Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

لندن کی لائبریری کو پچاس سال بعد کتاب کی واپسی، ”ردی کی ٹوکری میں نہ پھینک دینا“

By Akhtar Rasool
اپریل 4, 2022 2 Min Read
0

لندن – لائبریری کا لفظ یونانی لفظ "لائبر "سے ماخوذ ہے، اس کے معنی ہیں کتاب، سادہ الفاظ میں یوں سمجھئے کہ لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کتابوں، رسالوں، اخباروں اور معلوماتی مواد کو جمع کیا جاتا ہے یا لائبریری ایک ایسی جگہ ہے جہاں ماضی اور حال کا ثقافتی ریکارڈ خاص طور پر کتابوں کی شکل میں محفوظ رکھا جاتا ہے

جو لوگ لائبریری سے کتابیں لیتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ کتاب ایک مخصوص مدت کے بعد لائبریری کو لوٹانا پڑتی ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے، لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو کتاب کبھی واپس ہی نہیں کرتے

کچھ ایسا ہی واقعہ برطانیہ میں پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم شخص نے یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کی لائبریری کو پچاس برس کے بعد ڈاک کے ذریعے کتاب واپس بھجوائی ہے، اور اس کے ساتھ ایک خط بھی موجود ہے

گذشتہ ہفتے یو سی ایل نے ایک ٹویٹ شیئر کی تھی، جس میں کتاب بھیجنے والے کی تحریر بھی شامل کی گئی

تحریر میں لکھا ہے ”ڈیئر لائبریرین، یہ کتاب پچاس برس تک واپس نہیں کی گئی۔ مہربانی فرما کر اسے ردی کی ٹوکری میں نہ پھینک دینا، کیونکہ اب یہ نوادرات میں شامل ہو چکی ہے“

برطانوی اخبار ایوننگ اسٹینڈرڈ کے مطابق یہ کتاب ایک ڈرامے ’کیورولس‘ کا 1875ع کا ایڈیشن ہے، جسے 1974ع کے موسم گرما میں یونیورسٹی کالج لندن لائبریری کو واپس کیا جانا تھا

یونیورسٹی کی لائبریرین سوزین ٹراؤس کا کہنا ہے ”یہ کتاب اور اس پر لکھی تحریر کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گئیں۔“

سوزین ٹراؤس نے کہا ”دس پینس فی دن کے حساب سے اس کتاب پر ایک ہزار دو سو چوَن برطانوی پاؤنڈز جرمانہ بنتا ہے“

پچاس برس بعد لائبریری کو کتاب لوٹانے والے صاحب کو اگر جرمانہ بھرنا ہوتا تو وہ یقیناً کتاب اور رقعے کے ساتھ چیک بھی بھیج دیتے، لیکن بہرحال پچاس برس بعد کتاب کا ملنا بھی ایک غنیمت ہے.

Tags:

Drama CarolusLibraryLondon Universityplay "Carolus".
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

یوٹیوب نے معروف اسکالر ڈاکٹر اسرارکا چینل بند کردیا

Next

اُنیس سال بعد کوما سے جاگ کر ’ماں‘ پکارنے والا ٹیری والس چل بسا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme