Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

شکایات کے باوجود فیس بک اور گوگل پر دھوکے بازوں کے اشتہارات جاری

By Akhtar Rasool
اپریل 29, 2021 2 Min Read
0

فیس بک اور گوگل دھوکہ دہی کے واقعات سامنے آنے کے بعد بھی اپنے پلیٹ فارمز سے آن لائن اسکیم (مالیاتی دھوکہ دہی پر مبنی جعلی اسکیموں) کے اشتہارات ہٹانے میں ناکام رہے ہیں

اس بات کا انکشاف صارفین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے برطانوی کنزیومر واچ ڈاگ ’’وچ؟‘‘ (?Which) نے ایک حالیہ سروے کے بعد کیا ہے، جس کے مطابق فراڈ سے متاثرہ افراد کی شکایات  کے بعد بھی گوگل اور فیس بک پر یہ اشتہارات جوں کے توں دکھائی دے رہے ہیں

سروے کے مطابق، رپورٹ کیے گئے ’’دو نمبر‘‘ اشتہارات میں گوگل 34 فیصد، جبکہ فیس بک 26 فیصد کو ہٹانے میں ناکام رہا

اس کے برعکس ان دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے دھوکہ دہی پر مبنی اشتہارات کو ہٹا دیا ہے، جو اب ان کے پلیٹ فارمز پر ممنوع ہیں

سروے میں شامل 15 فیصد افراد آن لائن دھوکہ دہی کے اشتہارات کا شکار ہوئے اور انہیں رپورٹ بھی کیا۔ ان میں سے 27 فیصد فیس بک اور 19 فیصد گوگل پر تھے۔ جبکہ 43 فیصد نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو رپورٹ نہیں کیا

فیس بُک پر آن لائن فراڈ کی شکایت نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ جبکہ گوگل پر دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے افراد کو پتا ہی نہیں تھا کہ اس دھوکہ دہی scam کی شکایت کیسے کی جائے، کیوں کہ گوگل کا رپورٹنگ کا طریقہ کار بہت پیچیدہ اور غیر واضح ہے

اس حوالے سے ?Which کے لیے کام کرنے والے صارفین کے حقوق کے ماہر ایڈم فرنچ کا کہنا ہے کہ یہ آن لائن پلیٹ فارمز کی بے عملی ہے کہ جعلی اشتہارات کی رپورٹ کیے جانے کے بعد بھی مشتہرین دھوکہ دہی پر مبنی نئے اشتہارات لگا دیتے ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ دھوکہ دہی پر مبنی مواد کو ممکنہ شکار کے پاس پہنچنے سے قبل ہی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں

انہوں نے کہا کہ آن لائن پلیٹ فارمز کی قانونی ذمے داری ہے کہ وہ جھوٹ اور دھوکہ دہی کے مواد کو شناخت کرکے اپنی ویب سائٹس سے ہٹائیں اور حکومت کو بھی ایکشن لینے کی ضرورت ہے

دوسری جانب  فیس بک کے نمائندے کا کہنا ہے کہ فیس بک پر جعل سازی اور دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں کی قطعی اجازت نہیں ہے اور انہوں نےWhich کی جانب سے رپورٹ کیے گئے بہت سارے پیجز کے خلاف ایکشن لیا ہے

جب کہ گوگل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پالیسیوں کی خلاف ورزی پر تین ارب دس کروڑ اشتہارات پر پابندی لگا کر انہیں اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا چکا ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ملیر کا سوال : کیا زرعی ملک کو اب بلڈروں کا ملک لکھا جائے؟

Next

کرارے نوٹوں کے شوقین اس عید پر بھی محروم رہیں گے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme