Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

تھری ڈی پرنٹڈ فش: لیبارٹری میں بنائیں، تلیں اور کھا جائیں!

By Akhtar Rasool
مئی 6, 2023 3 Min Read
0

شوقیہ طور پر اگر آپ ایسا کریں تو الگ بات ہے لیکن اب جال اور ہُک کے ذریعے مچھلی پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں تھری ڈی پرنٹڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے مچھلی بنانے کا آغاز کر دیا ہے

حال ہی میں ایک اسرائیلی فوڈ ٹیک کمپنی ’اسٹیک ہولڈر فوڈز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پہلی بار تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے کھانے کے قابل مچھلی تیار کی ہے

کمپنی نے لیبارٹری میں تیار کی جانے والی اس مچھلی کا ذائقے کے عمدہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل کی ’اسٹیک ہولڈر فوڈز‘ نامی کمپنی نے سنگاپور کی ایک کمپنی ’امامی میٹس‘ کی شراکت داری میں مچھلی کے قتلے تیار کیے ہیں

ایک شیشے کی ڈش 3D پرنٹر میں آگے پیچھے سلائیڈ ہوتی ہے، اس کے ساتھ سفید انگلی کی لمبائی والی فلیٹ بلڈنگ ماس۔ اس میں روایتی مچھلی کی چمک ہے اور جب تلی اور پکائی جاتی ہے تو فرق بتانا مشکل ہوتا ہے

یہ عمل گائے کے گوشت کے مقابلے میں آسان ہے، لیکن اس کے کچھ نقصانات ہیں

کمپنی سب سے پہلے اصل مچھلی کے خلیوں کو نکالتی ہے، پھر ان کی نشونما ہوتی ہے، بعد ازاں اس میں ’بائیو انک‘ کا استعمال کرتے ہوئے فش فلے یا قتلے تیار کیے جاتے ہیں، جن کا ذائقہ سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلی جیسا ہی ہوتا ہے

کمپنی کو امید ہے کہ وہ 2024ع تک اپنی پہلی پروڈکٹ مارکیٹ میں لا سکے گی، جسے سب سے پہلے سنگاپور اور اس کے بعد امریکہ اور جاپان سمیت دیگر ملکوں میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا

اسٹیک ہولڈر فوڈز کے چیف ایگزیکٹو آرک کوف مین کے بقول ”میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک صاف ستھرا عمل ہے، جس سے حاصل ہونے والی پروڈکٹ بھی اینٹی بائیوٹک سے پاک ہے۔ میرے خیال میں ہم مستقبل میں لیبارٹری میں تیار ہونے والے گوشت کے صحتمند ہونے کے فوائد کو سمجھیں گے“

یاد رہے کہ لیب میں تیار ہونے والا مرغی اور گائے کا گوشت دنیا میں پہلے ہی فروخت ہو رہا ہے، لیکن فی الوقت چند ہی کمپنیاں سی فوڈ یعنی سمندری غذا تیار کر رہی ہیں

دوسری جانب ماہرین کو مچھلی کو لیب میں تیار کرنے کے دوران کچھ چیلجنز کا سامنا ہے۔ ایک تو یہ کہ لیب میں گوشت تیار کرنے پر بہت زیادہ تحقیق کی جا چکی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں لیب میں مچھلی بنانے ریسرچ اس سے کم ہے

امامی فوڈ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو میہر پرشاد کا کہنا ہے کہ اس وقت ہم ’گروپر‘ اور ’ایل‘ (مچھلی کی اقسام) بنا رہے ہیں، جب کہ ہم ایسی مچھلیوں پر بھی کام کر رہے ہیں، جن کا وجود اب خطرے میں ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ سمندر سے حاصل ہونے والی مچھلیوں کی قیمت سے مقابلہ کرنا بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے

اسٹیک ہولڈر فوڈز کے چیف ایگزیکٹیو ایرک کافمین نے کہتے ہیں ”جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا، ان مصنوعات کی پیچیدگی اور سطح زیادہ ہوتی جائے گی، اور ان کی پیداوار سے منسلک قیمتیں کم ہوتی جائیں گی“

Tags:

3d print3d printed3d printed bladder3d printed food3d printed heart3d printed heart hindi/urdu3d printed meat3d printeragricultural technologydisruptive technologyfood technologyhow to 3d printhow to use a 3d printerlaboratorylaboratory equipmentlaboratory grown meatmeat made in the laboratoryoak ridge national laboratoryTECHNOLOGYtechnology live streamtechnology mafiatechnology newstrending technology
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کینیڈا کی جانب سے پاکستانیوں کو ویزا کے اجراء کے بارے میں بڑا اعلان

Next

اگر سیاست چیٹ جی پی ٹی بوٹ کے ہتھے چڑھ گئی تو کیا ہوگا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme