Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

جاپانی ماہرین نے پورے کمرے کو وائرلیس چارجر بنادیا

By Akhtar Rasool
ستمبر 6, 2021 2 Min Read
0

ٹوکیو : آپ مانیں یا نہ مانیں، اسمارٹ فون کا جارچ ختم ہونا ہمارے عہد کا سب سے بڑا دردِ سر بلکہ خوف بن چکا ہے۔ اس کا حل اب جاپانی ماہرین نے ایک انقلابی کمرے کی صورت میں پیش کیا ہے جو حدود میں موجود ہر برقی آلے کو کسی تار کے بغیر چارج کرنے کی اہلیت رکھتا ہے

یوں تو وائرلیس چارجنگ والے فون، اسمارٹ واچ اور ایئرفون عام ہو چکے ہیں لیکن ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر ٹاکویا ساساتانی نے ایک نئی طرح کی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جسے انہوں نے ’ملٹی موڈ کواسی اسٹیٹک کیویٹی ریزوننس‘ کا نام دیا  ہے۔ اس میں انہوں نے تین میٹر چوڑے، دو میٹر لمبے اور تین میٹر اونچے کمرے میں جگہ جگہ کیپیسٹر کوائلیں لگائی ہیں۔ اس طرح پورے کمرے میں ان دیکھا مقناطیسی میدان قائم ہوجاتا ہے۔ تاہم برقی میدان کیپیسٹر میں ہی پھنسا رہتا ہے۔ پھر کمرے کے عین درمیان بچھی ہوئی تانبے کے گول چھلے (دائرے) کو بچھایا جس سے نکلنے والا مقناطیسی میدان کلاک وائز اور اینٹی کلاک وائز گھومتا ہے۔ یوں کمرے میں کوئی جگہ خالی نہیں رہتی اور ہرجگہ چارج پہنچتا ہے۔ اب وہاں فون سے لے کر ٹیبلٹ تک جو بھی شے رکھی جائے وہ بجلی پاتی رہتی ہے اور چارج ہوتی رہتی ہے

لیکن کمرے کے دو فیصد علاقے یا کونوں میں وائرلیس سگنل پہنچتے رہتے ہیں اور لگ بھگ پچاس واٹ بجلی ملتی رہتی ہے۔ دوسری جانب کمرے میں موجود مقناطیسی میدان اتنا طاقتور نہیں کہ وہ انسان پر اثر ڈال سکے اور یوں پورا بجلی بھرا کمرہ ہی انسانوں کے لیے بالکل بے ضرر ہے

اگر چارج ہونے والے آلے کو درست زاویے پر رکھا جائے تو یہ بھرپور انداز میں چارج ہوتا ہے لیکن رخ سے ہٹنے پر بھی کچھ نہ کچھ چارجنگ جاری رہتی ہے

واضح رہے کہ 2017 میں ڈزنی کے شعبہ تحقیق نے بھی چارجنگ کمرہ بنایا تھا جس میں بعد ازاں تانبے کی مرکزی کوائل بھی ہٹادی گئی تھی۔ تاہم اس اہم کامیابی کے بعد بھی ڈزنی سے اب تک مزید کسی پیشرفت کی خبر نہیں مل سکی ہے

تجزیہ کاروں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے چارجنگ روم کو مزید عملی اور بہتر قرار دیا ہے

جاپانی ماہرین کا اصرار ہے کہ اگر آپ کمرہ نہ بنانا چاہیں تو وائرلیس چارجنگ الماری اور ڈبے سے بھی عین یہی کام لیا جاسکتا ہے

اس ضمن میں شیاؤمی نے ایئرچارج بکس بنایا ہے جس کے اندر رکھا ہر آلہ بے تار چارج ہو جاتا ہے۔ شیاؤمی کی طرف سے بھی اب تک اسے مارکیٹ میں لانے کا کوئی اعلان سامنے نہیں آ سکا ہے.

Tags:

Camera TechnologyJapanese Technology Wireless cameraWireless Charge Camera
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

میسی ارجنٹائن اور برازیل کے میچ میں مداخلت پر حکام پر پھٹ پڑے

Next

طالبان نے پنجشیر کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme