Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

دنیا کی مہنگی ترین کافی کی کہانی، کیا یہ واقعی بِلّی کا فُضلہ ہے؟

By Akhtar Rasool
ستمبر 1, 2023 6 Min Read
0

بِلّی کے خواب میں چھیچھڑے کا محاورہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔۔ پتہ نہیں بلی کو خواب میں کبھی چِھچھڑے دکھائی دیے یا نہیں لیکن اس کی فرسٹ کزن نے ایک ایسا خواب ضرور دیکھا، جس کی تعبیر کافی ’کڑوی‘ ہے اور اس کے سامنے جو برتن گرا، اس میں دودھ نہیں کافی تھی، جو دنیا کو بھی کافی مہنگی پڑ رہی ہے

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کافی دنیا کا مشہور مشروب ہے، جس کی نمایاں اقسام میں بلیک، ایسپریسو، کیفے لائے، کیپو چینو، کیفے موچا سمیت دیگر شامل ہیں، لیکن یہاں ہم اس کی جس قسم کا تذکرہ کر رہے ہیں، اس کے ساتھ بہت سی عجیب باتیں جڑی ہوئی ہیں۔ انہیں جان کر صرف حیرت ہوتی، تب بھی خیر تھی لیکن کیا کیجئے کہ ساتھ میں کراہت بھی ہوتی ہے۔۔ اس سے پہلے کہ یہ پڑھ کسی کا اپنے ’محبوب مشروب‘ سے دل اچاٹ ہو، ہماری مانیے تو اسے پڑھنا یہیں روک دیجیے کہ آگے اس کا احتمال موجود ہے

نیشنل جیوگرافک ڈاٹ کام پر ’دنیا کی مہنگی ترین کافی کے پیچھے چھپا پریشان کُن راز‘ کی شہ سُرخی سے تفصیلی رپورٹ دی گئی ہے، جس میں ’سیوٹ کیٹ‘ اور کافی کے ناقابلِ یقین تعلق کا ذکر ہے

سیوٹ کیٹ بلی کی ایک قسم ہے، جس کو ’مشک بلاؤ‘ یا جنگلی بلی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی جسامت بلی جیسی جبکہ چہرہ کسی حد تک نیولے سے مشابہہ ہوتا ہے اور ماہرینِ حیوانات اس کا تعلق بلی کے خاندان سے ہی جوڑتے ہیں

سیوٹ کیٹ ایشیا اور افریقہ کے جنگلوں میں رہتی ہے یہ چیری سمیت دوسرے پھل شوق سے کھاتی ہے، تاہم گوشت خور بھی ہے۔ اس لیے کیڑے مکوڑے، مینڈک، چھوٹے سانپ اور چھپکلیاں وغیرہ بھی چٹ کر جاتی ہے

اس کو شرمیلا اور انسانوں سے دور رہنے والا جانور سمجھا جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت شکار کے لیے نکلتا ہے۔ مشک بلاؤ کہلانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے سرین میں نافہ ہوتا ہے، جس میں خوشبودار مادہ ہوتا ہے

انیسویں صدی میں ڈچ ایمپائر نے انڈونیشیا میں کافی کے باغات لگائے چونکہ وہاں سیوک کیٹ بہت زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہے، اس لیے انہوں نے کافی کے بیج کھانا شروع کیے اور فُضلہ بھی انہی باغات میں خارج کرتیں

یہ معلوم نہیں ہے کہ پہلی بار مشک بلاؤ کے فضلے سے حادثاتی طور پر کافی بنا کر پی گئی یا پھر منصوبہ بندی سے ایسا کیا گیا تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کے بعد اس ذائقے کے چرچے ہونے میں قطعاً وقت نہیں لگا اور چند ہی برسوں میں اس کی بڑھتی مانگ نے اس کی قیمت کو بھی پر لگا دیے

اس کے بعد باغات اور کھیتوں سے سیوٹ کیٹ کا فضلہ تلاش کیا جانے لگا، ان کو باغات میں آنے کا زیادہ سے زیادہ موقع دیا جانے لگا اور بات کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے عالمی کاروباری اداروں تک پہنچی

آج بھی دنیا کے کسی ایسے مقام پر جایا جائے جہاں امارت اپنے پُھریرے لہرا رہی ہو وہاں کوپی لواک کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے، جبکہ بڑے بڑے ہوٹل بھی اس کی فراہمی کا اہتمام رکھتے ہیں

رپورٹ کے مطابق کوپی لواک کے ایک کپ کی قیمت ایک 120 سے ڈیڑھ سو ڈالر (تقریباً 46 ہزار روپے) تک ہے

زرعی علاقوں میں سیوک کیٹ کا فضلہ جمع کرنے کے لیے باقاعدہ کارکن رکھے جاتے ہیں، جو مختلف علاقوں سے اسے اکٹھا کر کے مرکزی مقام یا گودام تک پہنچاتے ہیں جہاں اس کو دھویا جاتا ہے اور اچھی طرح صاف کرنے کے بعد دھوپ میں یا مشینوں کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے۔
اس کی شکل بلی کے فضلے جیسی ہی ہوتی ہے تاہم اس میں کافی کے ادھ کھائے اور پورے دانے نظر آتے ہیں۔ خشک ہونے کے بعد اس کو بعض دیگر مراحل سے گزار کر پیس لیا جاتا ہے اور تب یہ پانی یا دودھ میں ڈال کر پینے کے لیے تیار ہوتی ہے

ماہرین کہتے ہیں کہ سیوک کیٹ جو بیج کھاتی ہے، ان کو پوری طرح ہضم نہیں کر پاتی اور بیجوں میں موجود پروٹینز کی ساخت تبدیل کر دیتی ہیں، جس سے ان میں پائی جانے والی تیزابیت میں کمی آتی ہے جبکہ جسم سے ایسے اجزا بھی ان میں شامل ہو جاتے ہیں جو اس کے ذائقے کو ایک خاص رخ میں تبدیل کر دیتے ہیں جس کو زیادہ تر لوگ پسند کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نظام انہضام سے گزرنے کے باوجود جب فضلے کو دھو کر خشک کر لیا جاتا ہے تو اس میں مضر صحت اجزا شامل نہیں ہوتے بلکہ عام کافی کی طرح کیفین وغیرہ ہی ہوتے ہیں تاہم اس کا ذائقہ عام کافی سے اچھا خاصا مختلف ہوتا ہے

انڈونیشیا میں سیاحت بڑھنے کی ایک وجہ سیوک کیٹ کو بھی سمجھا جاتا ہے، وہاں لوگ اس سمیت دوسرے جانور دیکھنے اور کوپی لواک کی چُسکیاں لینے بھی جاتے ہیں

جب فُضلے کے نکتے سمیت دیگر عجیب باتیں ذائقے تلے دبتی گئیں تو جہاں کوپی لواک کی قیمت بڑھی وہیں کاروباری اداروں کو بھی یہ منافع بخش پہلو نظر آیا، جس کے بعد سیوٹ کیٹ کو پکڑا جانے لگا اور پنجروں میں بند کر کے ’منافع‘ وصول کرنے کی دوڑ شروع ہوئی

رپورٹ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے وائلڈ لائف یونٹ اور غیر کاروباری ادارے ورلڈ اینیمل پروٹیکشن کے ماہرین کے مشاہدات شامل کیے گئے ہیں۔ جن سے ایک خوفناک تصویر سامنے آئی

اداروں کے نتائج پر مبنی رپورٹ جرنل اینیمل ویلفیئر نام کے جریدے میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا تھا کہ بالی میں اس وقت کئی بلیوں کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں بند کر کے رکھا گیا اور ان کے سامنے کافی کے بیج ڈالے جاتے ہیں اور بلیاں صرف وہی کھانے پر مجبور ہیں۔ جس کے بعد وہ پنجروں میں ہی فضلہ خارج کرتی ہیں جن کو اکٹھا کرنے کے بعد پراسس کر کے کافی بنائی جاتی ہے

رپورٹ کے مطابق جہاں سیوٹ کیٹس کو رکھا گیا وہاں کا ماحول بہت خراب تھا۔ ہوا کے مناسب گزر کا انتظام تھا نہ ہی اتنی جگہ جو بلیوں کی معمول کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے موزوں ہو

محققین میں شامل نیل ڈی کروزے نے بالی کا دورہ کرنے کے بعد بتایا تھا ”ان میں سے کچھ پنجرے بہت چھوٹے تھے اور گند سے اٹے ہوئے تھے۔ بلیوں کو صرف کافی بینز اور چیریز کھانے کے لیے دی جاتی تھیں حالانکہ فطرتاً وہ گوشت خور ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری چیزیں بھی کھاتی ہیں، جو کہ ان کو مہیا نہیں ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے ان کی صحت پر برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ کچھ بلیاں انتہائی کمزور تھیں اور کچھ انتہائی موٹی ہونے کی وجہ سے چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھیں اور بری طرح کیفین کے زیرِ اثر تھیں۔“

رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ بلیوں کو صاف پانی تک دیا جا رہا تھا نہ دوسری بلیوں سے گھلنے ملنے کا موقع، جبکہ ان کو جہاں رکھا گیا تھا وہاں ٹریفک کا شور بھی بہت زیادہ تھا

فارمی یا جنگلی کافی میں فرق کی بات کی جائے تو اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں وہی فرق ہے جو فارم پر بننے والی اور قدرتی اشیا میں ہوتا ہے یعنی غذائیت اور تاثیر مختلف ہوتی ہے، تاہم زیادہ تر فروخت ہونے والی کافی پر ’جنگلی‘ کا ہی لیبل لگایا جاتا ہے

دنیا میں آج بھی کافی کے حصول کے لیے سیوٹ کیٹ کو فارمز پر رکھا جاتا ہے اور ان کی افزائش نسل بھی اسی مقصد کے تحت ہو رہی ہے کہ اس کی بدولت مہنگی ترین کافی حاصل کی جائے

پاکستان اور بھارت سمیت دیگر قریبی ممالک میں بھی سیوٹ کیٹ پائی جاتی ہے اور اپریل میں جس جانور نے پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس کر عملے کی ہی نہیں میڈیا والوں کی بھی دوڑیں لگوا دی تھیں اور بات ’خطرناک جنگلی جانور‘ سے ہوتی ہوئی ’بیرونی سازش‘ اور ’بدشگونی‘ جیسے تجزیوں تک پہنچی تھی، جس کے بعد محکمہ جنگی حیات کی جانب سے بتایا تھا کہ وہ بھی سیوک کیٹ ہی تھی، جو ایک بے ضرر جانور ہے، جس کو بعدازاں ’حراست‘ میں لے لیا گیا تھا۔

Tags:

civet coffeeCoffeeexpensive coffeekopi luwak coffeemost expensivemost expensive coffeemost expensive coffee in the worldpeople try the world's most expensive coffeepoop coffeethe world's most expensive coffeeus ca most expensive coffee (cr)world most expensive coffeeworld most expensive coffee in hindiworld most expensive coffee price in indiaworld's most expensive coffeeworld's most expensive coffee - taste test!
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بنگلادیش کے نوبل انعام یافتہ پروفیسر یونس سیاست میں آنے کے بعد مقدمات کی زد میں۔۔ نوبل انعام یافتہ رہنماؤں کا اظہار تشویش

Next

کیا دہلی میں پاکستانی شہروں سے منسوب دکانیں محفوظ ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme