Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار

By Akhtar Rasool
اکتوبر 20, 2023 4 Min Read
0

جبر، گھٹن، غم و ابتلا انفرادی و اجتماعی انسانی المیوں کے اجزائے لازمی ہیں تو دوسری جانب یہی اجزا تخلیقی فصل کے لیے کھاد کا کام کرتے ہیں اور اس کھاد سے لمحہِ موجود کی قلم بند تاریخ اگتی ہے اور اس کی لہلہاہٹ اگلی نسل کو بھی پاؤں جمائے رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے اور اندر سے ٹوٹنے نہیں دیتی۔شاید اسی لیے اب تک یہ بحث ہے کہ تلوار زیادہ طاقت ور ہے یا قلم، ظلم زیادہ سخت جان ہے کہ مزاحمت؟

جب جب فلسطین کا تذکرہ ہوتا ہے، مذکورہ سوالات پھر سے زخموں کی طرح ہرے ہو جاتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا، مزید لکھا جائے گا، مگر خبریں اتنی بری بری آ رہی ہیں کہ کم ازکم آج میرا لکھنے کا ہرگز من نہیں۔بلکہ یہ جاننے کا من ہے کہ کیا کیا لکھا گیا ہے۔ اسی تخلیقی سمندر کا بوند برابر نمونہ پیشِ خدمت ہے۔

(فیض احمد فیض کی لوری)

مت رو بچے

رو رو کے ابھی تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے،

کچھ ہی پہلے تیرے ابا نے اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے،

تیرا بھائی اپنے خواب کی تتلی پیچھے دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے،

تیری باجی کا ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے،

تیرے آنگن میں مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں

مت رو بچے

امی، ابا، باجی، بھائی، چاند اور سورج

تو گر روئے گا تو یہ سب اور بھی تجھ کو رلائیں گے

تو مسکائے گا تو شاید سارے اک دن بھیس بدل کر

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے۔

(رحمان فارس کی نظم)

بچہ ہے، اس کو یوں نہ اکیلے کفن میں ڈال

ایک آدھ گڑیا، چند کھلونے کفن میں ڈال

نازک ہے کونپلوں کی طرح میرا شیر خوار

سردی بہت شدید ہے، دہرے کفن میں ڈال

کپڑے اسے پسند نہیں ہیں کھلے کھلے

چھوٹی سی لاش ہے، اسے چھوٹے کفن میں ڈال

ننھا سا ہے یہ پاؤں، وہ چھوٹا سا ہاتھ ہے

میرے جگر کے ٹکڑوں کے، ٹکڑے کفن میں ڈال

مجھ کو بھی گاڑ دے میرے لختِ جگر کے ساتھ

سینے پے میرے رکھ اسے، میرے کفن میں ڈال

ڈرتا بہت ہے کیڑے مکوڑوں سے اس کا دل

کاغذ پے لکھ یہ بات اور اس کے کفن میں ڈال

مٹی میں کھیلنے سے لتھڑ جائے گا سفید

نیلا سجے گا اس پے، سو نیلے کفن میں ڈال

عیسیٰ کی طرح آج کوئی معجزہ دکھا

یہ پھر سے جی اٹھے، اسے ایسے کفن میں ڈال

سوتا نہیں ہے یہ میری آغوش کے بغیر

فارس مجھے بھی کاٹ کے اس کے کفن میں ڈال

(ڈاکٹر حنان اشراوی کی نظم)

خدا نہ کرے تمہیں کبھی اپنے ملک کے چھننے کا کرب سہنا پڑے

خدا نہ کرے تمہیں کسی قابض کی نظر بندی میں رہنا پڑے

خدا نہ کرے تمہیں اپنا گھر مسمار ہوتے دیکھنا پڑے

خدا نہ کرے تمہیں اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں بکنا پڑے۔

(توفیق زیاد کی نظم)

لدا میں، راملہ میں، گلیلی میں

ہم یہیں رہیں گے

تمہارے سینے پر دھری دیوار کی طرح

تمہارے حلق میں ٹوٹے شیشے کی کرچی کی طرح

ناگ پھنی کے کانٹے کی طرح

تمہاری آنکھ میں آندھیوں کی گرد کی طرح

اپنے بچوں میں انقلاب کا خمیر اٹھائیں گے

جیسے آٹے میں خمیر اٹھتا ہے۔

(سمیع القاسم کی نظم)

اگر تم میری آنکھوں کی تمام قندیلیں بجھا ڈالو

میرے بچوں کے چہروں سے مسکراہٹ اکھاڑ پھینکو

میں مفاہمت نہیں کروں گا، لڑوں گا

آخر دم تک لڑوں گا

(محمود درویش کی نظم شناختی کارڈ)

درج کرو

میں عرب ہوں

میرا شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار ہے

میرے آٹھ بچے ہیں

اور نواں موسمِ گرما کے بعد دنیا میں آ جائے گا

پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو

میں عرب ہوں

اور یارانِ محنت کش کے ہمراہ پتھر کی کان میں کام کرتا ہوں

میرے آٹھ بچے ہیں

میں اْن کے لیے

نان اور ملبوسات اور کاپیاں

پتھروں سے باہر نکالتا ہوں

میں تمہاری چوکھٹ سے خیرات نہیں مانگتا

نہ ہی خود کو تمہارے آستانوں پر حقیر بناتا ہوں

پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو

میں عرب ہوں

میرا صرف نام ہے

کوئی لقب نہیں

میں ایک ایسی سرزمین میں صابر ہوں

جہاں ہر کوئی وفورِ غضب میں زندگی بسر کرتا ہے

پیدائشِ زمانہ سے قبل

ادوار کے شروع ہونے سے قبل

سرو اور زیتون سے قبل

اور گھاس کے اگنے سے قبل

میری جڑیں اس زمین میں پنجے گاڑ چکی تھیں

میرے باپ کا تعلق ہل چلانے والے خاندان سے ہے

کسی نجیب خاندان سے نہیں

میرا دادا کسان تھا

بے حسب و نسب

قبل اس کے کہ وہ مجھے کتاب پڑھنا سکھائے

اْس نے مجھے سورج کا طلوع ہونا سکھایا

میرا گھر پہرے دار کی کوٹھڑی کے مانند ہے

شاخوں اور سرکنڈوں سے بنا ہوا

پس کیا تم میری حیثیت پے راضی ہو؟

میرا صرف نام ہے ، کوئی لقب نہیں

درج کرو

میں عرب ہوں

بالوں کا رنگ: کوئلے کی طرح سیاہ

آنکھوں کا رنگ: بھورا

اور میری شناختی علامات

سر پر عربی رومال اور اْس پر سیاہ حلقہ

جو کہ مستحکم ہے پتھر کی مانند ہے

میری پسندیدہ ترین غذائیں

روغنِ زیتون اور پھلیاں

میرا پتہ

ایک دور دراز فراموش شدہ گاؤں

جس کی گلیاں بے نام ہیں

جس کے تمام باسی کھیتوں اور پتھر کی کانوں میں کام کرتے ہیں

پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو

میں عرب ہوں

اور تم نے میرے اجداد کے باغات چرا لیے

اور وہ زمین بھی

جہاں میں اپنے تمام بچوں کے ہمراہ کھیتی کرتا تھا

تم نے میرے اور میرے پوتوں کے لیے

کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا

سوائے ان پتھروں کے

تو کیا تمہاری حکومت

جیسا کہ کہا گیا ہے

ان پتھروں کو بھی چھین لے گی؟

لہٰذا درج کرو

صفحہ اول پر سب سے اوپر

میں لوگوں سے نفرت نہیں کرتا

نہ ہی کسی پر تجاوز کرتا ہوں

لیکن۔۔۔

جب مجھے بھوک لگے گی

غاصب کا گوشت کچا چبا جاؤں گا

خبردار رہو میری بھوک سے

اور میرے غصے سے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز

Tags:

baat se baat | wusatullah khan fansbaat se baat wusatullah khanlatest column of wusatullah khanwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wusatullahwusatullah bbcwusatullah dawnwusatullah khanwusatullah khan about talib johriwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan bbcwusatullah khan biographywusatullah khan educationwusatullah khan fanswusatullah khan latestwusatullah khan urdu column
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

موبائل ایپ، جو آواز سن کر ذیابیطس کا پتہ چلا سکتی ہے۔۔

Next

اسرائیلی سفاکیت اور مغربی میڈیا کا دوہرا رویہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme