Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

reducing-agricultural-land-in-Malir
اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

ملیر: جہاں فصلیں مٹ گئیں اور عمارتیں اُگ آئیں

By Akhtar Rasool
نومبر 27, 2025 2 Min Read
0

اگر انسانی سماج کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک زمانہ تھا جب انسان غاروں میں رہتا تھا، جانوروں کا شکار کرتا تھا اور جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا تھا۔ اس دور کو Hunting and Gathering Society یا پتھر کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ پھر انسانی ارتقا میں ایک عظیم انقلاب آیا۔ ایک ایسا انقلاب جس میں عورت نے بنیادی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی دور میں انسان نے بیج بویا، زمین کو کاشت کیا، فصل اگائی اور یوں زرعی معاشرہ وجود میں آیا۔

زرعی معاشرے نے انسان کو تہذیب، شعور اور استحکام دیا۔ انسان سبزیاں، غلے اور پھل اگانے لگا، اور یہی وہ نعمتیں تھیں جنہوں نے اسے صحت، توانائی اور پائیدار زندگی عطا کی۔

انسان کے جسم کو ہمیشہ قدرتی خوراک کی ضرورت رہی ہے؛ سبزیاں اور پھل آج بھی انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہیں۔ دنیا کے کئی شہر آباد ہوئے، کچھ مٹ گئے اور کچھ تاریخ کے اوراق میں کھو گئے، مگر زمین سے اگنے والی یہ نعمتیں آج بھی انسان کے زندہ رہنے کی بنیادی ضرورت ہیں۔

لیکن جب انسان نے کرنسی، منڈی اور منافع کا تصور پیدا کیا تو لالچ اور خودغرضی نے جنم لیا۔ پہلے انسان صرف ضرورت کے مطابق چیزیں جمع کرتا تھا، مگر منڈیوں کے پیدا ہونے کے بعد سماج سرمایہ دارانہ دوڑ میں شامل ہو گیا۔

اسی تناظر میں اس تصویر کو دیکھیں سامنے توری/گلکا کی فصل، تازہ سبز بیلیں اور زرد پھول اس زرعی معاشرے کی ہزاروں سالہ تاریخ بیان کر رہے ہیں، مگر پس منظر میں کھڑی بحریہ ٹاؤن کی اونچی عمارتیں اس کہانی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کے درپے دکھائی دیتی ہیں۔

ملیر کی زمین، جو صدیوں سے زراعت کا مرکز رہی ہے جہاں نسلیں آباد رہیں، جہاں انسان نے فصلوں سے غذائیت پائی اور صحت حاصل کی آج اسی زمین کو ترقی کے نام پر لینڈ مافیا، بلڈرز اور سرمایہ دار منصوبوں کی ہوس کے سامنے برباد کیا جا رہا ہے۔

ملیر ندی اور تھدو ندی، جو کھیرتھر کے پہاڑوں سے نکل کر کراچی کے سمندر تک زمینوں کو سیراب کرتی تھیں، آج شدید تباہی کا شکار ہیں۔ ان کے بستر سے مٹی نکال کر انہیں زہرآلود گڑھوں میں بدل دیا گیا ہے۔ ان میں فیکٹریوں کا کیمیکل فضلہ بہایا جا رہا ہے، جو نہ صرف ماحول اور پرندوں کے لیے زہر ہے بلکہ پورے زرعی نظام کو ختم کر رہا ہے اور اس بربادی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

یہ صرف زمین کا قبضہ نہیں۔۔ یہ انسان کی قدرتی خوراک، اس کی صحت، اس کا معاشی حسن، اس کا ماحول اور اس کی تہذیب کو ختم کرنے کا عمل ہے۔

Tags:

AgriculturalDeclineAgriculturalHeritageAgriculturalHistoryAgriculturalIdentityAnthropoceneImpactBahriaTownImpactBirdHabitatThreatBuilderMafiaCapitalistExpansionCapitalistGreedCapitalistHungerChemicalWasteClimateVulnerabilityCommunityDisplacementCommunityLivelihoodsConcreteJungleCulturalErosionDestroyedRiversecocideEcologicalCollapseEconomicGreedEcoSystemDamageEnvironmentalAwarenessEnvironmentalCollapseEnvironmentalDestructionEnvironmentalJusticeEnvironmentalNeglectEnvironmentalNegligenceFarmingCommunitiesFarmingHeritageLossFarmingToBuildingsFoodChainDamageFoodSecurityThreatGreenCoverLossGreenEcosystemHazardousWasteHealthyEcosystemsHistoricalAgricultureHumanHealthImpactIllegalExcavationIndigenousLandRightsIndustrialToxinsKarachiEnvironmentKarachiLandIssuesKirtharRangeLandAndWaterCrisisLandExploitationLandgrabbersLandMafiaLandOwnershipConflictLandRightsViolationLocalCommunitiesLossOfAgrarianLifeLossOfGreenSpacesLostFertilityMalirAgricultureMalirRiverMalirValleyMegaConstructionMegaHousingProjectsMonsoonDrainageMountainStreamsNaturalFoodLossNaturalHabitatLossNaturalNutritionNaturalResourcesPlunderNatureConservationNatureInDangerNatureVsConcretePollutionCrisisPublicHealthThreatRegenerativeAgricultureResourceMismanagementRiverbedDestructionRiverDestructionRuralDisplacementSocioeconomicImpactSoilDegradationSoilMiningSustainableAgricultureThadoRiverThreatenedAgricultureThreatToBiodiversityToxicDumpingToxicEcosystemsTraditionalAgricultureTraditionalFoodSystemsUnsustainableDevelopmentUrbanDevelopmentPressureUrbanEnvironmentalIssuesUrbanExpansionUrbanGreedUrbanizationCrisisUrbanSprawlVanishedVegetationVanishingCropswaterpollutionWaterTableDeclineWaterwaysPollutionWetlandDestruction
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Simulation-Is-our-world-just-a-supercomputer-game
Previous

سمیولشن: کیا ہماری دنیا محض کسی سپرکمپیوٹر کا کھیل ہے؟ سائنس کی نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟

A-silent-poison-and-the-tragic-story-of-a-sinking-civilization
Next

منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme