Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

دنیا بی بی سی کے بغیر رہ سکتی ہے، لیکن کیا برطانیہ بھی؟

By Akhtar Rasool
جنوری 19, 2022 4 Min Read
0

جب میں سترہ سال کی عمر میں لندن آئی تو میرے لہجے نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ یہ آدھا فرانسیسی تھا، جو سمجھ میں آتا تھا کیونکہ میں فرانس میں پلی بڑھی تھی اور آدھا کوکنی، جس کی کوئی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایسا کیوں ہے۔ مجھ سے بار بار پوچھا گیا کہ میں اس طرح سے کیسے بول رہی ہوں۔ مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ دراصل کیا ہوا ہے

سال 2009 تھا اور میں نے اپنے ابتدائی سال ’دی مائیٹی بوش‘(بی بی سی کے مزاح پر مبنی اور حقیقت سے عاری شو) کے ساتھ چپکے ہوئے گزارے تھے۔ ایک فوم کے سفنج کی طرح، میں نے اس کے کچھ لہجوں کو غیرارادی طور پر جذب کر لیا تھا

بارہ سال بعد، میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میرا لہجہ اب بہت کم پریشان کن ہے۔ پھر بھی، ان مہینوں اور ان لوگوں کے بارے میں سوچ کر لطف آتا ہے جنہیں میں نے الجھا دیا تھا

میں کرسمس کے موقع پر جب اپنے آبائی شہر واپس گئی تھی ان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جیسا کہ اب رواج ہے، میری دادی نے میرا استقبال کیا، پھر مجھے بی بی سی سیریز کی ایک جامع فہرست فراہم کی جو انہوں نے ہماری آخری ملاقات کے بعد دیکھی تھی

کچھ شاندار تھے، کچھ مایوس کن، لیکن کوئی بات نہیں۔ وہ واقعی میں جو بات جاننا چاہتی تھیں وہ یہ تھی کہ آگے کیا آنے والا ہے؟ چونکہ ٹی وی شوز کے آنے میں کچھ مہینے لگتے ہیں، اس لیے مجھے اپنے خاندان کو بی بی سی کی پیشگی اطلاع دینے والی سمجھا جاتا ہے، جو مستقبل کے ڈراموں اور مزاح کے پروگراموں کی خبریں لا سکتی ہے

گھر کے کسی اور حصے میں، میرے والد، جنہیں پوڈ کاسٹ کی شدید لت لگ چکی ہے، تاریخ، سائنس، سیاست کو بغیر کسی خوف اور حمایت کے سنیں گے۔ ان کی پسند یقیناً بی بی سی ہے۔ ’ان آر ٹائم‘ (ہمارے وقت میں) ان کا پسندیدہ ترین ہے

مختصراً مری لی کونٹ کی ہر نسل کا اس وقت برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کے ساتھ تعلق ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے زیادہ تر نسلیں زندہ نہیں رہیں اور نہ ہی برطانیہ میں رہیں گی

یہ شاید واضح ہے کہ میں یہ سب اب کیوں سامنے لا رہی ہوں۔ گذشتہ ہفتے کلچر سیکرٹری نڈین ڈوریس نے اگلے چند سالوں میں بی بی سی کے بجٹ میں دو ارب پاؤنڈز کی موثر کٹوتی کا اعلان کیا اور 2027 میں لائسنس فیس ختم کرنے کا عزم کیا

اگرچہ کنزرویٹو پارٹی کا ایک حصہ طویل عرصے سے کارپوریشن کو محدود کرنا چاہتا ہے، لیکن بظاہر اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر ڈگمگاتے ٹوری ووٹروں کو واپس لانا ہے۔ کیا یہ پالیسی کامیاب ہوگی؟ یہ ابھی جاننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کیا اس کے خوفناک، دیرپا، مکمل طور پر قابل احتراز نتائج ہوں گے؟ میں اس پر شرط لگا سکتی ہوں

درحقیقت، میں یہاں تک کہوں گی کہ بی بی سی کے بجٹ کو کم کرنے کا یہ بدترین وقت ہے۔ برطانیہ نے 2020 میں یورپی یونین کو چھوڑ دیا، پھر پوری دنیا کی طرح وبائی مرض کی لپیٹ میں آگیا

اگلے چند سالوں میں ملک کو آخرکار یہ طے کرنا پڑے گا کہ وہ عالمی سٹیج پر کیا بننا چاہتا ہے اور کیا اس کے عزائم حقیقت سے تال میل کھاتے ہیں یا نہیں۔ بریگزٹ کے حامیوں نے برطانیہ کو ایک ایسی جگہ کے طور پر پینٹ کیا جو عالمی سطح پر اپنے وزن سے زیادہ اہم ہے اور اگر اسے تنہا چھوڑ دیا جائے تو یہ ترقی کی منازل طے کرے گا

اگر ایسا ہونا ہے تو، سافٹ پاور کلیدی ہوگی۔ غیر ملکیوں کے پاس اس وقت خاص طور پر برطانیہ کی طرف دیکھنے کی چند وجوہات ہیں۔ اس کی ملکی سیاست تباہی کا شکار ہے، اس کے خارجہ امور کے معاملات میں بہت زیادہ کام نہیں ہو رہا ہے اور بریگزٹ مذاکرات کی خامیاں بالکل کسی خیر سگالی کو فروغ نہیں دے رہی ہیں

ہو سکتا ہے یہ وہ نہ ہو جو کلچر سیکرٹری نڈین ڈوریس اور اس کے لوگ سننا چاہتے ہیں، لیکن اگر ملک میں عام طور پر ایک چیز ہے تو وہ ثقافت ہے۔ یہ برطانوی فلمیں اور ٹی وی سیریز ہیں۔ برطانوی موسیقی اور برطانوی ریڈیو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دور تک سفر کرتی ہیں اور لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کرتی ہیں

بی بی سی کو اپنے پروگرامنگ کو مزید کم کرنے پر مجبور کرکے، حکومت صرف ملک کو چھوٹا اور غیر متعلقہ محسوس کرنے کا انتظام کرے گی۔ لی کونٹے اپنے لامتناہی ٹی وی شوز اور پوڈ کاسٹ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ بالآخر امریکہ، باقی یورپ، یا مقامی میڈیا کی طرف رجوع کریں گے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ برطانیہ کا یہی ہدف ہونا چاہیے.

حوالہ : انڈپینڈنٹ

Tags:

BBCBritainBritishUK
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارتی سوشل میڈیا پر ہندوتوا کی مقبولیت کا ’دھوکا‘

Next

قصہ دو شہر – 6

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme