Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

مشتری کے چار چاندوں پر زندگی کے امکانات جاننے کا مشن

By Akhtar Rasool
اپریل 15, 2023 5 Min Read
0

مغربی خلائی ادارہ ’یوروپین اسپیس ایجنسی‘ ( ای ایس اے) سیارہ مشتری پر ایک سیٹلائٹ بھیجنے کی تیاریاں مکمل کر چکا ہے، جو اس ادارے کے اب تک بھیجے گئے بہترین مشنوں میں سے ایک ہے

یہ سیٹلائٹ آٹھ سال تک تحقیقات کرنے کے لیے جمعرات کو زمین کے مدار سے نکلا تا کہ جولائی تک مشتری کے بڑے چاندوں تک پہنچ سکے

ماہرین کے پاس اس بات کے کافی ثبوت ہیں کہ ان چاندوں کی یہ برفیلی دنیا – ’کالیستو‘ (Callisto)، ’یوروپا‘ (Europa) اور ’جانيميد‘ (Ganymede) – کی گہرائی میں مائع پانی کے سمندر موجود موجود ہیں

ای ایس اے کے اِس مشن کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا چاند میں بھی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار حالات موجود ہیں یا نہیں؟

اس منصوبے کو ’جوپیٹر آئسی مُون ایکسپلورر‘ یا مختصراً ’جوئس‘ (Juice) کا نام دیا گیا ہے

جوئس زندگی کا پتہ لگانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ یہ اجنبی مچھلیوں کی تصاویر واپس نہیں بھیجے گا۔ لیکن یہ اس بات کا تعین کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ آیا مشتری کے چاندوں کے پوشیدہ سمندروں کے حالات میں سادہ ’مائکروبیل اورگینزِم‘ (حیوانی جرثومے) کی موجودگی کا کوئی امکان ہے یا نہیں

’ای ایس اے‘ میں سائنس کے ڈائریکٹر پروفیسر کیرول منڈیل کہتے ہیں ”یہ کوئی جنونی خیال نہیں ہے۔ زمین کے ہر انتہائی ماحول میں چاہے اس میں تیزابیت زیادہ ہو، تابکاری زیادہ ہو، کم درجہ حرارت ہو، زیادہ درجہ حرارت ہو، ہمیں کسی نہ کسی شکل میں مائکروبیل زندگی ملتی ہے“

انہوں نے کہا ”اگر آپ زمین کے سمندروں کے نچلے حصے میں (آتش فشاں) روشندانوں کو دیکھیں تو یہ بھی اجنبی دنیا کی طرح نظر آتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس بھی ایسی ہی صورتحال ہے تو اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ مائکروبیل زندگی کسی اور جگہ موجود نہ ہو۔ اور یہ وہ حالات ہیں جن کا ہم جوئس کے ذریعے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں“

پونے دو ارب ڈالر کی مالیت کے مشن کو ’آرئین-5‘ (Ariane-5) راکٹ پر لاد کر فرانسیسی گیانا کے ایک مقام ’کوراؤ‘ سے ت
روانہ کیا گیا

’آرئین-5‘ (Ariane-5) میں اتنی انرجی نہیں ہوگی کہ وہ جوئس کو مشتری کے چاندوں تک ایک فائدہ مند ٹائم فریم کے اندر لے جائے

اس کے بجائے یہ خلائی جہاز کو اندرونی نظام شمسی کے گرد ایک راستے پر بھیجے گا۔ زہرہ اور زمین کے ’فلائی بائیس‘ کا ایک سلسلہ جو کشش ثقل کے ذریعے اس مشن کو اس کی مطلوبہ منزل تک لے جائے گا۔ (’فلائی بائیس‘ flybys — ایک نقطہ سے آگے کی پرواز، خاص طور پر مشاہدے کے لیے کسی سیارے یا چاند کے لیے خلائی جہاز کا قریبی نقطہ نظر)

امکان ہے کہ یہ مشن مشتری سیارے کے نظام میں جولائی 2023ع تک داخل ہو جائے گا

جوئس سیٹلائیٹ مشتری کے چاند ’جانيميد‘ کے گرد مدار میں ٹھہرنے سے قبل یہ مشن ان چاندوں کے قریب سے پینتیس مرتبہ گزرے گا

خلائی جہاز میں کل دس آلات لگے ہوئے ہیں۔ چاند کی ذیلی سطح کی خصوصیات کا نقشہ بنانے کے لیے مختلف کیمرے، ذرات کو جانچنے والا آلہ (پارٹیکل ڈٹیکٹر)، ریڈار ہیں۔ یہاں تک کہ موسمیات کے جائزے کے لیے بھی ایک آلہ ہے جو سطحی کے ’تھری ڈائمنشنل‘ (3D) نقشے بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے

لیکن یہ برطانیہ کا فراہم کردہ میگنیٹومیٹر ہے، جو کچھ انتہائی بااثر ڈیٹا فراہم کر سکتا ہے۔ امپیریل کالج لندن کا بنایا ہوا آلہ چاند کے پوشیدہ سمندروں کی خصوصیات کے بارے میں بتائے گا۔ اور خاص طور پر ’گانیمیڈ‘ (Ganymede) کو موثر طور پر عمل کرنے کے لیے میں معلومات کافی مفصل ہونی چاہیے

امپیریل کے میگنیٹومیٹر کے پرنسپل انویسٹی گیٹر، پروفیسر مشیل ڈوگرٹی نے وضاحت کی کہ ’ہم سمندر کی گہرائی، اس کے نمکیات، سمندر کے اوپر کی پرت کتنی گہرائی میں ہے، اور کیا سمندر چٹانی چادر کے ساتھ رابطے میں ہے، یہ سب کچھ جان لیں گے۔‘

انہوں نے کہا ”لہٰذا ہمیں چاند کی اندرونی ساخت کی سمجھ حاصل ہو جائے گی، اور سطح کو دیکھنے والے دیگر آلات کے مشاہدات سے ہم یہ مسئلہ حل کر سکیں گے کہ آیا اس سطح پر نامیاتی مواد موجود ہے“

واضح رہے کہ ہم نے زمین پر موجود زندگی سے سیکھا ہے کہ زندگی کو چار ضروری اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے: مائع پانی، کسی قسم کے غذائی اجزاء، توانائی کا ذریعہ، اور وقت – استحکام کی ایک طویل مدت جس کے دوران حیاتیات اپنے قدم جما سکتی ہے اور خود کو قائم کر سکتی ہے

اگر اب نہیں تو اس کے ماضی بعید میں ہم نے طویل عرصے سے زمین کے بعد مریخ کو زندگی کو قائم رکھنے کا سب سے زیادہ امکانی امیدوار سمجھا ہے

لیکن ماہرین فلکیات کے لیے، سائنسدان جو کائنات میں کہیں اور زندگی کے امکان کا مطالعہ کرتے ہیں، مشتری اور زحل کے برف سے ڈھکے چاند واقعی اپنے میں ہماری دلچسپی پیدا کرنے لگے ہیں

یہ دنیائیں سورج سے بہت دور، نظام شمسی کی سرد فضا کی بیرونی حلقے میں موجود ہوسکتی ہیں، اور وہ زندگی کے لیے ضروری چار اجزاء کو پورا کرنے کے قابل ہوسکتی ہیں، یہاں تک کہ توانائی کی فراہمی کے بھی امکانات ہوتے ہیں۔ یہ کسی ستارے کی روشنی اور گرمی نہیں ہے، بلکہ چاندوں پر مسلسل کم ہوتی ہوئی کشش ثقل اور دیوہیکل سیاروں کو اپنے سے دور دھکیلنا کے عمل ہے

یہ وہ لچک ہے، جو پانی کو مائع کی شکل میں رکھنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے اور یہ سمندر کے فرش پر آتش فشاں کے نظام کو بھی چلا سکتا ہے جس کا پروفیسر منڈیل نے ذکر کیا ہے اور جس کے بارے میں کچھ سائنس دانوں کے خیال میں زمین پر زندگی کی ابتدا کا سبب ہو سکتی تھی

یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے ماہر فلکیات پروفیسر لیوس ڈارٹنل کا کہنا ہے کہ ’اگر میں شرط لگانے والا آدمی ہوتا، تو میں شاید یوروپا پر اپنی رقم لگاتا جو زندہ ہے، جو آج موجود ہے۔ اس کے امکانات آج مریخ پر موجودہ زندگی تلاش کرنے کی کوششوں سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

امریکہ اگلے سال اپنے ساتھی مشن کا آغاز کرے گا، جسے ’کلپر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ یوروپا پر توجہ مرکوز کرے گا، 50 ’فلائی بائیس‘ بنائے گا، جن میں سے کچھ پچیس کلومیٹر سے بھی کم فاصلے کے ہوں گے

سیاروں کی منزل کے قریب سے گزرنے کے بعد عام طور پر بعد میں ایک خلائی جہاز مدار میں جاتا ہے اور پھر ایک اور مشن اترنے کی کوشش کرتا ہے

اس طرح مریخ پر ریسرچ میں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں ہم ایک اضافی قدم اٹھانے والے ہیں، وہ لیبارٹری میں مطالعہ کرنے کے لیے مواد کو زمین پر واپس لانے کی کوشش کرنا ہے

مشتری اور زحل کے چاندوں کی تحقیقات ترتیب میں اتنی ترقی یافتہ نہیں ہیں، لیکن اس صدی کے آخر میں ایسے منصوبوں کا تصور کرنا ممکن ہے جو نظام شمسی کے ان دلکش بیرونی اجسام پر اتریں اور ان کی برفیلی تہوں کو کھود کر نیچے کے پانیوں کا نمونہ حاصل کر سکیں

ماہر فلکیات رائل، پروفیسر سر مارٹن ریس کہتے ہیں ”اگر ہمیں زحل یا مشتری کے چاندوں پر زندگی کے شواہد ملتے ہیں تو تقریباً یقینی طور پر یہ ایک آزاد اور پہلی مرتبہ کی گئی اصل تحقیق ہوگی“

انہوں نے کہا ”اس کے بعد یہ تحقیق ایک اہم پیغام دے گی کہ زندگی، اگر یہ تحقیق ہمارے نظام شمسی میں آزادانہ طور پر دو بار شروع ہوئی تھی، تو یہ کوئی نایاب اتفاق نہیں ہو سکتی ہے، اور یہ (زندگی) یقینی طور پر ہماری کہکشاں میں ایک ارب جگہوں پر موجود ہے، اور یہ دریافت مکمل طور پر کائنات کو دیکھنے کا تصور بدل دیتی ہے۔ پھر ہم زندگی کے راز کو سمجھنے کے لیے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں“

Tags:

galilean moonsjuice missionjupiter icey moon explorer mission animationjupiter icy moons explorejupiter icy moons explorerjupiter icy moons explorer (juice)jupiter icy moons explorer launch datejupiter icy moons explorer missionjupiter icy moons explorer trajectoryjupiter icy moons orbiterjupiter moonsjupiter's moonslife on jupiter's moon europalife on the moons of jupitermoons of jupiterstrange fm signal found on jupiter's moon
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’بکھرے ہوئے سفید موتی‘ عمرہ زائرین کی سجدے میں خوبصورت تصویر

Next

واٹس ایپ: مختصر وڈیو پیغام اور فارورڈ میسیج کے نئے فیچرز

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme