Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

دنیا کا پہلا ’زندہ روبوٹ‘ جو اپنی نسل بڑھا سکتا ہے!

By Akhtar Rasool
دسمبر 1, 2021 2 Min Read
0

ہارورڈ – زینوبوٹ نہ ہی پودا ہے، نہ جانور ہے بلکہ یہ ایک زندہ روبوٹ ہے جو اب اپنی نسل بڑھا سکتا ہے

پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو خام مال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے۔

اگرچہ اسے 2020 میں بنایا گیا تھا، جو حرکت کر سکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے مل کر کام کرسکتا تھا، لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے

ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے، لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں

اس منصوبے کے اہم رکن ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے، جو بہت حیرت انگیز ہے

سائنسدانوں کے مطابق اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے، تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں

اس میں انگریزی حروف تہجی کے حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا

ایک اور ماہر جوش بوگارڈ کا کہنا ہے کہ لوگ دھات اور الیکٹرونک کے مجموعے کو ہی روبوٹ سمجھے ہیں، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنے حیاتیاتی روبوٹ کو ایک جاندار بھی کہہ سکتے ہیں جسے مینڈک کے خلیات سے بنایا گیا ہے

ایک زینوبوٹ گول دانے جیسا ہے جو تین ہزار خلیات سے بنایا گیا ہے۔ یہ اپنی نقل بناسکتا ہے لیکن بہت خاص حالات میں ایسا کرتا ہے۔ لیکن یہ حرکی (کائنیٹک) نقول بناتا ہے اور یہ عمل حیاتیات میں اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا

لیکن یہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو استعمال کیا گیا جس سے اربوں جسمانی ساختیں بنائی گئیں اور ان میں سے بہترین منتخب کی گئیں۔ ان میں سی شکل کا روبوٹ بہترین تجویز کیا گیا جو پیک مین وڈیو گیم کی شکل کا تھا

پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے۔

تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے.

Tags:

Living Robot
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ماہر نفسیات، جو مفت آن لائن علاج کرتی ہیں

Next

حج کوٹے میں اضافہ، عمرہ زائرین کے لیے نئے ظوابط کا اعلان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme