Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

جاپان کا الٹرا وائلٹ سی روشنی سے کورونا وائرس کو ختم کرنے کا تجربہ

By Akhtar Rasool
ستمبر 18, 2020 2 Min Read
0

اگرچہ کورونا وبا کے دوران الٹرا وائلٹ روشنی (بالائے بنفشی) سے وائرس کے خاتمے کے حوالے سے اچھے خاصے دعوے سامنے آئے لیکن اب جاپانی ماہرین نے اس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے کورونا وائرس کو ختم کرنے کا پہلا سائنسی ثبوت پیش کردیا ہے۔

جاپان کی ہیروشیما یونیورسٹی کے سائنس دانوں ںے ثبوت کے ساتھ کہا ہے کہ اگر الٹرا وائلٹ سی روشنی کی 222 نینومیٹر ویو لینتھ کی شدت استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف بہت مؤثر انداز میں کورونا وائرس کا خاتمہ کرسکتی ہے بلکہ یہ انسانی جلد کے لیے بے ضرر بھی ہوتی ہے

اس روشنی  کو فار الٹرا وائلٹ شعاع (بعید بالائے بنفشی) بھی کہا جاتا ہے۔ قبل ازیں کورونا وائرس کی پرانی اقسام کے خلاف اسے مؤثر دیکھا گیا تھا لیکن اب پہلی بار اس سے کورونا وائرس کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

مذکورہ تحقیق کی تفصیلات امریکن جرنل آف انفیکشن کنٹرول میں شائع ہوئی ہیں۔ تحقیق کے مطابق تجرباتی طور پر ان شعاعوں کو SARS-CoV-2 کی ایک بڑی کالونی پر صرف 30 سیکنڈ کے لیے ڈالا گیا تو 99.7 فیصد جرثومے بالکل ختم ہوگئے، جو ایک اہم کامیابی ہے۔

اس کے بعد ایک محلول میں شامل ایسے ہی وائرس پر  222 نینومیٹر کی الٹرا وائلٹ شعاع کو آزمایا گیا تو یکساں نتائج برآمد ہوئے۔

اگرچہ اس شدت کی روشنی انسانی جلد کی نچلی سطح تک نہیں پہنچتی اور یوں انسانی استعمال کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس روشنی سے تجربہ گاہوں، ہسپتالوں اور حفاظتی لباس کو بھی کورونا وائرس سے پاک کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود جاپانی ماہرین اس ٹیکنالوجی کو انسانوں کے لیے مزید محفوظ بنانے کے لیے مزید تجربات کررہے ہیں۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اب درخت کے پتوں سے آلودگی کی شدت کا اندازہ لگایا جائے گا

Next

لگتا ﮨﮯ ﮐﮧ تعلیمی اداروں ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ، سعید غنی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme