Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

سائنسدان ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔۔!؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 11, 2023 3 Min Read
0

محققین کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے، جسے ’لونر اینتھروپوسین‘ (چاند پر انسانی سرگرمی کے اثرات کا دور) کہتے ہیں

محققین کہتے ہیں ”انسان چاند کی سطح کو تبدیل کر چکے ہیں اور اس کی سطح کو اس حد تک تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ اسے چاند کا نیا دور سمجھا جائے۔“

مزید یہ کہ انسان آنے والے برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مزید خلائی جہاز چاند پر بھیجے جائیں گے اور ایک بار پھر انسان چاند پر اتریں گے

محققین کے مطابق، انسانوں کے ہاتھوں ہونے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے یہ واضح کرنے میں مدد ملے گی کہ چاند کی سطح ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی اور انسانوں نے اس میں اہم تبدیلیاں کی ہیں

چاند کے نئے دور کے موضوع پر مضمون نیچر جیو سائنس نامی جریدے کے اس حصے میں شائع ہوا ہے، جس میں محققین اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں

محققین کے مطابق، چاند کے نئے دور کے آغاز کو 1959 سے سمجھا جا سکتا ہے، جب روس کا لونا ٹو نامی خلائی جہاز وہ جہاز تھا، جو سب سے پہلے چاند کی سطح پر اترا

تحقیق کے سرکردہ مصنف اور یونیورسٹی آف کنساس کے جیولوجیکل ریسرچر جسٹن ہول کومب کہتے ہیں ”یہ خیال زمین پر انسانی سرگرمیوں پر ہونے والی بحث سے ملتا جلتا ہے، یعنی یہ پتا لگانا کہ انسانوں نے ہمارے سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے“

”زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے اثرات ماضی میں کسی موقعے پر سامنے آنا شروع ہوئے، چاہے وہ ہزاروں سال پہلے کا زمانہ ہو یا 1950 کی دہائی“

وہ کہتے ہیں ”اسی طرح چاند کے معاملے میں ہمارا استدلال ہے کہ وہاں انسانی سرگرمیوں کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، لیکن ہم بڑے پیمانے پر نقصان یا اس کی شناخت میں تاخیر کو روکنا چاہتے ہیں، اس سے پہلے کہ ہم انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے واضح آثار دیکھنا شروع کر دیں۔ تب تک بہت دیر ہو جائے گی“

انسان پہلے ہی چاند کی سطح پر بہت سا ملبہ چھوڑ چکا ہے، جس میں گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں، جو پہلی بار چاند پر اترنے کے بعد وہاں گرائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انسانی فضلہ اور دیگر کچرا بھی شامل ہے

مزید برآں انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انسان چاند کی سطح پر کھدائی کرنے اور یہاں تک کہ وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں

ہول کومب کے مطابق ”انسانی سرگرمیاں قدرتی عوامل کے مقابلے میں چاند کی سطح کو کہیں زیادہ متاثر کر رہی ہیں۔۔ ان سرگرمیوں میں مٹی اور پتھر جسے ہم ’ریگولتھ‘ کہتے ہیں، کو حرکت دینا شامل ہے۔ عام طور پر یہ کام دوسرے عوامل سمیت شہابیوں کے ٹکرانے کے اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ تاہم جب ہم روورز ، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں تو وہ چاند کی بالائی سطح پر نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں“

وہ مزید کہتے ہیں ”نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر نامہ پچاس سال میں مکمل طور پر بدل جائے گا، متعدد ممالک آگے آئیں گے، جس سے متعدد مسائل پیدا ہوں گے۔ ہمارا مقصد اس مفروضے کو تبدیل کرنا ہے کہ چاند تبدیل نہیں ہوتا اور اس بات کو نمایاں کرنا ہے کہ انسان پہلے سے اسے کیسے متاثر کر چکے ہیں، اس وقت کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہمارے چاند پر اثرات پر بحث کا آغاز کیا جائے۔“

Tags:

anthropoceneanthropocene (geologic time period)anthropocene epochartificial intelligence: unleashing a new era of space exploration!aviationchang'e-5 lunar missionchina lunar missioncoming of age in the anthropocenecosmic explorationdoraemon chronical of moon explorationexplorationexploration goalsexplorationpvgalaxy explorationhuman-robotic explorationinspirationlunarlunar baselunar explorationlunar gatewaylunar geologylunar landerlunar missionlunar roverlunar roving vehiclelunar sampleslunar surface studieslunarexplorationlunarexploration2023marsexplorationmarsexplorationplansnasa into new era of universe explorationnasa moon explorationnasa orionnation-worldnationalnational newsresearchers say the moon is in a new era: the lunar anthropocene.space explorationspaceexplorationspaceexplorationupdatethe anthropocene extinctionthe anthropocene splitthe anthropocene storythe rise of commercial space travel: a new era in explorationthe wake of anthropocenewelcome to the anthropocenewelcome to the anthropocene trackwhat is anthropocene and why does it matterwhat is anthropocene epoch
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فلسطینی نژاد برطانوی سرجن نے غزہ سے واپسی پر جنگی جرائم یونٹ کو کیا گواہی دی؟

Next

ایک بینک ڈکیت کی کہانی، مرنے سے پہلے جن کے انکشاف نے بیٹی کی زندگی بدل کر رکھ دی!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme