Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینکالم

سندھ کے پہاڑوں پر قدیم تحریروں کی نقش نگاری

By Akhtar Rasool
مارچ 24, 2022 4 Min Read
0

پاکستان سمیت دنیا بھر سے پتھروں پر نقش نگاری دریافت ہوئی ہے۔ پاکستان کا صوبہ سندھ بھی اس نقش نگاری میں مالا مال ہے۔ سندھ میں پتھروں پر نقش نگاری میں دوسری نقش نگاری کے ساتھ ساتھ قدیم تحریریں بھی ملی ہیں۔ یہ تحریریں ضلع دادو میں کیرتھر پہاڑی سلسلے اور ٹھٹھہ کے قریب ٹھارو پہاڑی پر زیادہ دریافت ہوئے ہیں۔

سندھ کا پہاڑوں پر نقش نگاری کا فن خاص طور پر پاکستان کے دیگر صوبوں میں دریافت ہونے والے فن سے مختلف اور منفرد ہے۔ سندھ میں پتھروں پر قدیم نقوش کے فن میں قدیم رسم الخطوں کے کچھ حروف اور جملے نقش کیے گئے ہیں۔ پتھروں پر نقش نگاری کے تین اہم موضوعات نظر آتے ہیں
1. مختلف جانوروں کی نقش نگاری
2. بدھ مت، ہندو مت اور زرتشتی مذہب کی مذہبی علامتوں کی عکاسی اور
3. پہاڑوں پر قدیم تحریریں نقش ہیں

ان تحریروں میں موہنجودڑو سے ملنے والی مہروں کی تحریر یا انڈس اسکرپٹ نقش ہے, جو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے شہری معاشرے اور اس کے قصبوں، دیہاتوں اور سندھ کے دیگر دور دراز علاقوں کے درمیان تعلق کا ثبوت بھی سمجھا جا سکتا ہے

معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سندھ کے دور دراز علاقوں میں انڈس اسکرپٹ یا وادیٔ سندھ کی تہذیب کا تحریری نظام بھی جاری تھا۔ سندھ کے پہاڑوں پر اس فن میں پایا جانے والا انڈس اسکرپٹ جیسا ایک رسم الخط یا اسکرپٹ ایسا بھی ہے جو انڈس سیل اور سرسوتی رسم الخط کے ساتھ ساتھ براہمی میں دریافت ہونے والے اسکرپٹ سے بالکل مختلف ہے۔ اس طرح کی تحریر کو مختلف (Variant) انڈس رسم الخط کہہ سکتے ہیں

ایسا لگتا ہے کہ یہاں سندھ کے ان علاقوں میں انڈس اسکرپٹ اور سرسوتی رسم الخط کے مختلف نمونے رائج تھے۔ سنسکرت، براہمی اور دیگر ہند آریائی رسم الخط کی ترقی اور ارتقا سے پہلے یہ مختلف رسم الخط رائج تھے۔ غالباً، یہ رسم الخط سندھ کی تہذیب کے تیزی سے معدوم ہونے کے بعد ویدک دور سے پہلے یا اس کے دوران انڈس رسم الخط سے بنی ہوگی جسے ہم ویرینٹ انڈس اسکرپٹ کا نام دے سکتے ہیں۔ جوناتھن مارک کینایر کے مطابق انڈس اسکرپٹ کے مختلف نمونے مروج تھے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ براہمی یا ہندوستان کی دیگر رسم الخط انڈس اسکرپٹ یا رسم الخط کی ویرینٹ شکل سے بنے ہوں گے

ڈیوڈ فرالے کا خیال ہے کے انڈس اسکرپٹ 600 قبل از مسیح تک رائج تھا، جس کی جگہ براہمی رسم الخط نے لی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنسکرت اور دوسری زبانیں براہمی میں لکھی گئیں۔ بدھ مت نے پالی زبان کو اہمیت دی اور موریا خاندان نے براہمی اور خروشتی رسم الخط کو اپنایا۔ غالباً اس وجہ سے انڈس اسکرپٹ معدوم ہو کیا اور ابتدائی براہمی، خروشتی اور پالی اسکرپٹ رائج ہونے سے مہروں پر ملنے والا انڈس رسم الخط بالکل مٹ کر معدوم رہ گیا

سندھ کے پہاڑوں پر انڈس اسکرپٹ کی مہروں کی بہت سی علامتیں یا تحریریں نقش ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے وادیٔ سندھ کی تہذیبی دور میں سندھ کے تجارتی قافلے یہاں سے گزرتے اور مغربی ممالک کی طرف جاتے تھے۔ یہاں بعض جگہوں پر علامیں الٹی (Inverse) نقش ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ کچھ پہاڑیاں ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر بکھری ہوئی ہیں جس کی وجہ سے انڈس اسکرپٹ کی علامتیں الٹی دکھائی دیتی ہیں۔ ویسے بھی الٹی علامتیں موہنجودڑو کے تحریری نظام میں بھی ملتی ہیں

انڈس رسم الخط کی کچھ علامتیں ٹھیک طرح نقش نہیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ پتھر پر نقاشی کے عمل کے دوران نقش کرنے والے کو مشکل در پیش آئی ہوگی کیوں کہ پتھر پر نقش کرنا ذرا مشکل ہے

سندھ پر موریا خاندان سے لے کر برہمن خاندان کی 712ع تک حکومت کے دور تک شاید یہاں نقش انڈس اسکرپٹ سے کوئی واقف نہیں تھا۔ اس لئے براہمی میں سنسکرت، براہمی رسم الخط، خروشتی رسم الخط اور پالی رسم الخط استعمال ہوئے اس لئی ان کی تحریریں کثیر تعداد میں ملی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ سندھ میں کسی بھی ماہر یا محقق نے پہلے سندھ کے پہاڑوں پر نقش کردہ انڈس اسکرپٹ، سنسکرت، خروشتی یا پالی رسم الخط تلاش نہیں کیا اور نہ ہی انہیں یہ تحریریں نظر آئیں۔ میں نے پہلی بار تحقیق کے ذریعے انڈس اسکرپٹ ایکسپلور کیا اور کتاب ’انڈس اسکرپٹ ان اسٹون‘ لکھی، جو 2019ع میں شایع ہوئی ہے

میں نے انڈس اسکرپٹ کی کھوج میں پانچ سال لگائے۔ انڈس اسکرپٹ کو دو کسوٹیوں پر پرکھا ہے۔ ایک یہ کہ سندھ کے سیاحت، ثقافت اور نوادرات ڈپارٹمنٹ نے آسکو پارپولا کی تحقیق کی روشنی میں کمپیوٹر کے یونیکوڈ کے ذریعے ’این ایف ایم: انڈس اسکرپٹ فانٹ، ( NFM:Indus Script font)‘ بنایا ہے جو انڈس اسکرپٹ کی 1800 علامتوں پر مبنی ہے۔ اس بنائے گئے فانٹ کی مدد یا حوالے سے پتھر پر نقش انڈس اسکرپٹ کی علامت کو ثابت کیا ہے۔ دوسری کسوٹی خود انڈس سیل ہے جس پر علامت ہے اس کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ پتھر پر وہ ہی انڈس اسکرپٹ نقش ہے

سندھ کے پہاڑوں پر نقش شدہ انڈس رسم الخط، انورس انڈس رسم الخط اور قدیم برہمی، پالی اور خروشتی کے علامتی الفاظ، جملے اور خطوط یا حروف کی روشنی میں، یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ قدیم تحریریں کانسی کے زمانے (Bronze Age) ، لوہے کے زمانے (Iron Age) اور بعد کے دور میں نقش گئی ہوں گی.

بشکریہ : ہم سب و مصنف

Tags:

Buddha ScriptHistory of SindhIndus ScriptRock CarvingSindh Buddha Period
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بی سی سی آئی: پاکستانی بینکار کا قائم کردہ بینک ، جو ’فراڈ‘ ثابت ہوا!

Next

سگمنڈ فرائڈ کے زمانے میں ویانا کے حالات

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme