Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

شیلٹر میں کتے گلے لگ کر بچانے کی فریاد کرتے رہے

By Akhtar Rasool
اگست 28, 2022 2 Min Read
0

پاکستان میں حالیہ بارشوں کے باعث سیلاب نے جہاں سینکڑوں انسانی جانیں نگل لیں وہیں بےزبان جانور بھی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

’کل سے سیلابی پانی کے بہاوٴ میں اضافہ شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی شیلٹر کے اندر داخل ہوگیا اور تقریباً پانچ چھ فٹ تک پہنچ گیا۔

’کتے ڈر کے مارے ہمیں گلے لگا رہے تھے اور شاید یہی فریاد کر رہے تھے کہ ہمیں کسی طریقے سے بچائیں۔‘

یہ کہنا تھا کہ لکی اینیمل پروٹیکشن شیلٹر کے اہلکار جان محمد کا جو آوارہ کتوں کے اس نجی شیلٹر میں ملازم ہیں۔

اس شیلٹر کو ہفتے کو چارسدہ میں سردریاب کے کنارے سیلابی ریلے نے خاصہ نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے 50 کے قریب کتے سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں نے تباہی مچائی اور انسانی جانوں سمیت دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ایسے میں سیلابی پانی سے جانور بھی نہیں بچے۔

سردریاب کے کنارے اس شیلٹر کی بنیاد پشاور کی زیبا مسعود نامی خاتون نے تقریباً چار سال پہلے پشاور میں رکھی تھی جس کو بعد میں چارسدہ منتقل کر دیا گیا۔

جان محمد نے بتایا کہ شیلٹر میں تقریباً 300 کے قریب کتے تھے لیکن جب شیلٹر میں پانی داخل ہوا تو انہیں ریسکیو کرنے کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا: ’جب سیلابی پانی سر سے اوپر ہونے لگا تو رات ہو چکی تھی۔ ہمارے پاس اور کوئی انتظام نہیں تھا تو ہم نے خود کشتیاں اور ٹرک کرائے پر لے کر کتوں کو ریسکیو کرنا شروع کیا اور تقریباً 200 کتوں کو باحفاظت پشاور کے علاقے جھگڑا منتقل کیا۔‘

جان محمد نے بتایا کہ جس جگہ کتوں کو رکھا گیا ہے یہ ایک مقامی شخص کی ملکیت ہے، جنہوں نے خلوص نیت سے ان بے زبان جانوروں کے لیے جگہ دی ہے

جان محمد کے مطابق: ’کتے اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ سارے ہم سے لپٹ رہے تھے اور ہمیں گلے لگا رہے تھے کیونکہ ان کو ڈوبنے کا خوف تھا۔

’ہم سے جتنا ہو سکا، وہ ہم نے کیا لیکن بدقسمتی سے درجنوں کتے سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کتوں میں کچھ زخمی بھی ہوئے جن کو محفوظ مقام پر علاج معالجہ دیا جا رہا ہے۔ ’یہاں پر کتوں کی خوراک و پانی کا بندوبست کیا گیا ہے لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ جگہ تبدیل ہونے کی وجہ سے کتے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جان محمد نے بتایا: ’ہم زیادہ تر اس نئے جگہ کے دروازے بند رکھتے ہیں کیونکہ یہ جگہ ان کتوں کے لیے نئی ہے۔

’تاہم ان تمام کتوں کی ویکسینیشن ہو چکی ہے لیکن ان کو یہاں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگے گا۔ بعض اوقات یہ نئی جگہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑائی بھی شروع کر دیتے ہیں

Tags:

Dogsdogs Shelter
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اوورکوٹ (افسانہ)

Next

تھرپارکر: پگڑی ہو تو جیسو جیسی ہو، ورنہ نہ ہو۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme