Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سعودی عرب میں پہلی بار لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگوں کا ردعمل کیا تھا؟

By Akhtar Rasool
جون 25, 2022 2 Min Read
0

لاؤڈ اسپیکر نے معاشرے کے سرکردہ رہنماؤں کو سیاسی، سماجی اور ثقافتی اور مذہبی دائروں میں اثر و رسوخ حاصل کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے

لاؤڈ اسپیکر کو کسی زمانے میں قابل ذکر افادیت کی تکنیکی ایجاد کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مساجد کے اونچے میناروں میں نصب لاؤڈ اسپیکر (مکبیرِ صوت) پچھلی کئی دہائیوں میں اس کی ظاہری عمارت کا لازمی حصہ بن چکا ہے

تاہم علمائے کرام کی جانب سے ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد اس نے مذہبی ماحول کے ایک لازم و ملزوم حصے کے طور پر قبولیت کیسے حاصل کر لی

سعودی عرب بھی میں پہلی بار جب لاؤڈ اسپیکرز کا استعمال کیا گیا، تو اس پر لوگوں کا رد عمل شدید تھا

اس ضمن میں سعودی عرب کے ایک مورخ ’محمد القشعمی‘ نے سعودی ٹی وی چینل کو اپنی یاداشت بیان کرتے ہوئے بتایا ”ریاض میں پہلے لاؤڈ اسپیکر کے تجربے کے دوران لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے تھے“

عاجل نیوز کے مطابق سعودی مورخ کا کہنا تھا کہ 1973ع میں شاہ عبدالعزیز کے انتقال کے بعد پہلی بار ریاض شہر میں لاؤڈ اسپیکر کے تجربے کے دوران لوگوں کا رد عمل شدید تھا، جس وقت لاؤڈ اسپیکر سے آواز بلند ہوئی لوگ پریشان ہو کر چھتوں پر چڑھ گئے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے“

’القشعمی‘ کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر لوگوں نے لاؤڈ اسپیکر کو قبول نہیں ہی کیا بلکہ اسے ’منکر‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیا

ریڈیو نشریات کے بارے میں سوال پرالقشعمی کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں ہر ایسی چیز کا استعمال حرام تھا، جس سے وہ واقف نہیں تھے اور اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔

Tags:

Loud SpeakerRadioReligiousSaudi Arabia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اسقاط حمل کے متعلق امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ۔۔۔ مقدمے کا پس منظر کیا ہے؟

Next

پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکس چور خود حکمران طبقہ، ٹیکس چوری کیسے کرتا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme