Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

دس لاکھ سال قدیم میمتھ سے تاریخ کا قدیم ترین ڈی این اے پڑھ لیا گیا

By Akhtar Rasool
فروری 19, 2021 2 Min Read
0

بین الاقوامی جینیات دانوں کی ٹیم نے کئی برس کی محنت سے دنیا کے قدیم ترین میمتھ کے ڈی این اے کو نکالا ہے اور ڈی این اے کے کئی ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مکمل جینیاتی سلسلہ مرتب کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے

یہ ڈی این اے 7 سے 12 لاکھ سال قبل سائبیریا کے علاقے میں گھومنے پھرنے والے بالوں بھرے تین قدیم ہاتھیوں، میمتھ کے دانتوں سے نکالا گیا ہے۔ ان سب میں ڈی این اے کے نامکمل ٹکڑے تھے، تاہم بعد میں انہی سے ایک مکمل ڈی این اے مرتب کیا گیا ہے

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک گھوڑے سے حاصل کیے گئے ڈی این اے کو قدیم قرار دیا گیا تھا، جو قریباً ساڑھے پانچ سے سات لاکھ اسی ہزار سال پہلے کا بتایا جا رہا تھا

سویڈن میں قدیم جینیات کے ماہر لوَڈالین کہتے ہیں کہ یہ بہت پرانا ڈی این اے ہے۔ بالوں بھرے اصلی میمتھ درحقیقت آٹھ لاکھ سال قبل نمودار ہوئے تھے اور آخرکار اب سے چار ہزار سال قبل صفحہ ہستی سے مِٹ گئے تھے۔ لیکن ماہرین نے بالوں بھرے ان عفریت کے جد کا ڈی این اے تلاش کیا اور وہ بھی برفانی علاقوں میں ہی رہتے تھے۔ انہیں اسٹیپ میمتھ کہتے ہیں جو پندرہ لاکھ سال قبل شمالی امریکہ پہنچے تھے

تحقیقی ٹیم نے سات لاکھ سال کے ایک ، اور دس لاکھ سال کے دو میمتھ ک دانتوں سے ڈی این اے نکالا اور ان کے ٹکڑوں کو جوڑنے کا تھکا دینے والا کام شروع کیا، کیونکہ کسی بھی دانت سے مکمل ڈی این اے نہیں مل سکا تھا۔ سائنسدانوں کے دعوے کے مطابق یہ تمام جانور مستقل برف میں دبے تھے اور اسی وجہ سے ان کے دانتوں کی جڑ میں گوشت اور خون محفوظ رہ گیا تھا

تحقیق سے معلوم ہوا کہ سائبیریا میں میمتھ کی ایک قسم نہیں بلکہ کم از کم دو اقسام کے میمتھ زندگی گزار رہے تھے۔ اس طرح اب میمتھ کی دو طرح کی جینیاتی سلسلے ہمارے سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ آخر کس طرح میمتھ ایک مقام سے دوسرے مقام اور براعظم تک پہنچے تھے

اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسٹیپ میمتھ اور بالوں والے میمتھ کے ملاپ سے ایک نئی قسم کے میمتھ نے جنم لیا، جن کے آثار شمالی امریکہ سے ملے ہیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چیف جسٹس نے ملک بھر کے پولیس افسران کی تعلیمی اسناد چیک کرانے کا حکم دے دیا

Next

ورزش  سے چھوٹے بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے، تحقیق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme