Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-frontier-of-politics-
کالماہم ترینتازہ ترین

سیاست کی سرحد

By Akhtar Rasool
فروری 29, 2024 4 Min Read
0

اگر آپ تاریخ کے طالبِ علم ہیں اور سیر و سیاحت کے متوالے ہیں تو پھر کراچی کی جدید تاریخ اور جغرافیہ کا مطالعہ کرنے کے بعد کراچی کا رخ مت کیجئے گا۔ آپ چکرا جائیں گے۔ آپ گھبرا جائیں گے۔ گریبان چاک کر کے آپ اپنے بال نوچ ڈالیں گے۔ آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ آپ اپنے ملک کے کسی شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں بھٹک رہے ہیں یا کسی مشرق وسطیٰ، ایران یا ترکی کے کسی شہر میں بھٹک رہے ہیں۔ آپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا۔ ویسے بھی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم پاکستانیوں کی سمجھ کا خانہ خالی ہے۔ ہم سب سمجھتے ہیں، بوجھتے ہیں۔ مگر کیا کریں کہ چھہتر ستتر برس کے دوران سیاستدانوں کی اکھاڑ پچھاڑ دیکھ کر ہماری اپنی مت ماری گئی ہے۔

سات دہائیوں سے ہم سیاسی ڈرامہ دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔۔ مگر کیا مجال کہ آج تک پسِ پردہ موسیقی دینے والے کسی ایک میوزک ڈائریکٹر کے نام اور کام کا پتہ چل سکا ہو۔ کٹھ پتلی سیاستدانوں کی گردن سے بندھی ہوئی ڈور دراصل کس کے ہاتھ کی انگلیوں کے بس میں ہے، اس بارے میں ہم بڈھے کھوسٹ کچھ نہیں جانتے۔۔ حالانکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کٹھ پتلی سیاست دانوں کی گردن سے بندھی ڈور کا دوسرا سرا کس کس کے ہاتھ میں ہے۔۔

جہاں تک میری اپنی بات ہے، جب پاکستان بنا تھا، تب تک میں اپنا بچپن بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا۔۔ پاکستان جب بنا تھا، تب میں بچہ نہیں تھا۔ اس لیے میں نہیں جانتا کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی افتتاحی تقریر نشر ہونے کے بعد جب شائع کرنے کے لیے اخبارات کو بھیجی جا رہی تھی، تب قائد اعظم کی تقریر کس نے ایڈٹ کی تھی، یعنی کس نے قائد اعظم کی تقریر میں کانٹ چھانٹ کی تھی۔ اس نوعیت کی باتیں پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ بڑے بوڑھے کچھ نہیں جانتے۔ آپ کو حیران پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ راز کی بات ہے۔ میرے علاوہ گنتی کے بوڑھے کھوسٹ جو رختِ سفر باندھ کر بیٹھے ہیں، اس راز سے واقف ہیں۔

میں اس راز سے پردہ اٹھاتا ہوں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بچے جب بچے ہوتے ہیں، تب وہ جانتے ہیں کہ کٹھ پتلی سیاستدانوں کی گردن سے بندھی ہوئی ڈور کا دوسرا سرا کس کے ہاتھ میں ہے، اور وہ ہاتھ کس کا ہاتھ ہے۔ اب میں راز کی بات سے پردہ اٹھاتا ہوں۔ بات کچھ اس طرح ہے کہ بچے جب بچے نہیں رہتے، اور جوان ہو جاتے ہیں، تب وہ بھول جاتے ہیں یا دانستہ بھلا دیتے ہیں کہ کٹھ پتلی سیاستدانوں کی گردن میں پڑی ہوئی ڈور کا دوسرا حصہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ یاد رہے کہ گردن میں پڑی ہوئی ڈور پھانسی کے پھندے سے کم نہیں ہوتی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پھانسی کا پھندا جب گلے میں پڑ جاتا ہے، تب آپ لکڑی چبوترے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپ کو کالا ٹوپ پہنایا جاتا ہے تاکہ پھانسی گھاٹ میں موجود مجسٹریٹ، ڈاکٹر، اعلیٰ پولیس حکام، اور جیل کے بے تاج بادشاہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو آپ کا نورانی چہرہ پھانسی پر لٹک جانے کے بعد دکھائی نہ دے۔ بڑا ہی بھیانک منظر ہوتا ہے وہ۔۔ نرم دل اور رحم دل جیل حکام، ڈاکٹر اور مجسٹریٹ صاحب دل خراش منظر دیکھنے کی تاب نہیں رکھتے۔ دھاڑیں مار کر رو پڑتے ہیں اور بیہوش ہو جاتے ہیں۔۔

مگر جب سیاست کی سرحد نامی ڈرامہ میں آپ کے گلے میں ڈور باندھی جاتی ہے تب آپ کسی پھانسی گھاٹ کے چبوترے پر کھڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ آپ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔ نیچے سے اقتدار کی کرسی نکل جانے کے بعد آپ زندگی سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھتے۔ آپ اقتدار سے محروم ہو جاتے ہیں۔

بچوں کو یہ تمام باتیں بہت پہلے سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ وہ جوان ہونے سے بہت پہلے عقل کے ناخن لے لیتے ہیں اور بچپن میں سنی سنائی باتیں بھول جاتے ہیں۔ جو بچے زیادہ معصوم ہوتے ہیں اور بچپن کی باتیں بچپن میں چھوڑ کر آنے کی بجائے اپنے ساتھ جوانی کی دہلیز تک لے آتے ہیں، وہ بچے غائب ہو جاتے ہیں، وہ کس طرح اور کیسے غائب ہو جاتے ہیں، کوئی کچھ نہیں جانتا۔۔

ایک مرتبہ موت کا فرشتہ ایک نوجوان کی روح قبض کرنے اور اس کو ابدی نیند سلانے کے لیے زمین پر آیا تھا۔ تب تک نوجوان غائب ہو چکا تھا۔ فرشتے نے نوجوان کو بہت تلاش کرنے کی کوشش کی، سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے۔۔ مگر بے سود، موت کے فرشتہ کو نوجوان نہیں ملا۔ وہ مایوس لوٹ گیا۔۔ اب آپ سمجھ گئے ہونگے کہ بچے جب جوان ہونے لگتے ہیں، تب عقل کے ناخن کیوں لیتے ہیں اور کیوں سب کچھ بھلا بیٹھتے ہیں۔

میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ جب بھی آپ سیر و سیاحت کے لیے کراچی تشریف لائیں تب آپ کورے کاغذ کی طرح آئیں۔ کراچی کو کراچی میں آنے والوں نے جس طرح اکھاڑا اور پچھاڑا ہے، اسی کیفیت میں کراچی کو دیکھیں۔۔ یہ وہ کراچی نہیں ہے، جس کراچی کو انیس سو سینتالیس میں انگریز نے چھوڑا تھا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

fallout: the frontierfrontierfrontier americafrontier centrefrontier centre for public policyfrontier dayfrontier devfrontiersfuture of politicsharvard institute of politics (employer)harvard institute of politics (organization)history of the western frontierleaders on the frontiermyths of the frontiernew frontiernew frontier awardsPoliticspolitics (tv genre)the frontiertypes of frontierswhat is frontier
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
US-soldiers-self-immolation-Bushnells-ashes-may-now-be-tried-in-a-military-court-for-violation-of-regulations
Previous

امریکی فوجی کی خودسوزی: شاید ضابطے کی خلاف ورزی پر اب بشنیل کی راکھ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔۔

Eastern-Despotism
Next

مشرقی استبداد

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme