Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

microplastics-a-new-challenge-for-health
کالماہم ترینتازہ ترینماحولیات

’مائیکرو پلاسٹک‘ صحت کے لیے ایک نیا چیلنج

By Akhtar Rasool
فروری 19, 2024 3 Min Read
0

پلاسٹک، ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔۔ اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پلاسٹک کو تلف کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ پلاسٹک کے آدھے ملی میٹر سے چھوٹے ٹکڑے، جو انسانی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے، ان کو مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہمیں یہ ٹکڑے دکھائی نہیں دیتے، اس لیے یہ انسانی جسم میں کسی نہ کسی ذریعے سے داخل ہو جاتے ہیں اور بے شمار بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق کسی بھی انسانی جسم میں لگ بھگ ایک ٹیبل ٹینس بال جتنا مائیکرو پلاسٹک موجود ہوتا ہے اور یہ انسانی جسم کے اہم اعضا جن میں جگر، گردے، دل اور دماغ شامل ہیں، کو متاثر کرتا ہے۔

مائیکرو پلاسٹک کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو وہ قسم ہے کہ جو ہماری زندگی کو بہت قریب سے متاثر کرتی ہے اور ہماری روز مرہ کی ان اشیا میں شامل ہوتی ہے، جن کا مرکزی جز مائیکرو بیڈز ہوتے ہیں، جیسے ٹوتھ پیسٹ یا شاور جیل وغیرہ۔ اور دوسری قسم کا پلاسٹک یا تو پلاسٹک سے بنی اشیا کے زیادہ استعمال سے وجود میں آتا ہے (جیسا کہ گاڑیوں کے ٹائرز کی سڑک پر ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہوا میں شامل ہونے والا مائیکرو پلاسٹک)۔ یا پھر ان صنعتوں کے فضلے کو بہتے پانی میں ڈال دینے سے وجود میں آتا ہے، جہاں پر پلاسٹک کی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔

مائیکرو پلاسٹک بے شک بہت سی اشیاء کو مفید بناتا ہے لیکن چونکہ یہ پلاسٹک کی ہی ایک قسم ہے، اس کے صحت پر منفی اثرات سے آپ انکار نہیں کر سکتے۔ ہاں البتہ اس کے ماخذ کے مختلف ہونے سے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ مثلا سکرب یا جلد کو چمکانے والی اکثر مصنوعات میں شامل مائیکرو بیڈز بھی مائیکرو پلاسٹک کی ہی ایک شکل ہے، جس کا زیادہ استعمال ہماری جلد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اکثر پانی کی ڈسپوزیبل بوتل جو بازار سے خریدتے ہیں (وہ ون ٹائم یوز ہوتی ہے) اس میں پانی بھر کر اس کو اپنے ریفریجریٹر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ یہ جانے بنا کہ ایک سے زیادہ بار اس کو استعمال کرنے سے ہم اس میں موجود مائیکرو پلاسٹک کو اپنے ہاتھوں سے اپنے جسم میں دھکیل رہے ہیں۔ اس لیے فریج کے لیے شیشے کی پانی کی بوتل استعمال کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ خواتین جو سبزیوں کی کٹنگ کے لیے بورڈ استعمال کرتی ہیں، وہ بھی اس کا ماخذ ہے۔ اس سے معدہ اور جگر کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے مائیکرو پلاسٹک جو پلاسٹک آمیزش والی اشیاء کے استعمال سے ہوا میں شامل ہو جاتا ہے، یہ دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ سانس کی بیماری، الرجی اور الزائمر وغیرہ بھی اس کی وجہ سے لاحق ہو سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ روزمرہ کے استعمال میں مائیکرو پلاسٹک سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ ہمیں چاہیے کہ پلاسٹک بوتلوں کی جگہ گھر میں شیشے کی بوتلیں استعمال کریں۔ ڈسپوزیبل پلاسٹک یا سنگل یوز کی اشیاء کی جگہ سرامکس یا شیشے یا دھات سے بنے برتن استعمال کریں۔ اس کے علاوہ لباس، جس کی بنائی میں مائیکرو پلاسٹک شامل ہوں، کم سے کم استعمال کریں۔ باہر جائیں تو چائے یا کافی کے لیے پلاسٹک کے کپ استعمال نہ کریں۔ پلاسٹک میں پیکڈ فوڈ نہ خریدیں، تازہ کھانے استعمال کی کوشش کریں۔ ایسی بیوٹی پراڈکٹس استعمال کرنے سے پرہیز کریں، جن میں مائیکرو بیڈز استعمال کیے گئے ہوں۔ گھریلو اشیاء میں سنتھیٹک یا پولی ایسٹر کا استعمال ترک کر دیں۔ اگر پلاسٹک کی کوئی چیز تلف کرنی ہے تو اس کے لیے مناسب طریقہ کار استعمال کریں۔

مائیکرو پلاسٹک ہمارے لیے ایک چھپا ہوا خطرہ ہے، جو ہمیشہ ہمارے اردگرد میں موجود ہے۔ اس کے صحت پر منفی اثرات کم کرنے کے لیے ہمیں اپنے روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں کرنے ہوں گے اور آگاہی پیدا کرنی ہوگی کہ ہمارا ہر ایک عمل، چھوٹا ہو یا بڑا، ہمارے ماحول اور صحت کو کیسے متاثر کر رہا ہے۔ ہمیں اپنی عملی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک صاف اور صحت مند مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو

Tags:

#health #healthandwellness #alternativemedicineaccumulate healtheat healthyeat microplasticseating microplasticsfull of microplasticsglobal healthgut healthgut health dietgut health recipesHealthhealth issues caused by plasticshealth podcasthindu news paper analysis for upsc iashuman healthhuman health and disease one shotimprove gut healthimprove gut health and digestionmacroplasticsmicro plasticmicro plasticsmicro plastics in foodmicroplasticmicroplasticsmicroplastics bloodmicroplastics in bloodmicroplastics in fishmicroplastics in foodmicroplastics in heartmicroplastics in livermicroplastics in lungsmicroplastics in soilmicroplastics mememicroplastics yumnatural healtplastic pollution and its effects on environment and human healthplastic pollution for kidsplasticsprimary microplasticsstay healthyyummy microplastics
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
political-hybrid-system-in-pakistan
Previous

کیا ہائبرڈ نظام سے نجات پانا ممکن ہے؟

urdu-fictions-urdu-stories-hindi-stories
Next

پو پھٹنے تک (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme