Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

عزت مآب سے ذلت مآب ہونے تک کا سفر

By Akhtar Rasool
فروری 14, 2022 3 Min Read
0

پہلے انہوں نے پورے براعظم پر ڈاکہ ڈالا، پھر افریقہ سے غلام اغوا کیے، پھر ان کی محنت چرا کے تجوریاں بھریں، پھر اس دولت سے کشید ہونے والی اندھی معاشی و عسکری طاقت کے بل پر ممالک خریدنے لگے اور معزز نمبر ون کہلانے لگے۔ اب اوقات پستی کی اس سطح پر آ گئی ہے کہ کمزور ترینوں کی امانتیں بھی ہڑپ کرنے پر اتر آئے ہیں!

ایسے تو کوئی گھٹیا رسہ گیر بھی نہیں کرتا، تیسرے درجے کا جیب کترا بھی کسی کسی ہدف کے مفلوک الحال چہرے پر ترس کھا کر جیب میں کچھ سکے رہنے دیتا ہے۔ اتنے نوٹ تو بائی جی کا سازندہ بھی آس پاس کے بچوں کی دزدیدہ نگاہوں کے خیال سے مجرئی فرش سے نہیں اٹھاتا…

اتنے قطرے تو کوئی کنگلا شرابی بھی جام میں چھوڑ کر اٹھ جاتا ہے۔ اتنے پیسے تو کوئی قرض میں جکڑا انسان بھی کسی کشکول میں ڈال دیتا ہے۔ اتنی خیرات تو ایک بھکاری دوسرے کو ویسے ہی دے دیتا ہے…

پر جو کچھ میں نے سنا اور پڑھا، اس کے بعد سے اردو زبان کی کم مائیگی کو یہ سوچتے ہوئے کوس رہا ہوں کہ کاش اس حرکت کو بیان کرنے کے لیے گھٹیا، کفن چور، ڈاکو، رہزن، رسہ گیر سے بڑا بھی کوئی لفظ ہوتا، جس کے استعمال سے تھوڑی بہت لسانی تشفی ہو جاتی۔ کم بخت کوئی گالی بھی ایسی حرکت کا احاطہ کرنے سے معذرت کر رہی ہے

ہم تو پچھلوں کو روتے تھے.. یہ والا تو ان سے بھی بڑا نکلا!

اس نے تو امداد کے نام پر اپنے ہی دیے ہوئے، اپنے ہی بینکوں میں بطور امانت منجمد سات ارب ڈالر میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر نائن الیون کے متاثرین کو ہرجانہ دینے کے سلسلے میں ایک فیڈرل جج کے دس برس پرانے فیصلے کو بطور برگِ انجیر (فگ لیف) اپنا ننگ پن چھپانے کے لیے اور باقی آدھی رقم اصل مالکوں پر خرچ کرنے کی نوید سنا کر اپنے تئیں ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش میں حاتم طائی کی قبر توپ دم کر دی

جس ملک کی امانت چرائی گئی، اس کا کوئی بھی شہری نائن الیون کے ہائی جیکرز میں شامل نہیں تھا۔ اس ملک کی آدھی آبادی نائن الیون کے بعد پیدا ہوئی کہ جن میں سے بہت سوں کے والدین اب دو وقت کی روٹی کے لیے گردے خریدنے والوں کا سب سے بڑا عالمی شکار ہیں

نائن الیون کے سب سے زیادہ متاثرین افغانستان میں رہتے ہیں۔ اگر وہ ہرجانہ وصول کرنے کے قابل ہوتے تو آج ہر امریکی اپنے گردے بیچ رہا ہوتا

نائن الیون ہائی جیکنگ میں جن افراد نے براہ راست حصہ لیا یا بلاواسطہ اعانت کی، ان میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے ہے

اگر نائن الیون کے متاثرین کو ازالاتی ہرجانا دلوانا ہی تھا، تو سب سے موزوں ملک سعودی عرب ہی تھا کہ جس نے امریکا میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، مگر کس امریکی انتظامیہ کے بوتے میں اتنا دم ہے کہ سعودیوں سے ہرجانے کی ہی وصول کر پائے، حالانکہ سعودی عرب آج بھی پانچ افغانستان سالم خریدنے کی سکت رکھتا ہے

اس وقت افغان عوام کی ہنگامی مدد کی بجائے اور ان کی منجمد رقم میں اوپر سے پیسہ ڈالنے کے بجائے ان کی امانت پر سیند لگانا کسی لاش کی کلائی سے گھڑی اور بے جان پیروں سے جوتے اتار کے بھاگنے جیسا ہے

کوئی فرد یا ادارہ یہ حرکت کرتا تو شاید صبر آ جاتا، مگر اَسی سالہ عزت مآب نے اس ایک حرکت سے جس طرح خود کو ذلت مآب میں تبدیل کر لیا ہے، اس پر حیرانی بھی انگشت بدنداں ہے۔

نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہیں پایا،
کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا (میاں محمد بخش)

نوٹ: یہ کالم بی بی سی اردو کے شکریے کے ساتھ شائع کیا گیا، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں.

Tags:

AfghanistanAmericaDevelopment FundFreeze AccountsTaliban
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان کو جذباتی عناصر سے دور رکھنے کی ضرورت

Next

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے بہت اہم

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme