Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

جینیاتی عمل سے پیدائشی نابینا افراد میں  جزوی بصارت کی بحالی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 2, 2021 2 Min Read
0

اوریگون : امریکہ میں دو نابینا افراد نوبیل انعام یافتہ کرسپرٹیکنالوجی کی بدولت اب دوبارہ رنگوں کو دیکھنے کے قابل ہو چکے ہیں

تفصیلات کے مطابق دونوں افراد پیدائشی طور پر نابینا تھے اور ان میں سے ایک کارلین نائٹ اپنے کال سینٹر میں چھڑی کے سہارے سے چلتے ہوئے بھی لوگوں سے ٹکراتی رہتی تھیں۔ اپنے جینیاتی نقص کی وجہ سے وہ تقریباً نابینا تھیں لیکن اب کرسپر ٹیکنالوجی سے وہ میز، دروازوں اور دیگر اشیا کو پہچان سکتی ہیں اور رنگ بھی دیکھ سکتی ہیں

کارلین ان سات مریضوں میں سے ایک ہیں، جن سے ڈاکٹروں نے رابطہ کر کے انہیں ایک تجربے کا حصہ بننے کا کہا۔ اس کے تحت جسم کے اندر پہلے سے موجود متاثرہ جین کو کرسپر ٹیکنالوجی کے تحت تبدیل شدہ جین سے بدلنا تھا۔ یہ کرسپر کا پہلا تجربہ بھی ہے، جس میں بینائی کو ہدف بنایا گیا ہے

تجربے میں شامل سات مریض ایک قسم کی جینیاتی نابینا پن ’لیبر کونجینینٹل ایمیوروسِس‘ کے شکار تھے۔ تاہم تجربے کے بعد تمام لوگوں کی بینائی واپس نہیں آئی بلکہ اس کا اثر مختلف لوگوں پر مختلف ہوا

اوریگون میں واقع ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے شعبہ بصریات کے پروفیسر مارک پینیسی نے اسے ایک طاقتور ٹیکنالوجی کہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی بہت سارے مریضوں پر آزمائش باقی ہے، جس کے بعد ہی اس جینیاتی ٹیکنالوجی کی افادیت سامنے آسکے گی۔ تاہم انہوں نے ابتدائی نتائج کو بہت امید افزا بیان قرار دیا

دوسری جانب کارلین اس علاج سے بہت خوش ہیں، کیونکہ انہیں اشیا بہت صاف اور شفاف دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک روز قبل انہوں نے باورچی خانے میں چمچہ گرایا اور اسے دیکھ کر اٹھا بھی لیا

جبکہ دوسرے رضاکار مائیکل کیلبرر کا حال مختلف ہے. ایک ماہ بعد وہ کئی رنگوں کو دیکھنے کے قابل ہوگئے۔ اسی طرح ایک پارٹی میں رنگ برنگی روشنیاں پہلی مرتبہ دیکھ کر بہت مسرور بھی ہوئے ہیں

ڈاکٹروں نے پیدائشی نابینا مریضوں کی ایک ایک آنکھ میں کرسپر ٹیکنالوجی آزمائی۔ انہوں نے ایک بے ضرر وائرس پر کرسپر جین ایڈیٹر رکھ کر ان کی کروڑوں اربوں کاپیاں آنکھ کے ریٹینا میں شامل کردیں

سائنسدانوں کے توقع کے مطابق کرسپر جب ریٹینا کے خلیات میں گھسے تو انہوں نے بینائی کھونے والی جینیاتی تبدیلیوں کو روکا اور خوابیدہ خلیات کو جگا کر بینائی کو بحال کرنا شروع کر دیا

تجربے میں شریک افراد کی عمریں چالیس سے پچپن برس کے درمیان ہیں اور اس عمر میں بھی یہ کامیابی نابینا افراد کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں مزید رضاکاروں پر اسے آزمایا جائے گا.

Tags:

Congenital blindnessGenetic processPartial vision
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈاؤ یونیورسٹی میں گاما نائف سرجری کی مفت فراہمی کا آغاز

Next

اداکار عمر شریف جانبر نہ ہو سکے…

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme