Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-world-is-made-for-hate-there-is-no-cycle-of-love
کالماہم ترینتازہ ترین

دنیا نفرت کے لیے بنی ہے، محبت والا کوئی چکر نہیں!

By Akhtar Rasool
مئی 9, 2024 4 Min Read
0

نفرت فاتحِ عالم ہوتی ہے استاد! محبت تو بندے کو ستو پلا کے سلانے والی گیم ہوتی ہے۔

زندگی بھر میں نے یہی سنا کہ دنیا محبت کے لیے بنائی گئی ہے، محبت کائنات میں ہر چیز کو فتح کر سکتی ہے، محبت سے کام لیا جائے تو ہر بگڑا ہوا کام سدھارا جا سکتا ہے، لیکن اب یہ سب سمجھ نہیں آتا۔

نفرت اس قدر ضروری چیز ہے کہ دنیا میں ہر قوم کو زندہ و تابندہ رہنے کے لیے ایک عدد دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام آدمی کو مقابلے پر اکسانے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک یا بہت سارے دشمن درکار ہوتے ہیں۔۔ دشمن، جن سے ٹکر لے کے انہیں آگے بڑھنا ہوتا ہے۔

اس فانی دنیا کا ہر امتحان جیت کے لیے ہوتا ہے، فتح کے لیے کوئی بھی حربہ آزمایا جاتا ہے، اسی لیے شاید لائق بچے دوسروں کو نقل تک نہیں کرواتے، تو جیتنا آخر ہوا سے ہے کیا؟ یہاں بھی ایک عدد دشمن چاہیے ہوتا ہے۔

کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے دشمن؟ نفرت سے! وہ کون سی دنیا ہوگی، جس میں چاروں طرف سارے مل کے جھوم رہے ہوں اور کوئی لاگ بازی ہی نہ ہو، شریکا نہ ہو، دوڑ نہ ہو، مارا ماری نہ ہو، جنگ نہ ہو؟

ان سب چیزوں کے لیے نفرت چاہیے ہوتی ہے، اس کے بغیر آپ بتائیں کیا ہو سکتا ہے؟

نفرت ایسی پاور فل چیز ہے کہ آپ سے بڑے بڑے کام کروا لیتی ہے، غصے میں آدمی معمول سے کہیں زیادہ وزن اٹھا لیتا ہے، محنت کر لیتا ہے، نقصان والے وہ کام بھی کر لیتا ہے جو عام حالات میں اس کے لیے سوچنے ہی مشکل ہوں۔۔۔ تو عام حالات میں پھر کیا ہو سکتا ہے؟

یعنی عام حالات سمجھ لیں کہ محبت والے ہیں، کہیں سے لتا کی آواز آ رہی ہے، بوندا باندی ہو رہی ہے، ایسے نیچے تک بادل آئے ہوئے ہیں، مٹی سے خوشبو اٹھنا بس شروع ہوئی ہے، دور تک یہ سبزہ ہی سبزہ ہے، پھولوں کی مہک ناک کیا پورے جسم میں آ رہی ہے۔

ایسے میں کوئی فوجی بھی ہوگا تو تھوڑی دیر لیٹ کے پکوڑے کھائے گا، بندوق وغیرہ کون اٹھائے؟

اب انہی حالات میں بس جنگی ترانے شامل کر لیں اور آسمان پہ جہازوں کی گڑگڑاہٹ۔۔۔ سارا مزہ بھنگ ہو گیا؟ لیکن بندوق اب اٹھے گی، وہ اٹھے گی تو ہار جیت کا فیصلہ ہوگا اور اس سب کے لیے آف کورس نفرت چاہیے ہوگی۔

یعنی ایک انسان کو اپنے ملک سے محبت کرنے کے لیے بھی اچھی خاصی مقدار میں نفرت چاہیے ہوتی ہے، دشمن ملک کے خلاف، وہ نہیں ہوگی تو محبت کا پتہ کیسے چلے گا؟

اب تک ہم ایسے ہی دو نمبر دنیا کی بات کر رہے تھے، اصل دنیا پر آتے ہیں، جس میں آپ رہتے ہیں، جہاں میری مستقل رہائش ہے، انٹرنیٹ کی دنیا، یہاں بھی وہی کام چل رہا ہے۔

اس کو بھی بنانے والوں نے سوچا ہوگا کہ ہماری ایجاد سے دنیا کتنی خوبصورت ہو جائے گی، لوگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے میں آسانی ہوگی، گھر بیٹھے دوسرے ملک گھومیں گے، خبریں ملیں گی، نئی نئی معلومات ہوں گی۔

سوشل میڈیا پہ ایک دوسرے کو دیکھ کے خوش ہوں گے، امن، محبت، بھائی چارہ بڑھے گا ۔۔۔ یہ پڑا ہوا ہے چارہ بھی اور بھائی بھی اور محبت ہماری وہ طلسماتی فاتح عالم والی بھی۔۔

ادھر یار لوگ کاٹ کھانے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں، یوں سمجھ لیں ’کاز‘ بعد میں نکلتی ہے نعرے پہلے تیار ہوتے ہیں، بلکہ نفرت کا مقصد ہی نعروں کی گونج سے طلوع ہوتا ہے۔ اس میں بھی کدھر ہے محبت، پورا کاروبار نفرت کا ہے کہ نہیں؟

سارے لوگ اگر ’واہ واہ، سبحان اللہ‘ کمنٹس میں لکھ دیں اور آگے بڑھ جائیں تو اُن کو جواب کون دے گا؟ بحث کیسے ہو گی؟ دلیلوں والے خنجر کسے لہولہان کریں گے اور یہ سب نہیں ہوگا تو وہ چیز وائرل کیسے ہوگی؟

پوسٹ کا فارمولہ یہی ہے کہ جتنی زیادہ انگیجمنٹ ہوگی، اتنی تیزی سے اسے دوسرے لوگوں کی وال پر دکھایا جائے گا۔

محبت میرے خیال میں کوئی نشے ٹائپ کا جذبہ ہے جو اپنے صارف کو چوبیس گھنٹے لسی پینے کے بعد والی خماری میں مبتلا رکھتا ہے، کام دھام کا نہیں رہتا پھر وہ۔۔ جسے نفرت ہی نہیں، وہ کس سے آگے بڑھے گا اور وہ کیا کام کرے گا؟

نفرت۔۔۔ ایسا لفظ ہے کہ جس سے تنفر ٹپکتا ہے، اسے کوئی ہلکا سا نام دینا چاہیے تاکہ یہ مہذب لگے اور اسے کرنا آسان محسوس ہو، ضمیر پہ کوئی بوجھ بھی نہ ہو۔

جیسے انگریزی میں ’ٹرولنگ‘ یا ’ڈفرنس آف اوپنین‘ کے نام پہ آپ بڑے سے بڑا کام کر سکتے ہیں اور وہ ’ہیٹ اسپیچ‘ کے کھاتے میں بھی نہیں جاتا۔

شاید یوں کہا جا سکتا ہے کہ ’میں آپ سے عدم محبت کا اظہار کرتا ہوں اور اب اس جذبے کے تحت میں آپ کی جڑ مارنے والا ہوں۔‘ کیسا رہے گا؟

کُل ملا کے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی بنیادیں نفرت پہ قائم ہیں، وہی فاتحِ عالم ہے، وہ نہیں ہوگی تو کون کس کو فتح کرے گا؟

اور کوئی ہار جیت ہی نہیں ہوگی تو دنیا پھر کہاں رہی، وہ تو جنت ہوگی۔ مرنے سے پہلے کس کو جنت میں جانے کا شوق ہے؟

باقی بس میرے حصے کی محبتوں سے میں تھک گیا ہوں بھائی، آپ اپنا اپنا دیکھ لیں!

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

'love' again belcherstationclash of clans hateclash of clans new event attackclash of clans new updatecyclecycle deckeurope vs the worldjim rohn making of a leadermaster of the airmy child hates themselvesnarcissistic cyclerelationship advice for couplessigns of a love hate relationshiptheatre severnuniversity of the third agewhat is a love hate relationshipwhere will they launch rockets in europewolters world
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
What-happened-to-the-families-of-the-political-activists-imprisoned-on-the-charge-of-May-9-in-one-year-
Previous

نو مئی کے الزام میں قید سیاسی کارکنوں کے گھر والوں پر ایک سال میں کیا گزری؟

Lahori-friends-are-worried-about-their-hiramandi-identity-being-distorted
Next

لاہوری دوستوں کو اپنی ہیرامنڈی کا تشخص ’مسخ‘ ہونے کا قلق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme