Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

سوال جس کا جواب دینا پڑے گا!

By Akhtar Rasool
ستمبر 13, 2022 3 Min Read
0

سنہ 2010 کے سیلاب کو کون بھول سکتا ہے۔ لیکن 2022 کے سیلاب نے 2010 کے سیلاب کے مقابلے میں فصلوں کو کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوگا اور کمی بھی واقع ہو سکتی ہے

دوسری جانب حکومت کا عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے عوام پر بہت زیادہ بوجھ پڑ گیا ہے اور سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں پر تو یہ بوجھ کہیں زیادہ ہو گیا ہے

اوپر سے یہ سیلاب ملکی جی ڈی پی پر اثر انداز ہوگا اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کا جی ڈی پی پانچ فیصد سے کم ہو کر دو فیصد تک رہ جانے کا امکان ہے

ایک طرف سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی کے خشک ہونے میں مہینے لگ جائیں گے اور دوسری جانب ملک میں سیاسی دنگل متاثرین کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہی کر رہا ہے۔ متاثرین کی مدد کرنے سے زیادہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر توجہ مرکوز ہے

پاکستان کا تقریباً ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور سوا تین کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور پندرہ سو افراد جان کھو بیٹھے ہیں

ماہرین کے مطابق اوسط سے کہیں زیادہ مون سون میں بارش اور پھر سیلاب آنے کی کافی حد تک ممکنہ وجہ بے انتہا گرمی ہے، جس کا آغاز رواں سال اپریل اور مئی میں ہوا

درجہ حرارت لمبے دورانیے کے لیے 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا جبکہ جیکب آباد میں درجہ حرارت 51 ڈگری تک جا پہنچا

یہ ہیٹ ویوو معمولی ہیٹ ویوو نہیں تھی بلکہ یہ دنیا کی بدترین ہیٹ ویوو تھی، جب دنیا کا گرم ترین دن پاکستان کے شہر جیکب آباد میں تھا

ماہرین موسمیات نے متنبہ کر دیا تھا کہ اتنی زیادہ گرمی کے نتیجے میں غیر معمولی بارشیں ہوں گی۔ جولائی ہی میں دریائے ہنزہ میں مٹی والا پانی دیکھنے کو ملا جو اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور تیز پانی اپنے ساتھ مٹی لا رہا ہے

گرمی کے باعث گلیشیئر، جھیلیں پھٹیں اور خطرناک حد تک پانی کا تیز بہاؤ دریاؤں میں دیکھنے کو ملا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب ہیٹ ویوو تھی اور دوسری طرف بحیرہ عرب میں نہایت کم ایئر پریشر کی وجہ سے ساحلی شہروں میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں

ماہرین کے مطابق ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اتنا بڑا اور نہایت کم ایئر پریشر بحیرہ عرب میں بنے۔ اور اگر یہ کافی نہیں تھا تو ساتھ ہی مون سون جلد آ گئی اور ایک بار جب بارش کا پانی زمین پر آ گیا تو اس نے وہی کیا جو وہ پانی کرتا ہے جس کے پاس کہیں جانے کی جگہ نہ ہو اور اس نے 12 لاکھ مکانات، پانچ ہزار کلومیٹر روڈ اور 240 پُلوں کو تباہ کر کے تباہی مچا دی

ماہرین کے مطابق عالمی حدت کے باعث بھی بارشوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں 1986 سے 2015 تک ہر دہائی میں عالمی اوسط اضافے کے مقابلے میں درجہ حرارت میں صفر اعشاریہ تین سینٹی گریڈ اضافہ ہوا

اگرچہ پاکستان کا ماحولیاتی تبدیلی میں ہاتھ بہت ہی کم ہے لیکن اس کا شمار سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے

گذشتہ بیس سالوں سے پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک کا جغرافیہ ایسا ہے کہ ادھر گلیشیئرز سے لے کر ریگستان اور زرعی زمینوں سے لے کر سمندر تک سب کچھ ہے

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موحالیاتی تبدیلی نے معمول کے مون سون اور گرمی کو غیر معمولی مون سون اور شدید گرمی میں تبدیل کر دیا ہے

ایک طرف تو ماحولیاتی تبدیلی ہے تو دوسری جانب گورننس کے ایشو اور سیاست نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثر کو مزید بڑھا دیا ہے

پاکستان میں حکومتوں کو گذشتہ بیس سالوں سے معلوم تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کتنا متاثر کرے گی

حکمرانوں سے 2010ع کے سیلاب میں دیکھ لیا کہ کس طرح اس قسم کی آفات بہت جلد قومی المیے میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی سطح پر اٹھارٹی کی تشکیل تو ہو گئی لیکن ان میں کمیونیکیشن کتنی موثر ہے

جیسے جیسے ہم امداد کی فراہمی سے ریکوری کی جانب جائیں گے اور ریکوری سے تعمیر نو کی اسٹیج پر پہنچے گے تو ہم یہ سوال بھی کریں گے کہ متعدد ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹیز اور محکمہ موسمیات کے درمیان رابطہ اور تیاری کے حوالے سے کہاں اور کس چیز کا فقدان تھا؟

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

Climate changeGlobal warmingPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چین میں قوم پرستی اور جاپان مخالف جذبات میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

Next

پِگ وار: جب ایک لاوارث سؤر کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme