Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

سمندر میں پلاسٹک کا کچرا نئی اینٹی بائیوٹک کا ذریعہ بن سکتا ہے، تحقیق

By Akhtar Rasool
جون 14, 2022 2 Min Read
0

پلاسٹک کا کچرا تیزی کے ساتھ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور یہ ان جگہوں پر بھی پایا گیا ہے، جہاں باقی دنیا کی نسبت آبادی بہت کم ہوتی ہے جیسے کہ انٹارکٹیکا وغیرہ

ماحولیات کے لیے شدید خطرے کا باعث بننے والے اس عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنس دان ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور اس پر قابو پانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

اسی تناظر میں سائنس دان اب اس بیکٹیریا پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جو سمندر میں تیرتے پلاسٹک پر ہوتا ہے اور اینٹی بائیوٹکس کی فراہمی کا ایک نیا ذریعہ بن سکتا ہے

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں قائم نیشنل یونیورسٹی کے محققین نے سمندر میں تیرتے پلاسٹک کے ٹکڑوں پر موجود اینٹی بائیوٹک بنانے والے پانچ بیکٹریا کو علیحدہ کیا اور ان کی متعدد بیکٹریل اہداف کے خلاف آزمائش کی

محققین نے دیکھا کہ یہ اینٹی بائیوٹکس عام بیکٹیریا کے ساتھ اینٹی بیکٹیریا کی مزاحمت کرنے والے سُپر بگ کے خلاف بھی مؤثر تھے

واضح رہے کہ سپربگ بیماریاں پھیلانے والے ان بیکٹیریاز کو کہتے ہیں، جو بہت کم ادویہ سے ختم ہوتے ہیں اور ان کی ادویہ سے مزاحمت بڑھ کر جان لیوا ہو چکی ہے

ایک اندازے کے مطابق ہر سال ایک کروڑ تیس لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک کا کچرا سمندر میں شامل ہوتا ہے، جس میں پلاسٹک کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے لے کر مائیکرو پلاسٹکس تک شامل ہوتے ہیں

حیاتیات اس پلاسٹک کو استعمال کرتے ہوئے اپنے وجود کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے لیے پورا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں

جہاں اس بات کے تحفظات ہیں کہ پلاسٹک کے اوپر اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا بن سکتے ہیں، وہیں کچھ بیکٹیریا ایسے بھی ہیں جو نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے کے قابل ہو سکتے ہیں

یہ اینٹی بائیوٹکس مستقبل میں سپر بگ جیسے اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا کے خلاف استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ سائنسدانوں کی مذکورہ بالا تحقیق اسی حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔

Tags:

Anti BioticPlastic
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

روس نے رعایتی نرخوں پر پیٹرول کی برآمدات سے 93 ارب ڈالر کمائے

Next

کراچی: بلوچ طلبا کی گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے 28 افراد زیر حراست دو جبری گمشدہ بلوچ طلبا بازیاب

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme