Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

دادو شہر کے گردونواح سیلاب کے سبب مکمل زیر آب آنے کا خطرہ

By Akhtar Rasool
ستمبر 11, 2022 3 Min Read
0

دادو میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محکمہ آبپاشی نے شہر کی جانب پانی کا بہاؤ مزید بڑھنے کی صورت میں مختیار نانگر میں انڈس ہائی وے پر ’کٹ‘ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے

دادو جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفار چانڈیو نے تصدیق کی کہ جیل حکام نے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر 93 سال پرانے دادو ڈسٹرکٹ جیل سے 329 قیدیوں کو حیدرآباد ریجن کی دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا ہے

گزشتہ روز دادو شہر سے تقریباً دس کلومیٹر دور پیر برانچ پر رنگ بند میں گہرا شگاف پڑنے سے پانی دادو شہر کی جانب بہنا شروع ہو گیا، جس سے راستے میں موجود تین سو دیہات زیر آب آ گئے

دادو تعلقہ کے پیر شاہنواز، کمال خان اور یار محمد کلہوڑو کے کچھ حصے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ خدا آباد، پھکا اور پاپڑی کی جانب پانی بڑھ رہا ہے

محکمے کے ایک اسسٹنٹ انجینئر کے مطابق مقامی انتظامیہ کے عہدیدار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مختیار نانگر کے مقام پر ہائی وے پر کٹ لگانے کا فیصلہ پانی کی سطح میں اضافے کی صورت میں ہی کیا جائے گا، اس وقت شہر کی جانب پانی کے بہاؤ کا دباؤ کم ہو چکا ہے

ہائی وے سے راستہ منقطع ہونے کی صورت میں دادو کا بھان اور سعید آباد سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، منچھر جھیل کے پانی سے سیوھن اور بھان سید آباد قصبوں کے درمیان ہائی وے کا ایک بڑا حصہ زیرآب آنے سے سیوھن شہر پہلے ہی الگ ہو چکا ہے

جوہی اور میہڑ شہر کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہے جبکہ خیرپور ناتھن شاہ مکمل طور پر زیر آب آچکا ہے

دادو سے رکن صوبائی اسمبلی پیر مجیب الحق کے بقول دادو شہر کو بچانے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں اور مشینری کو دادو بائی پاس کی جانب بھیجا جا رہا ہے

ڈی سی دادو سید مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق بریرو برانچ سے ہیتم جتوئی پھاٹک تک رنگ بند پر کام جاری ہے

علاوہ ازیں منچھر جھیل پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے کٹ لگائے جانے کے بعد بھان سید آباد کا گرڈ اسٹیشن زیر آب آ گیا، جس سے شہر کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس کا دورہ

دریں اثنا سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا ہےکہ وہ قرضوں کی ادائیگی میں الجھانے کی بجائے پاکستان جیسے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت اور پائیدار انفرااسٹرکچر کے لیے سرمایہ کاری کا اہل بنانے کا ایک نیا طریقہ کار بنائیں

انتونیو گوتیرس نے اپنے دو روزہ دورہ پاکستان کے دوران سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور اس صورتحال کو موسمیاتی تباہی قرار دیا

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر ردعمل کی اپیل بھی کی

اپنے دورے کے اختتام پر جناح ٹرمینل پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہائی مشکل مالیاتی صورتحال کے دہانے پر کھڑے پاکستان جیسے ترقی پذیر اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کے لیے ان کا مطالبہ بالکل واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ معاملات میں پہلے ہی دیوالیہ نزدیک ہے، میں اس تجویز کی پرزور وکالت کر رہا ہوں جسے ہم قرض کی تبدیلی کہہ سکتے ہیں، اس سے ان ممالک کے لیے قرض کی ادائیگیوں کی بجائے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت اور پائیدار انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ممکن ہو جائے گا

سیلاب زدگان کے لیے مندر کے در وا

دریں اثنا بلوچستان کے ضلع کچھی میں سیلاب زدگان کے لیے مقامی ہندو برادری نے مندر کے دروازے کھول دیے

ضلع کچھی میں واقع جلال خان کا چھوٹا سا گاؤں اب بھی سیلاب سے نبرد آزما ہے جس نے کئی مکانات تباہ کر دیے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، ناری، بولان اور لہری ندی میں طغیانی کی وجہ سے گاؤں کا صوبے کے دیگرحصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے

آزمائش کے ان لمحوں میں مقامی ہندو برادری نے بابا مادھو داس مندر کے دروازے سیلاب زدگان اور ان کے مویشیوں کے لیے کھول دیے

یہ وسیع مندر کنکریٹ سے بنا ہوا ہے اور بلند مقام پر واقع ہے، اس لیے یہ سیلاب کے پانی سے نسبتاً محفوظ رہا اور سیلاب متاثرین کے لیے اس مشکل گھڑی میں پناہ گاہ بن گیا۔

Tags:

BalochistanSindhUNOUrban flood
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فوجی سیمنٹ کو سرکاری زمین کی فروخت کا معاملہ کیا ہے؟

Next

”میں نے ڈینگی اور ڈائریا کے اتنے کیس پہلے کبھی نہیں دیکھے“

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme