Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Languages-Balochi-Sindhi-Urdu-Panjubi-and-Pakistan
اہم ترینتازہ ترینکالم

ماں بولی (حصہ سوم)

By Akhtar Rasool
دسمبر 18, 2025 3 Min Read
0

جب میں ماں بولی کی اہمیت پر لکھتا ہوں تو ذہن بار بار اس تاریخی لمحے کی طرف جاتا ہے، جہاں ہماری ریاست نے پہلی بار اپنی ہی بنیاد کو آزمایا، اس لیئے پنجاب میں زبانوں کی صورتحال کے بعد دیگر صوبوں میں ماں بولیوں پہ بات کرنے سے پہلے اس درد ناک لمحے کو یاد کر لیتے ہیں، وہ لمحہ مشرقی بنگال کا تھا، وہ دھرتی جس کے بغیر پاکستان کا وجود ادھورا تھا۔ تحریکِ پاکستان میں سب سے زیادہ حصہ، سب سے زیادہ قربانیاں، اور آزادی کے بعد سب سے زیادہ آبادی بنگلہ قوم کی تھی، مگر اسی قوم کی ماں بولی کو سب سے پہلے نظرانداز کیا گیا۔

وہی مشرقی بنگال جس کی آبادی، سیاسی وزن اور تحریکِ پاکستان میں عملی کردار باقی تمام صوبوں سے زیادہ تھا، 1948 میں قائداعظم کی ڈھاکا یونیورسٹی میں تقریر کے دوران ”صرف اردو قومی زبان ہوگی“ کا اعلان دراصل اس پالیسی کی پہلی اینٹ تھا، جس نے آنے والے برسوں میں گہری خلیج پیدا کی۔ طلبہ اور اساتذہ نے اپنی زبان کے احترام کے لیے جب آواز اٹھائی تو جواب میں ریاستی جبر آیا، گولیاں چلیں، نوجوان مارے گئے، اور یوں پاکستان کی پہلی زبان کی تحریک خون میں نہلا دی گئی۔

1940 قراردادِ پاکستان نے یقین دلایا تھا کہ یہاں بسنے والی تمام قوموں کی شناخت، ثقافت اور زبانوں کا احترام ہوگا، مگر آزادی کے بعد جب ڈھاکا یونیورسٹی میں ”صرف اردو قومی زبان ہوگی“ کا اعلان ہوا تو یہ اعلان دراصل اس وعدے کی پہلی خلاف ورزی تھی۔ مشرقی بنگال کے طلبہ، استاد، شاعر اور سیاستدان اپنی زبان کی عزت مانگ رہے تھے۔ کوئی خطرہ نہیں، کوئی علیحدگی نہیں… بس اپنی ماں بولی کے حق کا مطالبہ۔۔ لیکن جواب میں ریاستی طاقت سامنے آئی، لاٹھیاں، گرفتاریاں، اور وہ دن بھی آیا جب بنگالی نوجوان اپنی زبان کے لیے گولیوں کا نشانہ بنے۔

یہ باب ہماری تاریخ میں محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس پورے خطے کی زبانوں کے لیے ایک بنیادی سبق ہے: کوئی قوم اپنی زبان کی بےحرمتی برداشت نہیں کرتی۔ زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں، یہ شناخت ہے، گھر ہے، نسلوں کی جڑ ہے۔ جب ریاست کسی قوم سے اس کی زبان چھیننے کی کوشش کرتی ہے تو وہ دراصل اس قوم کے وجود پر حملہ کرتی ہے۔

مشرقی بنگال کی جدوجہد نے ثابت کیا کہ ماں بولی کی حفاظت ایک فطری حق ہے، کسی آئین یا حکومت کی عطا نہیں۔ بنگلہ زبان کی تحریک بتاتی ہے کہ لسانی وقار اگر آئینی اور سیاسی ڈھانچے میں تسلیم نہ کیا جائے تو اس کا نتیجہ شدید بے چینی، مزاحمت اور بالآخر جدائی تک جا سکتا ہے۔

آج جب میں اپنی ماں بولی، اپنے لوگوں، اور اس سرزمین کی زبانوں کے مستقبل پر بات کرتا ہوں تو بنگال کی وہ داستان سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ زبانوں کا سوال محض الفاظ اور لہجوں کا سوال نہیں، یہ قوموں کی بقا کا معاملہ ہے۔ اگر ہمارے ہاں مادری زبانوں کو ان کا جائز مقام مل جاتا، تو شاید ہم کئی تلخ تجربات سے بچ سکتے تھے۔ ماں بولی کا احترام صرف ماضی کا تقاضا نہیں، یہ مستقبل کی ضرورت بھی ہے۔

(جاری ہے)

Tags:

1940 Lahore ResolutionBengali language movementBengali mother tonguebloodshed for languagebroken political promisescollective trauma and languageconstitutional promises and languagecultural autonomycultural marginalizationcultural respect and diversityCultural Rootscultural survivalDhaka University 1948 speechdiversity and inclusionEast Bengal historyendangered languages Pakistanethnic identity protectionfuture generations and languagefuture of native languagesheritage and languagehistorical consciousnesshistorical injusticehistorical memoryhistory of Pakistan languagesIdentity Erosionidentity politics South Asialanguage and citizenshiplanguage and freedomlanguage and human rightslanguage and identitylanguage and nationhoodlanguage and politicslanguage and powerlanguage and social justicelanguage as homelanguage as resistancelanguage policy failureslanguage rights strugglelanguage-based nationalismlessons from historylinguistic dignitylinguistic discriminationlinguistic harmonylinguistic identitylinguistic justicelinguistic oppressionlinguistic pluralismmartyrs of language movementmother tongue educationmother tongue importancemother tongue preservationmother tongue respectmultilingual society challengesnationalism and languagenative language rightsPakistan language policypolitical awakening through languagepolitics of identitypostcolonial language issuespostcolonial state crisisprovincial languages rightsQuaid-e-Azam language speechroots of Bangladesh movementsocial cohesion and languagestate and language conflictstate violence and dissentstudent movements historystudents and teachers activismsuppression of native languagessurvival of culturesUrdu imposition debatevoices of the oppressed
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Armenias-Ancient-Dragon-Stones-Monuments-to-a-Six-Thousand-Year-Old-Water-Cult
Previous

آرمینیا کے قدیم ’ڈریگن اسٹونز‘: چھ ہزار سال پرانے آبی فرقے کی یادگاریں

Bahria-town-Karachi-wildlife-KNP
Next

کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ سے متعلق درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme