Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

راجہ کولندر کی ڈائری، آدم خور قاتل اور 14 نام

By Akhtar Rasool
ستمبر 21, 2022 4 Min Read
0

یہ سنہ 2000 کے آخری دنوں کی بات ہے، جب بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر الہ آباد (اب پریاگراج) سے ہندی اخبار سے وابستہ ایک صحافی دھیریندر سنگھ شہر سے گاؤں اپنے گھر جاتے ہوئے اچانک غائب ہو گئے

وہ دفتر میں موجود اپنے ساتھیوں کو یہ بتا کر نکلے تھے کہ وہ اپنی حاملہ بیوی کی عیادت کر کے دو دنوں میں واپس آ جائیں گے لیکن جب وہ الہ آباد سے نکلنے کے دو دن بعد بھی گاؤں نہیں پہنچے تو خاندان والوں اور دوستوں نے پولیس سے رابطہ کیا

یہاں سے ایک ایسی کہانی کا آغاز ہوا، جو سننے میں تو شاید کوئی افسانہ لگے لیکن ہے سو فیصد حقیقت پر مبنی

اس کہانی پر نیٹ فلکس نے ایک بھارتی پروڈکشن ہاؤس کے تعاون سے تین قسطوں پر مشتمل ایک ڈاکومینٹری سیریز ’دا انڈین پریڈیٹر: ڈائری آف آ کلر‘ بنائی ہے، جس میں اناؤ جیل میں موجود قاتل سے بھی بات چیت کی گئی ہے

صحافی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر دھیریندر کے موبائل فون کی مدد سے ایک ایسے نمبر تک پہنچ جاتے ہیں، جو ضلع کونسل کی ایک منتخب خاتون رکن کا ہوتا ہے

جانچ پڑتال پر معلوم ہوتا ہے کہ دھیریندر سنگھ اور خاتون رکن کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے اور خاتون کا شوہر راجہ کولندر بھی گمشدہ صحافی کو جانتا ہے

تحقیقات کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ دھیریندر کا موبائل دراصل راجہ کولندر کی گاڑی میں موجود ہے

راجہ کولندر اور اس کا برادر نسبتی پولیس کی حراست میں قبول کر لیتے ہیں کہ انہوں نے ہی دھیریندر کو راجہ کولندر کو اپنے فارم پر قتل کیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے تین مختلف مقامات پر پھینک دیے

راجہ کولندر کی ملکیت فارم پر جب پولیس پہنچتی ہے تو انہیں وہاں ایک تجوری میں ملتی ہے، ایک سرخ ڈائری جس میں چودہواں نام دھیریندر کا ہوتا ہے

یہاں پولیس کے لیے یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر یہ مزید تیرہ نام کن لوگوں کے ہیں؟

مزید آگے چل کر پولیس کو علم ہوتا ہے کہ قاتل کا نام راجہ کولندر تو ہے لیکن یہ اس کا اصلی نام نہیں۔ اس کا اصلی نام رام نرنجن ہے اور اس نے اپنا نام راجہ کولندر خود رکھا ہے

ڈاکومینٹری میں کئی حقیقی کرداروں سے بات کی گئی ہے، جس میں راجہ کولندر کے بچے، دھیریندر کے بیٹے، کیس کے تفتیشی افسر شامل ہیں جبکہ کلینیکل سائیکالوجسٹ اور اینتھروپولوجسٹ سے بھی اس کیس سے متعلق بات چیت کی گئی ہے

ڈاکومینٹری میں دکھائے گئے کلینیکل سائیکالوجسٹ اور اینتھروپالوجسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ رام نرنجن عرف راجہ کولندر دراصل ذہنی مرض کا شکار ایک ایسا شخص تھا، جو ’تصوراتی دنیا‘ میں رہتا ہے اور خود کو راجہ سمجھتا ہے

رام نرنجن کا نام راجہ کولندر کیوں پڑا؟ اس کا تعلق کول قبیلے سے ہے، جو کئی برسوں تک بھارتی ریاستوں اتر پردیش اور مدھیا پردیش کے جنگلوں میں رہنے کے بعد اب شہری علاقوں کا رخ کر رہا ہے

شاید بھارتی معاشرے میں کول قبیلے کو وہ مقام نہیں ملا، جو رام نرنجن کے مطابق انہیں ملنا چاہیے تھا، اسی لیے اس نے خود کو ’راجہ کولندر‘ کہنا شروع کر دیا

اس نے بیوی کا نام تبدیل کرکے پھولن دیوی رکھ دیا تھا اور اسے ضلع کونسل کا رکن بھی منتخب کروایا

خیال رہے پھولن دیوی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک ڈکیت تھیں، جو بعد میں بھارتی لوک سبھا کی رکن بھی رہیں

جیل میں ڈاکومینٹری کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں راجہ کولندر نے بتایا کہ وہ خود بھی 2001 میں لوک سبھا کا انتخاب لڑنا چاہتا تھا

رام نرنجن نے ان لوگوں کا قتل بھی شاید اسی لیے کیا، کیونکہ وہ خود کو واقعی راجہ سمجھتا تھا اور دماغی طور پر خود کو ’منصف‘ سمجھ بیٹھا تھا

اس شخص نے اپنے تین بچوں کے نام عدالت، جمانت (ضمانت) اور اندولن (بغاوت) رکھے ہوئے تھے

ڈاکومینٹری میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے ساتھ کام کرنے والے دو افراد کا بھی قتل کیا اور ان کے سر دھڑ سے الگ کیے اور ان کے دماغ نکالے اور ابال کر کھا گیا

راجہ کولندر پر آدم خور ہونے کا بھی الزام ہے لیکن آج تک یہ الزامات اس پر ثابت نہیں ہو سکے۔ دھیریندر سنگھ کے قتل پر اسے اور اس کے سالے کو سزا ہو گئی تھی لیکن اسے بھی اس نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے

ڈاکومینٹری میں ایک بات جو راجہ کولندر کی وحشی ذہنیت کو واضح کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے معین نامی اپنے مسلمان دوست کو پیسوں کے معاملے پر قتل کیا اور اس کی لاش تالاب میں پھینک دی

لاش تالاب میں پھینکنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک مسلمان شخص کی لاش دفنائی جائے اور ’اس کی آتما کو شانتی ملے‘

راجہ کولندر مختلف جیلوں میں رہا اور ایک جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق وہ اپنے جیل کے کمرے میں ایک ایسی ہندو دیوی کی پوجا کیا کرتا تھا، جسے کالے جادو سے جوڑا جاتا ہے

رام نرنجن عرف راجہ کولندر کا دماغی طور پر ’تصوراتی دنیا‘ میں رہنا اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نے ڈاکومینٹری کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کے بھگوان اس سے باتیں کیا کرتے ہیں

تاہم راجہ کولندر اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے سیاست میں آنے سے روکنے کے لیے اس کے خلاف سازش ہوئی ہے

کرائم اور تھرلر پر مبنی فلمیں دیکھنے والوں کو یہ ڈاکومینٹری ضرور پسند آئے گی کیونکہ یہ صرف کہانی نہیں بلکہ اس میں حقیقت کا عنصر بھی شامل ہے۔

Tags:

Cannibal KillerDiaryRaja KolanderThe Diary of Raja Kolander
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کرسٹیانو رونالڈو نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں کیا کہا؟

Next

میچ پاکستان اور بھارت کا اور وہ بھی دبئی میں، لیکن پھڈا برطانوی کاؤنٹی لیسٹر میں!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme