پھٹنے کا نتیجہ ہوتے ہیں بلکہ یہ ہمارے سیارے کی عمومی تشکیل میں بھی شامل ہیں

پہاڑی سلسلے، جیسے جنوبی امریکہ میں اینڈیز اور شمالی امریکہ میں راکیز، نیز آتش فشاں، ٹیکٹونک پلیٹوں کی نقل و حرکت اور تصادم سے بنتے ہیں

آتش فشاں کی چار اہم قسمیں ہیں: سنڈر کونز، کمپوزٹ یا اسٹریٹو وولکینوز، شیلڈ آتش فشاں اور لاوا ڈومز۔ ان کی قسم کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ پھٹنے کے بعد لاوا کیسے بہتا ہے اور یہ بہاؤ آتش فشاں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ ارد گرد کے ماحول کو کیسے متاثر کرتا ہے

رہا یہ سوال آتش فشاں کیسے پھٹتے ہیں؟ تو بنیادی طور پر یہ زمین کی سطح کے نیچے میگما، یا پگھلی ہوئی چٹانوں کی شکل میں نکلنے والا انتہائی گرم سیال مادہ ہے، یہ چولہے پر رکھے برتن سے دودھ کی طرح ابل کر بہتا رہتا ہے۔ میگما آتش فشاں میں نکلنے کا راستہ تلاش کرتا ہے اور زمین اور فضا میں پھیل جاتا ہے۔ جب آتش فشاں سے میگما پھٹتا ہے تو اسے لاوا کہتے ہیں

کچھ انتہائی فعال آتش فشاں پیسیفک رنگ آف فائر میں واقع ہیں، جس میں نیوزی لینڈ، جنوب مشرقی ایشیا، جاپان اور امریکہ کے مغربی ساحل شامل ہیں۔ دنیا بھر میں آنے والے زلزلوں میں سے تقریباً 90 فیصد اس خطے میں آتے ہیں

اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا سائنسدان آتش فشاں پھٹنے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں؟
سائنسدان آتش فشاں پھٹنے کی پیش گوئی چند گھنٹے، یا بعض اوقات کئی دن پہلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ زلزلوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے، جن کی پیش گوئی کرنا زیادہ مشکل ہے۔سائنسدان زلزلوں اور دیگر زمینی جھٹکوں کا سیسموگرافک ڈیٹا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ یہ آتش فشاں پھٹنے کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں

وہ زمین کی ساخت میں ان تبدیلیوں کی نگرانی کرتے ہیں، جو میگما کی حرکت کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ وہ آتش فشاں سے گیسوں کے اخراج، اور کشش ثقل اور مقناطیسی میدانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

Tags:

active volcanoescan volcanoes cool the earthhawaii volcanokilauea volcanoLavalava flowlava mauna loa volcanomauna loa volcanomauna loa volcano lavarevisiting the 2018 kilauea volcano eruptionVolcanoVolcano Eruptionvolcano eruption caught on tapevolcano eruptionsvolcano hot lava dogsvolcano lavavolcano lava dogsVolcanoesvolcanoes around the worldwhy do some volcanoes erupt so strongwhy do volcanoes eruptyellowstone volcano
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا موبائل فون کی ’مہینے میں ایک مرتبہ چارجنگ‘ کا خواب پورا ہونے والا ہے؟

Next

الٹے قدموں چلنے کی تاریخ اور اس کے حیران کن جسمانی اور ذہنی فوائد

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme