Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینوڈیوز

سنگت میگ وڈیو رپورٹ: کیا کووڈ ویکسین کے بعد جسم کے مقناطیس کی طرح کام کرنے کی بات سچ ہے؟

By Akhtar Rasool
جون 13, 2021 3 Min Read
0

اگرچہ کووڈ ویکسین کے اثرات کے بارے میں بہت سی باتیں چاروں اطراف پھیلی ہوئی ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ انھیں بخار ہوا تو کوئی کہتا ہے کہ انھیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوا جبکہ بہت سے لوگوں کو اس سے مختلف قسم کا احساس ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ معمول سے زیادہ کچھ مختلف محسوس نہیں کرتے ہیں

مگر بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے ضلعے ناسک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ویکسین لینے کے بعد خود میں رونما ہونے والے چونکا دینی والی تبدیلیوں کا دعویٰ کیا ہے

ناسک کے اروند سونار کے مطابق ویکسین کی دو خوراکوں کے بعد ان کا جسم مقناطیس کی طرح کام کر رہا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن نہیں ہے

اپنے دعوے کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے اروند سونار نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی ہے جس میں سکے اور لوہے کی چیزیں ان کے جسم سے چپکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے

اروند سونار کا کہنا ہے کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ یونہی گفتگو کر رہا تھا کہ اس نے مجھے ایک خبر کے بارے میں بتایا کہ ویکسین لینے کے بعد لوہےکی اشیاء لوگوں سے چپکنے لگتی ہیں۔ میں نے بھی جانچنے کے لیے تجربہ کیا تو مجھے پتا چلا کہ ایسا ہو رہا ہے

اروند سونار کے مطابق انھوں نے چار پانچ دن قبل ایک نجی ہسپتال میں کووڈ ویکسین کی دوسری خوراک لی تھی اور انھیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں رہا

اروند سونار نے کوویشیلڈ ویکسین کی پہلی خوراک 9 مارچ کو اور دوسری خوراک 2 جون کو لی۔ دس سال قبل ان کی بائی پاس سرجری ہوئی تھی۔ وہ دو سال سے شگر کے بھی مریض ہیں

جب لوہے اور فولاد کی چیزیں اروند سونار کے جسم سے چپکنے لگیں تو انھوں نے اپنے ڈاکٹر کو اس کے بارے میں بتایا۔

اروند سونار کے اس دعوے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے آندھرشردھا نرمولن سمیتی کے ڈاکٹر حامد دابھولکر کا کہنا ہے کہ جسم سے سکوں اور برتنوں کا چپکنا طبیعیات کے قانون کے مطابق ممکن ہے۔ اگر جلد میں نمی ہو اور چپکنے والی جگہ پر کوئی خلا ہو تو یہ ممکن ہے۔ لیکن اسے ویکسینیشن سے منسلک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے کئی بار اس طرح کے دعووں کی حقیقت سامنے لا چکے ہیں

حامد دابھولکر کے مطابق ویکسینیشن مہم کووڈ کے خلاف ایک اہم ہتھیار ہے لہٰذا اس کے بارے میں کسی بھی سنسنی خیز دعوی سے اجتناب کیا جانا چاہیے

جے جے میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر تتیاراوے لہانے نے بھی اروند سونار کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ویکسین دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد کو دی جاچکی ہے۔ کووڈ ویکسین اور اسٹیل اور لوہے کی چیزوں کا جسم سے چپکنے کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے۔ اسے ویکسین کے اثرات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ویکسین میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے

ناسک کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشوک تھوراٹ کا کہنا ہے کہ انھیں میڈیا سے اس معاملے کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔ ہم اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیج رہے ہیں جس کے بعد ہم اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کریں گے۔ پھر حکومتی ہدایات کے مطابق اس معاملے پر غور کیا جائے گا. ایسی باتیں کووڈ ویکسین کا نتیجہ نہیں ہو سکتی ہیں

انھوں نے کہا کہ میرے پورے طبی کیریئر میں آج تک ایسا معاملہ کبھی سامنے نہیں آیا۔ سونار کے جسم میں اس تبدیلی کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔ یہ تحقیق کا موضوع ہے

ویسے سونار کے دعوے کے منظرعام پر آنے کے بعد انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک رکن سمیر چندراتے نے کہا ہے کہ کسی شخص کے جسم سے دھات چپکنے کا مطالعہ دھات کے ماہرین کو بھی کرنا چاہیے

سمیر چندراتے کا کہنا ہے کہ اس کا کووڈ ویکسین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ویکسین لینے سے درد اور بخار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو اسے ویکسین کا نتیجہ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسی افواہوں سے ویکسینیشن مہم متاثر ہوگی۔ علم طبیعیات کے ماہرین اور دھاتوں کے ماہروں کو یہ مطالعہ کرنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کے جسم میں دھات کے مادے کس طرح چپک سکتے ہیں.

https://youtu.be/VsJPg34iu9A

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 3)

Next

آمدنی چھپانے پر ایف بی آر کو بغیر صفائی ملزم کی گرفتاری کا اختیار دینے کا فیصلہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme