Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

بچوں میں غصہ اور چڑچڑاپن

By Akhtar Rasool
ستمبر 7, 2023 4 Min Read
0

انسانی جذبات کی مختلف اقسام میں سے غصہ بھی ایک اہم قسم ہے۔ یوں تو ہر وقت غصے میں رہنے والے انسان کو دوسرے لوگ پسند نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی انسان ہمیشہ غصے کی حالت میں رہنا چاہتا ہے لیکن پھر بھی یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور چار و ناچار انسان کو غصہ آ ہی جاتا ہے۔

غصہ اور چڑچڑاپن صرف بالغ انسانوں تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بچوں کے غصے اور چڑچڑے پن کی طرف عموماً لوگ خاص توجہ نہیں دیتے، جس کی وجہ سے معاملات بگڑ جاتے ہیں اور بچوں کی شخصیت پر ایک ہمیشہ رہنے والا برا اثر قائم ہوجاتا ہے۔ بچوں کے غصے اور چڑچڑے پن کے مختلف اسباب میں سے چند درجِ ذیل ہیں۔

تمام عوامل میں سے اول پر آتا ہے والدین کا کردار۔ بچوں کی شخصیت سازی اور جذباتی اتار چڑھاؤ میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین کی طرف سے بچوں کی تربیت میں کسی بھی قسم کی کمی رہ جائے تو اس چیز کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے کہ بچوں میں غصہ یا چرچڑا پن آجائے۔ مثال کے طور پر جن بچوں کو والدین کی طرف سے بے جا ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان بچوں میں چڑچڑا پن پیدا ہونے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور غلطی جو والدین عمومی طور پر کرتے ہیں، وہ بچے کی ہر ضد کو پوری کرنا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب والدین بچوں کی ضد پوری کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لیکن چونکہ بچے کو اس بات کی عادت ہوگئی تھی اور اب اچانک سے والدین کے منع کرنے پر اس کے اندر چڑچڑاپن پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

والدین کے آپس کے معاملات بھی اس حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ والدین جو ہر وقت آپس میں بچوں کے سامنے لڑتے رہتے ہیں، ان کے بچوں میں غصہ اور چڑچڑے پن کے جذبات تیزی سے پروان چڑھتے ہیں۔

بچوں کے اندر ان جذبات کے پیدا ہونے کی دوسری بڑی وجہ ان کے آس پاس کا ماحول ہے۔ بچوں کے اساتذہ، رشتے دار اور پڑوس کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ اگر بچوں کو ان افراد کی طرف سے کسی بھی قسم کے منفی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ عین ممکن ہے کہ بچے کے اندر غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہونا شروع ہوجائے۔ مثلاً بچوں کے کاموں میں بے جا مداخلت، کسی غلطی پر مذاق اڑانا، بات بات پر طعنے دینا، یا پھر بچوں پر ہاتھ اٹھانا وغیرہ شامل ہیں۔

مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کر کے بچوں کے اندر سے ان منفی جذبات کو ختم کیا جاسکتا ہے:

سب سے پہلے تو والدین اور بڑوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرلیں کہ غصہ ایک ایسا جذبہ ہے، جو بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ جب اس چیز کا ادراک ہوجائے گا تو علاج میں بھی آسانی ہوگی۔

والدین کے آپس میں چاہے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں انہیں اپنی جنگ بچوں کے سامنے نہیں لڑنی چاہیے کہ اس سے بچوں کے اندر انتہائی منفی جذبات جنم لیتے ہیں، جو زندگی بھر ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی تھوڑی دیر کی لڑائی یا انا کی جیت آپ کے بچوں کی زندگی بھر کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرے؟ ہرگز نہیں۔ تو آج سے احتیاط کیجیے۔

دوسری بات یہ کہ اپنے مزاج میں اور بچوں کی تربیت میں میانہ روی کو خاص جگہ دیجئے۔ مثلا آپ کچھ اپنی منوائیں اور کچھ ان کی مانیں۔ شروع سے یہ اصول اپنا لیجئے کہ بچے کی ہر جائز خواہش کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں لیکن کسی بھی قسم کی ناجائز ضد کو نرمی اور سمجھداری کے ساتھ رد کر دیں۔

تیسری بات اس ضمن میں بچوں کے اردگرد کے ماحول اور ان کے مزاج پر نظر رکھنا ہے۔ آپ وقتاً فوقتاً بچوں کے اساتذہ اور ان کے دوستوں سے ملاقات کرتے رہیں اور اپنے بچے کی عادات پر بھی خاص نظر رکھیں کہ کہیں اس کی کسی عادت میں بہت تیزی سے کوئی تبدیلی رونما تو نہیں ہورہی؟ اگر ایسا ہے تو پیار و محبت کے ساتھ دوستوں کی طرح بیٹھ کر بچے سے اس چیز کو ڈسکس کریں۔

یاد رکھیے کہ عمر کے ابتدائی برسوں میں والدین اور بڑوں کی اچھی تربیت ہی بچوں کی آئندہ زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

adhd and angeradhd and anger issuesadhd and anger managementangeranger and emotionsanger and frustrationanger managementautism in childrenbipolar disorder in children (disease or medical condition)buddhism in englishchildhood irritabilitycontrol angereffect of the loss of a friend in childrenfeelings of anger and irritabilityhow to control angerirritability (symptom)irritability in childrenmood swings in children
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط47)

Next

واٹس ایپ پر ایچ ڈی فوٹوز اور وڈیوز بھیجنا ممکن

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme