Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

مستقبل میں خلا باز چاند پر موجود پانی استعمال کر سکیں گے

By Akhtar Rasool
مئی 20, 2022 4 Min Read
0

مستقبل میں چاند پر جانے والے خلا باز اپنی پیاس بجھا سکیں گے، نہا سکیں گے اور اپنی خلائی گاڑی کے لیے پانی کو بطور ایندھن استعمال کر سکیں گے اور اس سب کے لیے پانی کو چاند پر موجود قدیم آتش فشاؤں سے تھوڑی سی کھدائی کرکے حاصل کیا جائے گا

یہ انکشاف یونیورسٹی آف کولوریڈو بولڈر کے محقیقن کی جانب سے ’دا پلینٹری سائنس جرنل‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں کیا گیا ہے

تیزی سے سامنے آنے والے شواہد سے پتہ چلا ہے چاند پر اندازوں سے زیادہ پانی موجود ہے، جو اس کے دونوں قطب پر موجود سایہ دار گڑھوں میں چھپا ہوا ہے

تحقیق سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس پانی کا زیادہ تر حصہ اسی بڑے پیمانے پر آتش فشاں پھٹنے سے حاصل ہو سکتا ہے، جس سے نکلنے والے لاوے کے بہاؤ سے چاند کی سطح پر گڑھے پیدا ہوئے تھے اور یہیں پانی کے بخارات جمع ہو کر عرض البلد کے مقامات پر منجمد حالت میں موجود ہیں

مقالے کے سرکردہ مصنف، فلکیات اور سیاروں کے علوم میں گریجویشن کے طالب علم اینڈریو ولکوسکی اور کولوراڈو یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پانی کو چاند پر جمی برف کے طور دیکھتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ جمع ہوا ہے‘

طویل وقت کے ساتھ یہاں برف کی درجنوں یا اس سے بھی کئی فٹ زیادہ موٹی پرتیں بن سکتی تھیں۔ چاند کی تسخیر اور وہاں کے مقامی وسائل پر انحصار کرنے والے خلابازوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے جن کو پانی حاصل کرنے کے لیے محض چاند کی مٹی کو ہی ہٹانا پڑے گا

مطالعے کے شریک مصنف اور فلکی طبیعیات اور سیاروں کی سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر پال ہین نے ایک بیان میں کہا: ’یہ ممکن ہے کہ چاند کی سطح سے پانچ یا دس میٹر نیچے سے آپ برف کی بڑی پرتوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ہمیں واقعی ڈرل کرنے اور اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے‘

حالیہ شواہد اس سے بھی زیادہ ہائیڈریٹڈ (پانی کی موجودگی والے) چاند کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جتنا کہ سائنسدانوں کو توقع تھی

یاد رہے کہ سال 2020ع میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی تحقیق میں بتایا تھا کہ چاند پر موجود پانی پر مشتمل برف سورج کی سخت تپش میں بخارات بننے کے بجائے دھوپ والی جگہوں پر بھی سائے میں ہونے کے باعث پگھلنے سے بچ سکتی ہے۔ تاہم یہ غیر واضح ہے کہ پانی والی یہ برف کہاں سے آئی ہے

نئے مقالے میں 2017ع کی تحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ساڑھے تین ارب سال پہلے چاند کے پھٹنے سے اتنا گیس پر مشتمل مواد خارج ہوا تھا کہ چاند کی فضا میں مریخ پر موجودہ ماحول سے ڈیڑھ گنا زیادہ سطحی دباؤ پیدا ہو گیا لیکن یہ قمری ماحول سات کروڑ سال کے عرصے میں خلا میں زائل ہو گیا

تاہم ڈاکٹر ہین اور ولکوسکی کا خیال ہے کہ آتش فشاں پھٹنے سے پانی کے بخارات چاند کی سطح پر برف کی طرح جم گئے ہوں گے

ان کے کمپیوٹر ماڈلنگ سے پتہ چلتا ہے کہ نہ صرف پانی پر مشتمل برف اس طرح سے وجود میں آئی ہو گی بلکہ تقریباً اٹھارہ کواڈریلین پاؤنڈ آبی بخارات، جو تقریباً ان اکتالیس فیصد آبی بخارات پر مشتمل تھے، جو فعال قمری آتش فشاں سے خارج ہوئے، برف کی طرح منجمد ہو گئے ہوں گے

پانی کی یہ مقدار مشی گن جھیل کے پانی سے بھی زیادہ ہے اور یہ ناسا کے لیے بڑی خوشخبری ہو سکتی ہے، کیوں کہ امریکی خلائی ایجنسی اپنے ’آرٹیمس پروگرام‘ کے تحت 2025ع میں انسان کو چاند پر واپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور 2027ع سے شروع ہونے کے بعد تقریباً ہر سال ایک مشن چاند پر بھیجا جائے گا

خلا میں لے جانے کے لیے پانی ایک بھاری سامان ہے اور پھر بھی اسے لے جانا ضروری ہے۔ خلابازوں کو پینے، خوراک اگانے اور راکٹ کا ایندھن بنانے کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ زمین سے خلائی جہاز چاند پر موجود خلابازوں کو ایک انتہائی کم مقدار میں ہی اسے سپلائی کر سکتا ہے تو ناسا ان مقامات کی تلاش میں ہے جہاں یہ آسانی سے دستیاب ہو

ایک جانب آرٹیمس مشن میں چاند کا مطالعہ کیا جائے گا، وہیں ناسا اسے مریخ کے حتمی مشن کے لیے تربیتی میدان اور لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے

چاند اور پھر مریخ کی سطح پر ایک وقت میں ہفتوں یا مہینوں تک زندہ رہنے کے لیے ضروری ٹیکنالوجیز، آپریشنز اور طریقہ کار کی جانچ کرنے والے خلابازوں کے لیے چاند کے پانی کا استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

Tags:

astronautsuse the water on the moonwater on the moon
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

لاپتہ ہونے والے عبدالحفیظ زہری کا سراغ کراچی کی جیل سے مل گیا ’خوشی بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں‘

Next

جام ساقی، کمیونسٹ سازش کیس (آخری حصہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme