Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Sense-of-responsibility-in-children.
کالماہم ترینتازہ ترین

بچوں میں احساس ذمہ داری

By Akhtar Rasool
ستمبر 16, 2024 4 Min Read
0

ہم زندگی کے بہت سے معاملات میں مغربی ممالک کی طرف دیکھنے کے عادی ہیں جو کہ بعض اوقات اتنا غلط بھی نہیں۔ بات اگر بچوں کی تربیت اور نشو و نما کی کی جائے تو یہاں ایک واضح فرق خاندانی اور معاشرتی نظام کا آ جاتا ہے۔

مغرب میں خاندانی نظام کی بُنَت زرا اور طرح سے ہے اور ہمارے ہاں اس سے کچھ مختلف۔۔ ایسے میں جب بڑھتی عمر کے بچوں کے رویوں اور ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی بہت سے مسائل سامنے آ رہے ہیں، خاندانی نظام اور طرز معاشرت کے حوالے سے ہم مِن و عَن مغرب یا ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ نہیں کر سکتے کہ ہم ہمارا مشرقی خاندانی نظام جوائنٹ فیملی سسٹم پہ زیادہ چل رہا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ موازنہ کرتے ہوئے ضرور دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم بالکل ویسے اطوار نہیں اپنا سکتے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ طور طریقے یہاں ’برائی‘ اور عیب قرار پاتے ہیں لیکن عملاً کیا ہو رہا ہے۔

ہم آزادی اور تبدیلی تو مغرب کی قبول کر رہے ہیں لیکن اس کے بدلے میں ان کا دوسرا پہلو ذمہ داریاں اور اس معاملے کی مکمل تصویر نہیں دیکھ رہے۔ جیسے ہمارے ہاں خاندانی نظام اور خاندانی رکھ رکھاﺅ کے تحت افراد کم از کم اپنے اہلِ خانہ یا بچوں کے حوالے سے ضرور ذمہ داری اٹھاتے ہیں جب کہ مغرب میں بچوں کو اگر آزادی دی جاتی ہے تو اپنے کام خود کرنے کی تربیت بھی کی جاتی ہے اور جیسے ہی وہ 18 سال کے ہوتے ہیں گویا ایک نئی اور خود مختار زندگی میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں۔ اب انہیں اپنے لیے خود کمانا ہوتا ہے۔

قانونی اور سماجی طور پر وہ صرف اٹھارہ سال سے کم عمری ہی میں اپنے والدین پر انحصار کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے والدین اس کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ وہ کیا کھائیں گے اور کیا پہنیں گے یا اپنے اخراجات کہاں سے پورے کریں گے، نیز بے روزگاری یا زندگی کے کسی بھی نشیب و فراز کی صورت میں بھی یہ ذمہ کسی اور پر عائد نہیں ہوتا۔ یہ ضرور ہے کہ وہ فلاحی ریاست ہے تو اپنے شہریوں کو کسی کٹھنائی میں تنہا نہیں چھوڑتی۔ کہیں نہ کہیں انہیں ریاستی قوانین سہارا دیتے ہیں اور وہ زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ہمارے بچے یا ہم سب بچوں کی آزادی کے حوالے سے مغرب کی مثال دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں تو بچوں کی شادی ہونے تک وہ والدین ہی کے ساتھ رہتے ہیں اور بہت سی صورتوں میں اپنے والدین کے گھر ہی نہیں، زندگی کی ضروریات کے لیے بھی پورے حق سے ان پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ امر ان کے اندر غیر ذمہ داری اور مستقبل کے حوالے سے ناپختہ کاری کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اگرچہ انہیں ضرور والدین کے ساتھ رہنا چاہیے، یہی ریتی رواج ہے لیکن اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا چاہیے۔ اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی ایسی فکر پروان چڑھانی چاہیے کہ وہ اٹھارہ سال تک پہنچنے سے پہلے ہی کچھ نہ کچھ آمدنی پیدا کرنے کے لائق ضرور ہو جائیں، تا کہ انہیں دنیا میں زندگی گزارنے کے اصول وضوابط معلوم ہوں۔

ہمارے بچے اگر ذمہ داری قبول کرنے کے قابل نہیں ہوئے یا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو اس میں والدین کے رویے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اول تو بہت زیادہ لاڈ پیار کے باعث والدین یہ طے نہیں کر پاتے کہ کہاں انہیں اپنے بچے کی انگلی چھوڑ کر اسے اپنے پاﺅں پر چلنا سکھانا ہے۔ کہاں اس سے کوئی کام کروا کر دور سے نگرانی کرنی ہے۔ کب اسے کیا ذمہ داری دینی ہے؟ کہاں اسے کوئی بھی کام خود کرنے کی ترغیب دینی ہے اور کہاں اور کیسے اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی سلیقے سے نشان دہی کر کے اس کی اصلاح کرنی ہے۔ والدین کے لیے بچے تو ٹین ایج کے بعد تک ویسے ہی بچے رہتے ہیں لیکن انہیں ذرا اپنے لاڈ پیار سے ہٹ کر اس کے مستقبل کو سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ اس کے لیے کتنا سود مند ہے؟

کسی کے بھی والدین کو تاعمر اپنے بچوں کے ساتھ نہیں رہنا ہوتا۔ اس لیے والدین کو یہ احساس رکھنا چاہیے کہ بچے کو اکیلے اسکول، کالج یا مزید کسی کام سے جانا چاہیے۔ گھر کے کچھ کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ زندگی کی چھوٹی موٹی ذمہ داریاں اور اس سے بھی پہلے کچھ اپنے کام کرنے کا عادی ہونا چاہیے تا کہ اسے کوئی ٹھوکر لگے تو اس کے سر پر والدین اسے سنبھالنے کے لیے موجود ہوں۔ کل کو اگر اسے ایک دم اس منہ زور زمانے کی تند و تیز ہواﺅں کے سامنے کھڑا ہونا پڑا تو کیا ہوگا؟ کہیں اس کی زندگی اتھل پتھل کا شکار ہو کر اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کر زندگی بھر کے لیے متاثر تو نہیں کر دے گی؟ کہیں اسے کسی غیر معمولی حالات میں گرفتار تو نہیں ہونا پڑے گا؟

ہمارے والدین کو یہ باتیں ہر لمحہ ذہن میں رکھنی چاہییں اور محبت اور لاڈ کے ساتھ آنے والے وقت کے حقائق کے مطابق دھیرے دھیرے بچے کو اپنی ذمہ داری خود اٹھانے کی طرف راغب کرنا چاہیے تا کہ اس کی اصلاح ہو، اس کے اندر ہمت پیدا ہو اور اسے اندازہ ہو کہ دوسروں سے کیسے معاملات طے کرتے ہیں۔ کسی کی برہمی یا شکایت پر کیسے رد عمل دیتے ہیں۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے درست راہ کیا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہمیں یقین ہے اگر والدین شروع ہی سے بچوں کی ضدوں اور غیر ذمہ داری پر اپنا مثبت کردار ادا کریں گے تو انہیں آنے والے دنوں میں غیر ذمہ داری کی شکایات نہیں ہوگی۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

6 ways to develop a sense of responsibility in childrenChildrenchildren's sense of responsibilitycultivate a sense of responsibility in childrendevelop a sense of responsibility in childrenencourage a sense of responsibility in your childrenhow to develop a sense of responsibility in children?how to inculcating a sense of responsibility in kidsinculcating a sense of responsibility in kidsresponsibilitysense of responsibility
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Gorillas-amazing-self-healing-tips-can-be-used-to-make-human-medicine-too
Previous

اپنا علاج کرنے کے لیے گوریلاؤں کے حیرت انگیز ٹوٹکے انسانوں کی ادویات بنانے میں بھی کام آ سکتے ہیں!

The-Thar-Desert-of-Sindh-the-harbinger-of-rain-and-the-echo-of-folk-songs
Next

سندھ کا صحرائے تھر: بارش کی نوید، زندگی کا ساز، اور لوک گیتوں کی گونج

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme