
آج 14 مارچ کو ’’دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن‘‘ (International Day of Action for Rivers) کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے کونکر لائبریری میں ایک خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انہیں درپیش خطرات کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا تھا۔
پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، ادیبوں اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری، ڈاکٹر رخمان گل پالاری، حفیظ بلوچ، ایڈووکیٹ کاظم مہسر اور راشد واڈھیلو شامل تھے۔
پروگرام کے مہمانِ خصوصی، معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دریاؤں کے لیے عمل کا یہ بین الاقوامی دن محض بیٹھ کر ماتم کرنے یا اپنے وسائل کی تباہی پر افسوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر آنسو بہانے کے بجائے ہمیں اپنے دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی گزرگاہوں کو بچانے کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف باتوں سے ماحولیاتی تباہی نہیں رکے گی بلکہ ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عملی میدان میں آنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور سرسبز سندھ دیا جا سکے۔
مقررین نے سندھ کی تہذیب میں دریاؤں اور ندی نالوں کی تاریخی و ثقافتی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے گڈاپ اور اطراف کے علاقوں میں ندی نالوں پر قبضوں، ریت کی غیر قانونی کھدائی اور ماحولیاتی بگاڑ پر تشویش کا اظہار کیا اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
مقررین نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور ایسے پروگراموں کو صرف دن منانے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے۔
یہ پروگرام گڈاپ کے علاقے میں ماحولیاتی شعور کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جہاں مقامی افراد اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اپنے وسائل سے محبت کا اظہار کیا۔




