Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

مشرق وسطیٰ میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے مزید جنگیں نہیں چھیڑیں گے: امریکہ

By Akhtar Rasool
مئی 25, 2023 3 Min Read
0

امریکہ کی نائب وزیر دفاع برائے اسٹریٹیجی مارا کارلن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگیں نہیں چھیڑے گا

عرب نیوز کے مطابق امریکہ کی نائب وزیر دفاع برائے سٹریٹیجی، پلان اور کیپیبلٹی مارا کارلن کا کہنا ہے کہ امریکہ نئی قومی دفاعی حکمت عملی کے تحت فوجی کارروائیوں کے ذریعے حکومتوں کو تبدیل کرنے کی یکطرفہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے بجائے علاقائی ریاستوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے اور شراکت داری کے فروغ پر توجہ مرکوز کریں گے

بدھ کو واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں ایک اہم خطاب کے دوران مارا کارلن نے کہا کہ امریکہ کی نئی قومی دفاعی حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں علاقائی خطرات سے نمٹنے کے لیے شراکت داری اور باہمی تعاون کے ساتھ کام کرے گا

انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی سٹریٹیجی کے تحت آتا ہے جس میں شراکت داری، سفارتکاری میں جارحانہ اقدامات کی روک تھام، انضمام اور اقدار شامل ہیں

مارا کارلن نے مشرق وسطیٰ کے لیے نئی قومی دفاعی حکمت عملی کو ایک ’پیراڈائم شفٹ‘ یعنی بنیادی تبدیلی قرار دیا جس کے تحت خطے سے لاکھوں امریکی فوجیوں کو نکالنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نئی پالیسی کے تحت علاقائی ممالک کے ساتھ شراکت داری، پیچیدہ فوجی مشقیں اور اتحادیوں کے ساتھ باہمی ہتھیاروں کے نظام پر کام کرنا ہوگا

تاہم کارلن نے کہا کہ اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے عزائم میں کوئی کمی آئی ہے

ان کا کہنا تھا کہ قومی دفاعی حکمت عملی بہت واضح ہے اور امریکہ مشرق وسطٰی میں موجود رہے گا

مارا کارلن کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ امریکہ کی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اسے ایک اہم جز سمجھتا ہے

انہوں نے کہا ’سچ کہوں تو اس خطے میں ہمارے قومی سلامتی کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

کارلن نے کہا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرق وسطیٰ کے حالیہ دورے کے دوران امریکی حکمت عملی کو ’سفارت کاری‘ اور ’تصادم سے بچاؤ‘ کے طور پر بیان کیا تھا

تاہم امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا ’لیکن اگر ہمیں جارحیت کو پیچھے دھکیلنے پر مجبور کیا گیا تو ہم جیتیں گے اور فیصلہ کن طور پر جیتیں گے۔‘

’ہمیں اس پر واضح ہونا چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے لیے امریکہ کا عزم مضبوط اور یقینی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ خطے میں ایران کے ’لاپرواہ رویے‘ سے خطے میں افواج کے اشتراک اور باہمی تعاون کے ذریعے نمٹا جائے گا

کارلن نے اس حکمت عملی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ’مشترکہ میری ٹائم فورسز‘ کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ چونتیس رکنی فورس سمندروں میں منشیات کی سمگلنگ اور بحری قزاقوں سے نمٹنے کے لیے ہو گی اور تجارتی ترسیل کو یقینی بنائے گی

کارلن نے یمن اور اور عراق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی نئی حکمت عملی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے

انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں یمن میں اس وقت متحارب فریقوں کے درمیان ایک طویل جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری جاری ہے جبکہ عراق کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے

انہوں نے عرب ریاستوں کے اتحاد کے ذریعے عراق اور شام میں ’القاعدہ اور داعش‘ جیسے شدت پسند تنظیموں کو شکست دینے کا بھی ذکر کیا

کارلن نے کہا کہ عالمی سطح پر نئی قومی دفاعی حکمت عملی نے مستقبل میں چین کو امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے

امریکہ کی نئی دفاعی حکمت عملی میں روس کو ’شدید‘ خطرے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ایران، شمالی کوریا اور دہشت گرد تنظیموں سمیت دیگر خطرات کو بھی ذکر ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے اپنی نئی دفاعی حکمت عملی پیش کی تھی۔

Tags:

Biodiversitycenter for strategic and international studieselcano royal instituteenergy transitionfood wasteforeign relationsgreat powergreat power identitygreat power statusgreen transitioninternational institute for strategic studiesinternational relationsmiddleMiddle Eastmiddle east institutemiddle east politicsNorth KoreaPalestiniansPowerpower transitionsreal instituto elcanou.s.-chinese relationsUnited Nations
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دنیا کرونا سے بھی بڑی اور مہلک وبا کے لیے تیار رہے: عالمی ادارہ صحت

Next

مہنگے پان، نسوار اور سگریٹ۔۔ بھاری ٹیکسوں سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme