Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

بچوں کی انا کو قتل ہونے سے بچائیں

By Akhtar Rasool
مارچ 9, 2023 4 Min Read
0

ایک استاد اپنے ہی ادارے میں پڑھنے پر کسی طالب علم کو طعنہ دے سکتا ہے؟ ایسا میرے ساتھ ہوا اور مجھے ایک دم پندرث سال پیچھے واپس لے گیا۔۔

ہوا کیا، پہلے واقعہ پڑھ لیجیے!

ہمارے ادارے کی چند طالبات پریشان ہو کر میرے پاس آئیں کہ میڈم فلاں ٹیچر ہمیں سرکاری کالج میں داخلے کے طعنے دیتی ہیں

میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ کوئی ٹیچر کیسے کسی طالب علم کو اسی ادارے میں داخلے کا طعنہ دے سکتی ہے، جس میں خود ملازم ہے؟

طعنے کی نوعیت بھی میرے لیے پریشان کن تھی کہ اگر کوئی استاد کسی طالب علم کو کم نمبر حاصل کرنے پر یا کم میرٹ کے باعث سرکاری کالج میں داخلے پر کوئی طنز کرے تو اس میں میرے جیسے مثبت پہلو تلاشنے والے لوگ اصلاح کا کوئی عنصر نکال ہی لائیں شاید۔۔

یہاں معاملہ الٹ تھا، طنز ان کی غربت پر تھا اور یقیناً طلبہ کا اس بات پر برا محسوس کرنا بھی بنتا تھا

میرے سامنے جب یہ بات لائی گئی تو میں شرمندگی کے گڑھے میں گڑ گئی۔ ایک بار تو ایسے لگا کہ میں اپنے کالج کے زمانے میں پہنچ گئی ہوں اور یہ بے عزتی میری ہوئی ہے

نہ چاہتے ہوئے بھی میں آب دیدہ ہو گئی اور ان بچوں سے معذرت کرنے لگی کہ ایک استاد کی وجہ سے ان کی دل شکنی ہوئی، لیکن ایک یہ واقعہ مجھے میرے اساتذہ اور بہت سے ان ساتھیوں کی یاد دلا گیا، جو غربت کی چکی میں پستے طلبا و طالبات کی مالی و اخلاقی مدد میں پیش پیش رہتے تھے اور ابھی بھی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں

وہ اساتذہ، جو میرے جیسے طالب علموں کی فیس ادا کرتے تھے اور پلٹ کر یہ تک نہیں جتاتے تھے کہ تم جو اس قدر ہواؤں میں ہو، احسان تو ہمارا ہے کہ اس ادارے میں موجود ہو

وہ ٹیچرز بھی میں جانتی ہوں، جو ایکسٹرا کوچنگ کلاسز بغیر کسی فیس کے پڑھایا کرتے تھے اور بدلے میں صرف اچھے رزلٹ کی خواہش رکھتے تھے

ایسے اساتذہ بھی میرے آس پاس موجود ہیں، جو اپنے بچوں کے علاوہ کسی پرائے بچے کی فیسیں اور دیگر اخراجات ادا کرتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دیتے

صاحب حیثیت لوگ بھی بسا اوقات فوٹو سیشن کے بغیر بہت سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں لیکن اپنے نام کے بینر نہیں لگواتے اور نہ ہی دوسروں کی فیسیں دینے والے کسی کو یہ جتاتے ہیں کہ تم کم فیس والے ادارے میں اس لیے زیر تعلیم ہو کہ یونیورسٹیوں کے خرچے تمہارے ماں باپ نہیں اٹھا پاتے

تھوڑی دیر کو سوچیے! آپ ان اسٹوڈنٹس کی جگہ ہوں اور کوئی آپ سے ایسی بات کہہ دے تو کیا آپ اپنی خود اعتمادی اور سر اٹھا کر چلنے کا مان ٹوٹتا ہوا محسوس نہیں کریں گے؟

خدا نے آپ کو جس درجے پر فائز کیا ہے، وہاں آپ ان کی اخلاقی تربیت کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ آپ خود اس طرح کی احساس برتری کا شکار ہوں!

ہمارا واسطہ تو ایسے اساتذہ سے رہا ہے، جو ہماری فیسیں ادا کرتے تھے اور ہم شرمندہ ہو کر پوچھتے کہ ہم آپ کے کس کام آ سکتے ہیں، تو ان کا جواب ہوتا: ’میرے کام آئیں یا نہ آئیں بس زندگی میں جب کسی قابل ہو جاؤ تو اپنے جیسے طالب علموں کا راستہ آسان کرنا‘

اگر وہ ہمیں جھڑک کر گھر بھیج دیتے تو ہم کیا سیکھتے اور آج کیا ہوتے۔۔ نفرت سے نفرت ہی جنم لیتی ہے، خود غرضی سے خود غرض نسلیں تیار ہوتی ہیں اور احساسِ کم تری میں مبتلا یہ قوم مزید کیسی نسل تیار کرنا چاہتی ہے

جو ایسے طنزوں اور جملوں سے ہرٹ ہوں، اپنے دل میں نفرت اور بغض کی فصلیں اگائیں تعلیم کی راہ سے باغی ہو کر وہ بھی ہجوم کا حصہ بن کر کسی کی جان لینے کے در پے ہوں

آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنے سے چھوٹوں کو اگر کوئی بات آپ سکھانا چاہتے ہیں تو زبان سے قول اور فعل میں سے فعل کو فضیلت حاصل رہتی ہے

آپ کسی کو گالی دے کر گالی سے منع کریں گے تو وہ کبھی نہیں رکے گا

آپ چیخ کر کسی کو بلند آواز میں بات کرنے سے روکیں گے تو وہ چیخ کر ہی جواب دے گا

ایسے ہی آپ دوسروں کی مدد، اخوت، بھائی چارے، رواداری اور تحمل و برداشت کا سبق صرف نصابی متن میں پڑھاتے رہیں تو کسی کو کچھ فرق نہیں پڑنے والا!

یہ ساری خوبیاں عملی مظاہرے کا تقاضہ کرتی ہیں۔

آپ، استاد ہیں، والدین ہیں، بڑے بہن بھائی ہیں، رشتے دار، کلاس فیلوز یا پڑوسی، اگر آپ کا اخلاق آپ کی تعلیم و تربیت کے مطابق نہیں تو بھول جائیں کہ آپ سے چھوٹے اور آپ کے دوست احباب آپ کی عزت کریں گے

زمانہ بدل چکا ہے، آپ کو سخت رویوں اور لفظوں کی عادت ہے تو اپنی تربیت پر پہلے دھیان دیں، ورنہ آپ اپنے سے بھی زیادہ صبر اور اخلاقی اقدار سے عاری نسل پروان چڑھانے جا رہے ہیں

پھر آپ ہی اپنی سنگتوں میں کہتے پائے جائیں گے کہ ’ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔۔‘

لیکن خبر آپ کو بھی نہیں ہوئی کہ آپ نے کب اپنے حوصلے کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا اور کب آپ بھی ایسے ہی قاتل بن گئے

جی، آپ سمجھیں تو یہ بھی قتل ہی ہے!

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

children's booksdestruction of the egoeckhart tolle 2021 one thing at a timeegoego deathego death explainedego healingfirst kill your egoguardians of the galaxyguardians of the galaxy vol 2 endingguardians of the galaxy vol 2 star lord vs egohealing your egohow to overcome ego in relationshipkill your egokill your ego firstmichael pollan destruction of the egothe egothe final battle between goku and jirenthe single guy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا برطانوی راج سے قبل ہندوستان کے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ تھے؟ آر ایس ایس سربراہ کے بیان پر دلچسپ بحث چھڑ گئی

Next

کیا کوئی غیر منتخب فرد بھی کراچی کا میئر بن سکتا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme