Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سنگین موسمی حالات یا سیلابی ریلے سے ڈرائیور حادثات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
اگست 19, 2022 5 Min Read
0

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ملک کے کئی علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایک جانب سیلابی ریلوں سے درجنوں دیہات زیر آب اور سینکڑوں مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں تو دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر کئی حادثات میں انسانی جانیں بھی ضایع ہوئی ہیں

ایک تازہ واقعے میں کراچی سے حیدر آباد جانے والی مسافر کار ملیر کے علاقے میں ایم نائن لنک روڈ پر آبی ریلے میں بہنے سے میاں بیوی اور چار بچوں سمیت سات افراد لاپتہ ہو گئے

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کو تباہ حالت میں نکال لیا گیا ہے تاہم لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے

یہ پہلا واقعہ نہیں، جس میں کسی مسافر گاڑی کے سیلابی ریلے میں پھسنے کے بعد بہہ جانے سے جانی نقصان ہوا ہو۔ اس سے قبل بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں بھی ایک ٹریکٹر ٹرالی سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ڈوب جانے سے کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے تھا

ہنگامی و سیلابی صورتحال میں حکومت کیا اقدامات کرتی ہے؟

طوفان، سیلاب یا برف باری کی صورت میں ملک کی شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کیے گئے اقدامات پر بات کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کے ترجمان ادریس محسود کہتے ہیں ‘کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات میں این ڈی ایم اے ایک جامع ایڈوائزری جاری کرتا ہے جس میں واضح طور پر عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، کسی ممکنہ آفت زدہ علاقے سے نقل مکانی اختیار کرنے، مقامی افراد کا غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنا وغیرہ شامل ہے۔

یہ ایڈوائزری تمام متعلقہ وفاقی اداروں اور ضلعی و مقامی انتظامیہ کو بھیجی جاتی ہے

ادریس محسود کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے فوری طور پر آگاہی مہم بھی چلائی جاتی ہے جیسا کہ آج کل موبائل فونز پر کال ملانے کے دوران آگاہی پیغامات دیے جا رہے ہیں

مگر بعض اوقات عوام کی غفلت یا جلد بازی انھیں ایسے حادثات کا شکار بناتی ہیں

اس بارے میں موٹرویز اینڈ نیشنل ہائی وے پولیس (این ایچ ایم پی) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ترجمان اسد شبیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قدرتی آفات کے دوران سفر محفوظ بنانے کے لیے ریسکیو، محکمہ موسمیات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے نگران ادارے کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جاتا ہے اور ٹی وی، ریڈیو پر تشہیر کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور ہیلپ لائن سروس کے ذریعے مسافروں کو حالات سے باخبر رکھتے ہیں۔‘

مثال کے طور پر موسم سرما میں دھند سے متعلق شاہراؤں کی بندش کا نہ صرف خبروں میں بتایا جاتا ہے بلکہ اس بارے میں تشہیری مہم بھی چلائی جاتی ہے

انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں سے کسی بھی قسم کی ایڈوائزری آنے کے بعد فوری طور پر ریسکیو اور دیگر اداروں سے رابطے قائم کر کے ایک ہنگامی پلان مرتب کیا جاتا ہے

اسد شبیر کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کسی ایک روٹ کے مخصوص حصے پر بھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس بارے میں مسافروں کو آگاہ کیا جائے

مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر سڑکوں پر کیا کوئی انتباہی پیغامات لگائے جاتے ہیں کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے ڈرائیوروں کو سڑک پر ممکنہ خطرے سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے لال جھنڈوں سے لے کر مختلف سائن بورڈ لگائے جاتے ہیں۔ ’ٹول پلازوں اور آرام گاہوں پر موجود عملہ آگے کے راستے کے متعلق آگاہی بھی فراہم کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب موٹرویز اینڈ نیشنل ہائی وے پولیس نے ڈرونز کے ذریعے نگرانی کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے

ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

ترجمان ادریس محسود کا کہنا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے سب سے پہلے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے

اس ضمن میں این ایچ ایم پی کے اہلکار اور رابطہ افسر یاسر محمود کا کہنا ہے کہ کسی بھی لمبے سفر پر جانے سے پہلے عوام کو نیشنل ہائی وے اینڈ موٹرویز کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کو غور سے پڑھنا چاہیے۔ یہ تمام معلومات این ایچ ایم پی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں

وہ کہتے ہیں کہ اس ایڈوائزری کے متعلق جاننا اس لیے ضروری ہے کہ جس جگہ سفر کرنا ہے وہاں کے موسمی حالات، سڑکوں کی صورتحال، راستے میں سہولیات اور ممکنہ متبادل راستوں کے متعلق معلومات مل سکے

انہوں نے کہا کہ انتہائی حالات میں جب سڑک کو بند کر دیا جائے تو اس پر سفر کرنے سے گریز کیا جائے اور بتائے گئے متبادل راستے ہی اختیار کیے جائیں

اگر مقامی انتظامیہ، پولیس آپ کو سفر سے منع کر رہی ہے تو اس کو سنجدیدگی سے لیں نہ کہ اپنی گاڑی چلانے کی مہارت پر اعتماد کرتے ہوئے کسی مشکل میں پھنس جائیں

اچانک ایسی صورتحال میں پھنس جانے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

اس حوالے سے ریسکیو 1122 کی اہلکار و ترجمان دیبا شہناز کہتی ہیں ”سیلابی ریلے یا شدید بارش کی صورت میں سب سے پہلے محفوظ مقام پر جانے یا رکنے کی کوشش کریں۔
دوران ڈرائیونگ اپنی رفتار آہستہ کر لیں۔
ریسکیو سروسز سے رابطہ کریں

مقامی لوگوں کی راستے کے متعلق معلومات پر اعتماد کریں اور جان کو خطرے میں مت ڈالیں۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے رابطہ افسر یاسر محمود کا اس بارے میں کہنا ہے کہ قدرتی آفت کی صورت میں سو فیصد تحفظ ممکن نہیں ہے لیکن شدید بارش کے دوران بادل پھٹنے کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہو جائے

سیلابی صورتحال میں سب سے پہلے اپنی جان کا تحفظ کریں اور فوری اس جگہ سے واپس کی طرف نکلنے کی کوشش کریں

سفر کو مزید جاری نہ رکھیں اور اگر گاڑی، موٹر سائیکل بہہ جانے کا خطرہ ہے تو اسے جانے دیں

وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کی گاڑی سیلابی ریلے میں پھنس گئی تو اس کی حتی الامکان کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ گاڑی کو وہاں سے نکالے جبکہ ایسا ہو نہیں سکتا

’سیلابی پانی میں پھنسنے کی صورت میں فوری گاڑی سے نکلیں اور پانی کم ہونے کا انتظار مت کریں، مزید پانی اس کو ڈبو بھی سکتا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کے لیے آپ اہم ہیں، گاڑی نہیں۔‘

اگر موقع پر کوئی مقامی افراد موجود ہیں تو ان کی ہدایات پر عمل کریں اور خستہ حال سڑک، کمزور پشتوں اور پلوں پر سفر کرنے سے گریز کریں۔
سیلابی پانی میں پانی کے بہاؤ کے مخالف یا اس سمت میں گاڑی چلانے کی کوشش بالکل مت کریں

کسی درخت، چٹان یا محفوظ چیز کے پیچھے رکنے کی کوشش کریں۔

Tags:

Urban flood
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سیلاب کی تباہ کاریاں جاری: پاکستان بھر میں چھ سو سے زیادہ اموات

Next

کرکٹ امپائرز کے امتحان میں گھما دینے والے سوالات۔۔ دیکھیے آپ کو کتنے آتے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme