Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

تازہ ترین

جدید دور کے رابنسن کروسو نے سنسان جزیرے پر 32 برس تنہا رہنے کے بعد اسے خیرباد کہہ دیا

By Akhtar Rasool
اپریل 27, 2021 2 Min Read
0

کیا اسے جدید دور کا حقیقی رابنسن کروسو کہا جائے؟ ایک سنسان جزیرے پر مسلسل بتیس سال سے اکیلے رہنے والے شخص کو اب آخرکار یہ جزیرہ چھوڑنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ایک نجی کمپنی نے یہ جزیرہ خرید لیا ہے!

اکیاسی سالہ مورو مورانڈی 1989ع اپنی کشتی میں یہاں سے گزر رہے تھے کہ ان کی کشتی الٹ گئی اور وہ مشکل سے اس جزیرے بوڈیلی پر جا پہنچے

یہ جزیرہ اپنے گلابی ساحلوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے اور مورو جب یہاں پہنچا تو یہ جزیرہ انہیں اس قدر بھایا کہ انہوں نے یہیں رہنے کا ارادہ کر لیا

فرضی کردار روبن سن کروسو کی طرح مورو مورانڈی کو بھی ایک عجیب و غریب کردار قرار دیا گیا ہے

انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر جو لکھا ہے اسے پڑھ کر آنکھ میں آنسو بھر آتے ہیں.
انہوں نے دردمندی سے لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ جزیرے کی نئی انتظامیہ اس کی ویسے ہی حفاظت کرے گی، جس طرح میں نے ماحولیاتی طور پر اس کا خیال رکھا تھا

اس سے قبل وہ خود کو معاشرے کا باغی قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا اس حوالے سے موقف تھا کہ میں معاشرے کی کئی اشیا سے بیزار ہوچکا ہوں۔ اٹلی میں مادہ پرستی، کنزیومر سوسائٹی اور سیاسی بحران مجھے پریشان کرتا ہے۔ پہلے میں نے پولی نیسیا کے ایک ریگستان میں جا بسنے کا ارادہ کیا تاکہ شہروں کے شور سے دور رہ کر فطرت کے قریب زندگی گزار سکوں

اس کے بعد وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سمندر میں سفر کررہے تھے کہ وہ اطالوی جزیرے لا میڈلینا پر جا اترے تاکہ وہاں کام کرکے اپنے سفر کے لیے رقم جمع کرسکیں۔ لیکن اس کے بعد وہ  بڈیلی جزیرے پر اترے تو وہاں کا نگراں ریٹائر ہونے والا تھا ۔ مورو وہیں ٹھہر گئے اور جزیرے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی رہنمائی کی ذمے داری اٹھالی

2020ع میں لا میڈلینا نیشنل پارک کے صدر فیبریزیو فونیسو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یہاں دوسری عالمی جنگ میں قائم ایک ریڈیو اسٹیشن تھا اور ایک گھر بھی تھا۔ مورو نے بلا اجازت اس میں تبدیلیاں کیں

اگرچہ ایک درخواست میں حکومت سے گزارش کی گئی ہے کہ مورو کو جزیرے پر رہنے دیا جائے، اس درخواست پر  70 ہزار سے زاید لوگوں نے دستخطوں کیے ہیں

لیکن لا میڈلینا نیشنل پارک کے صدر فیبریزیو فونیسو کے بیان کے بعد مورو نے خود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس جزیرے کو چھوڑ کر ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اسی ماہ منتقل ہوجائیں گے

لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے بعد جزیرے کا خیال رکھا جائے گا.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جی بورڈ: اسمارٹ فون بنا آپ کا مترجم

Next

کیونکہ وائرس ووٹر نہیں ہوتا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme