Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سندھ کے عجائب گھر خود آثار قدیمہ بننے لگے

By Akhtar Rasool
مئی 19, 2021 2 Min Read
0

کراچی :  عجائب گھروں کا قیام آثار قدیمہ سے دریافت کے گئے نوادرات، تاریخ، فن اور ثقافت کو محفظ بنانے کے مقصد کے تحت عمل میں لایا جاتا ہے لیکن جب ہم سندھ میں قائم عجائب گھروں کی عمارات پر نظر ڈالتے ہیں تو ان سے وابستہ تمام مذکورہ مقاصد دھندلانے لگتے ہیں

سندھ ان عجائب گھروں کی تعمیر کو مکمل ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں، جبکہ بہت سی عمارات کئی برس گزر جانے کے باوجود آج بھی تکمیل کے مراحل سے گزر رہی ہیں

اس حوالے سے سندھ کے محکمۂ ثقافت، سیاحت اور آثار قدیمہ کے افسران کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے ان عجائب گھروں کے لیے مہتمم اور نائب مہتمم کی تعیناتی بھی کر دی ہے، تاہم تعینات ہونے والے یہ افراد یا تو دیگر مقامات اور عہدوں پر اپنے فرائض انجام دے رہیں یا بغیر کوئی کام کیے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں

اس بارے میں ایک سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ شہر میں بننے والا شہید بے نظیر بھٹو میوزیم تقریبا نو سال قبل مکمل ہوا تاہم آج تک یہاں کسی بھی قسم کے کوئی نوادر اور تاریخی اشیا نہیں رکھی گئیں اور یہ عمارت تقریباً خالی پڑی ہوئی ہے

اسی طرح صرف ضلع خیرپور میں چار نئے عجائب گھر تعمیر کیے گئے، جن میں خیرپور اسٹیٹ میوزیم، کوٹ ڈیجی میوزیم، کھوڑا میوزیم اور کمال ڈیرو میوزیم شامل ہیں تاہم یہ تمام آج تک ویران پڑے ہوئے ہیں

ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان عمارت میں سے ہر ایک کی تعمیر پر تقریباً چھ کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے

علاوہ ازیں ان میوزیم کے امور کی دیکھ بھال کے لیے ڈائریکٹر جنرل میوزیمز کا عہدہ بھی تخلیق کیا گیا، تاکہ کسی کو اس عہدے پر تعینات کرکے ان میوزیم کا باقاعدہ آغاز کیا جاسکے تاہم آج تک اس عہدے پر کوئی تعیناتی نہیں ہو سکی ہے

اس بارے میں سندھ محکمۂ آثار قدیمہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل قاسم علی قاسم کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف نئے تعمیر ہونے والے عجائب گھروں کی حالت خراب ہے، وہیں جو عجائب گھر پہلے سے قائم ہیں ان کی حالت بھی بہت خراب ہے

محکمۂ آثار قدیمہ سندھ کے موجودہ ڈائریکٹر فتح شیخ نے ایکسپریس کو بتایا کہ محکمے کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہیں کہ وہ نئے عجائب گھروں کے لیے آثار خرید سکیں یا پہلے سے موجود آثار کو ان عجائب گھروں تک منتقل کیا جا سکے.

انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمۂ خزانہ سندھ سے درخواست کی ہے کہ وہ چار کروڑ بیس لاکھ روپے فوری طور پر جاری کر دے تاکہ یہ کام انجام دیا جاسکے تاہم آج تک اس درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا گیا.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ کی سترہ سرکاری یونیورسٹیاں چھ ارب روپے کے مالی خسارے سے دوچار

Next

وفاقی وزرا نے بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme