Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

جیونی کے ساحل پر نایاب آرہ مچھلی ماہی گیروں کے جال میں آگئی

By Akhtar Rasool
نومبر 1, 2021 2 Min Read
0

جیونی : پاکستان اور ایران کی سمندری سرحد پر نایاب آرہ مچھلی ماہی گیروں کے جال میں آنے کا انکشاف ہوا ہے

ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے مطابق 29 اکتوبر کو جیونی کے ساحل پرماہی گیروں نےنایاب نسل کی آرہ مچھلی کے جال میں آنے کی اطلاع دی. آرہ مچھلی کی دریافت اس بات کی عکاس ہے کہ یہ نایاب مچھلی اب بھی پاکستانی سمندروں میں پائی جاتی ہے

واضح رہے کہ آرہ مچھلی نایاب آبی حیات ہے، اس کی نسل پچھلے کئی برسوں سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے دس برسوں میں اس نایاب آرہ مچھلی کی موجودگی کے صرف تین شواہد سامنے آئے ہیں. سنہ 1950ع سے پلاسٹک کے جالوں کے استعمال کے باعث دیگر نایاب آبی حیات سمیت آرہ مچھلی کی نسل معدومیت کا شکار ہوگئی ہے، پاکستان میں 70 اور 80 کی دہائی میں آرہ مچھلی کی تین اقسام وافر تعداد میں پائی جاتی تھیں. انہیں برآمد بھی کیا جاتا تھا. آٹھ برس قبل 2013ع میں دریائے سندھ کے کریک پر ماہی گیروں نے آرہ مچھلی کے جال میں پھنسنے کی اطلاع دی تھی

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر معظم خان نے بتایا کہ عالمی قوانین کے تحت سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے 2016ع میں آرہ مچھلی کے شکار اور تجارت پر مکمل پابندی عائد کردی تھی

انہوں نے کہا کہ مچھلی کی اس نایاب نسل کی بقا کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

بتاتے چلیں کہ آرہ مچھلی یا سافش کو ترکھان یا کارپینٹر مچھلی بھی کہا جاتا ہے، یہ مچھلی سا شارک سے الگ قسم کی ہے.

Tags:

GwadarJiwiniJiwini Fishermen
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چلغوزے کی قیمت میں حیرت انگیز کمی

Next

’زمین مدد کے لیے پکار رہی ہے‘ ماحولیاتی تحفظ کی کارکن گریٹا ٹونبرگ کا کھلا خط

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme