Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سندھ ہائی کورٹ نے جیلوں میں جعلی قیدیوں کو رکھنے سے متعلق آئی جی جیل خانہ کو طلب کرلیا

By Akhtar Rasool
نومبر 3, 2020 2 Min Read
0

سندھ ہائی کورٹ نے جیلوں میں بائیو میٹرک نظام نہ ہونے کی وجہ سے جعلی قیدیوں کو رکھنے سے متعلق سیکریٹری محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے

تفصیلات کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کے روبرو جیل کے اندر بائیومیٹرک نظام نہ ہونے کی وجہ سے جعلی قیدیوں کو رکھنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی

دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ جیلوں میں بائیو میٹرک نہ ہونے سے قیدیوں کی جانچ پڑتال نہیں ہو سکتی۔ ایک قیدی کی جگہ دوسرا قیدی سزا کاٹ رہا ہوتا ہے۔ ملزمان اپنی جگہ کسی اور کو جیل کے اندر رکھواتے ہیں

اس ضمن میں محکمہء داخلہ سندھ، آئی جی جیل خانہ جات اور اے آئی جی لیگل نے رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ اے آئی جی لیگل کی رپورٹ کے مطابق پہلے کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی جیلوں کو آپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ حیدر آباد اور نوشہرو فیروز میں ابھی تک نہ اسٹاف ہے اور نہ ہی کمپوٹرز ہیں

اسسٹنٹ پراسیکیوٹر بیرسٹر شہریار مہر نے موقف دیا کہ جیلوں میں قیدیوں کا بائیو میٹرک کا جدید سسٹم نصب کیا جارہا ہے۔ سندھ کی تمام جیلوں میں جدید نظام سے قیدیوں کی مانیٹرنگ ہوگی۔ پہلے جعل سازی کے ذریعے دوسرے لوگوں کو قیدی بنا کر کئی کئی سال جیل میں رکھا جاتا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب سے جعل سازی سے کسی کو جیل میں قید نہیں کیا جاسکے گا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے درخواست ٹرسٹ کی طرف سے ہے لیکن فائدہ سندھ حکومت کو ہی ہوگا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے اس میں پولیس اور محکمہ داخلہ کا ہی فائدہ ہے۔ اگر آپ نے پورے صوبے میں بائیو میٹرک کروا دیا تو آپ کو ہی آسانی ہوگی

عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے سندھ حکومت کی رپورٹ پر درخواست گذار کو جواب الجواب جمع کرنے کی ہدایت کردی

عدالت نے نادرا سے بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کردی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے افسران کو عدالت طلب کرنے کا مقصد معاونت حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ کیس ٹھیک سمت میں چل سکے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان میں کورونا ویکسین کے کلینکل ٹرائل سے متعلق بڑی خبر

Next

تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی یا نہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme