Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتکالم

منتخب نمائندوں کی راہ تکتا حاجی شمبے گوٹھ شرافی کا تباہ حال اسکول

By Akhtar Rasool
مارچ 2, 2022 4 Min Read
0

فطرت اور قدرت کا قانون ہے کہ اگر کوئی شخص یا اگر کوئی قوم کسی گناہ کا مرتکب ہوتی ہے، تو اسے ہر حال میں کسی نا کسی طرح سزا مل کر رہتی ہے، دنیا اسے مکافات عمل کہتی ہے

ہمارے یہاں سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے تو سیاست میں بھی یہی قانون ایک مختلف زاویے سے لاگو کر دیا گیا ہے کہ کسی علاقے سے اگر کسی پارٹی کو الیکشن میں ووٹ نہ دیا جائے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس علاقے کے لوگوں کو بر سر اقتدار پارٹی نظر انداز کر کے یہ کہہ دیتی ہے کہ ”نہ صرف تجھ سے انتقام لینا ہے، حساب وحشت تمام لینا ہے“

مگر روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے شرافی کے حاجی شمبے گوٹھ کے مکینوں سے یہ گناہ بھی سرزد نہیں ہوا، لیکن اس کے باوجود نظر انداز کیا جانا ان کے مقدر میں لکھ دیا گیا

اس علاقے کے لوگوں نے انتخابات میں اِس وقت سندھ میں برسر اقتدار جماعت کے نمائندوں کو ہی ووٹ دیا، جو کامیاب بھی ہو گئے لیکن مذکورہ بالا قانونِ انتقام لاگو کیے جانے پر علاقہ مکین اپنے اس گناہ کی کھوج میں ہیں، جو اس سزا کی وجہ بنا، جو وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیے جانے کی صورت میں بھگت رہے ہیں

شرافی کے علاقے میں واقع شمبے گوٹھ کا یہی وہ اسکول ہے، جب الیکشن سے پہلے اس حلقہ انتخاب سے کامیاب ہونے والے امیدوار نے اسکول کی عمارت دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پہلے اسکول کی عمارت تعمیر کرنے اور یہاں تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا وعدہ کیا

وقت آن پہنچا، الیکشن ہوئے اور امیدوار کی کامیابی پر حلقہ مکینوں نے لیوا ڈھول کی تھاپ پر خوب جشن بھی منایا

اپنے گوٹھ والوں کو خوشی کے عالم میں رقص کرتے دیکھ کر اس تباہ حال اور کھنڈر نما اسکول کی عمارت کی بھی امید بندھی کہ اب یقیناً میرے بھی دن پھرنے والے ہیں. عمارت پر امید نگاہوں سے اسی انتظار میں تھی کہ اس کی از سر نو تعمیر نہ سہی، کم از کم مرمت کر ہی دی جائے گی

لیکن بسا آرزو کہ خاک شد.. یہ انتظار، انتظار ہی رہا کہ اس خواب کے نصیب میں تعبیر لکھی ہی نہ تھی

بات یہیں تک رہتی، تب بھی ٹھیک تھا لیکن اسکول کی عمارت کے لئے امید کا سورج بھری دوپہری میں اس وقت غروب ہوا جب محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کا نام ”ڈیلیٹڈ لسٹ“ میں شامل کر دیا گیا

اربابِ اختیار نے اس اسکول کی پکار تو نہ سنی لیکن اسی عالم میں اس عمارت کی چیخیں گوٹھ کے ان معصوم بچوں کو ضرور سنائی دیں، جو اس جدید دور میں بھی تعلیم سے محروم ہیں

ایک عام آدمی کو گوٹھ کے گلی کوچوں میں بچے بظاہر مٹی سے کھیلتے نظر آتے ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو اپنے بڑوں کے ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتے یہ بچے دراصل اپنے مستقبل کو تلاش کر رہے ہیں

اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ اپنے گوٹھ کے اسکول کا نام ڈیلیٹڈ لسٹ میں دیکھ کر یہ بچے اپنے مستقبل کو اپنے معصوم ہاتھوں سے گڑھا کھود کر دفنا رہے ہیں شاید…

کتابوں میں پڑھا ہے کہ جاہلیت کے دور میں سرزمینِ عرب کے لوگ اپنی معصوم بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے، سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس جدید و تعلیمی دور میں کس سزا کی پاداش میں شمبے گوٹھ کے بچوں کو اندھیری راہوں میں دھکیلا جا رہا ہے

 

اکیسویں صدی کے میٹروپولیٹن شہر میں چراغ تلے اندھیرا دیکھ کر تعلیم سے آراستہ لوگ جب یہ سوچتے ہیں کہ حیرت ہے یہاں کہ لوگوں کو اپنے بچوں کو تعلیم دینے کا ہوش تک نہیں ہے… تب اس سوچ کے جواب میں اسکول کی کنھڈر بنی یہ عمارت چیخ اٹھتی ہے…. نہیں جناب! دورِ جاہلیت میں صرف لڑکیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا، اب زمانہ بدل گیا ہے… اب اگر کسی قوم کے مسقبل کے معماروں کو زندگی سے محروم رکھنا ہے تو انہیں زندہ دفن کرنے کے بجائے نا کردہ گناہ کی سزا میں تاریک مستقبل کی طرف دھکیلا جائے

ضلع ملیر، یونین کاؤنسل نائن شرافی کے حاجی شمبے گوٹھ کے معصوم بچوں کا مستقبل اسی سلوک کے بھنور میں پھنسا نظر آتا ہے۔ گلیوں میں مٹی سے کھیلتے بچے اور ان کا کھنڈر بنا اسکول کس سے سوال کریں؟ کس کو قصور وار ٹھہرائیں؟

Tags:

MalirSharafi GothSindh Schools Building
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ہم نے جو جنگیں لڑیں

Next

اٹلس ہونڈا نے موٹر سائیکلوں کی قیمت میں اضافہ کردیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme