Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

منچھر جھیل، جہاں زمین کے ہونٹوں پر پپڑیاں جم چکی ہیں

By Akhtar Rasool
جولائی 29, 2021 2 Min Read
0

سیہون سے بیس کلومیٹر کی مسافت پر قائم ایشیا کی بڑی جھیلوں میں شمار ہونے اور اپنی ایک منفرد شناخت رکھنے والی وسیع و عریض منچھر جھیل ان دنوں بارشیں نہ ہونے اور جھیل میں موجود پانی کے اخراج کی وجہ سے خشک سالی کا شکار ہے، جس کے باعث جھیل سے سینکڑوں ٹن مچھلی پکڑنے والے ماہی گیر اب فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں. ملاحوں کی آنکھوں میں اداسی اور منچھر کے ہونٹوں پر پپڑیاں جم چکی ہیں..

منچھر جھیل 233 کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے اور باڑ آنے کی صورت میں یہ ساڑھے چار سو کلومیٹر تک پھیل جاتی ہے، تاہم گذشتہ چار ماہ سے منچھر جھیل چاروں طرف چھ کلومیٹر تک سوکھ گئی ہے اور جھیل میں پانی کی سطح اٹھارہ فٹ سے کم ہو کر محض چار سے پانچ فٹ کے درمیان رہ گئی ہے۔

اس جھیل میں پینتالیس سے زائد نایاب اقسام کی مچھلیوں کے ساتھ ساتھ نایاب نسل کے پرندے بھی پائے جاتے تھے۔ مقامی مچھیرے مچھلیوں کا شکار کرکے اپنا گزارا کیا کرتے تھے تاہم حالیہ دنوں میں زہر آلود سوکھی ہوئی جھیل میں کھانے کے لائق کوئی جاندار چیز نہیں بچی

منچھر جھیل کے سوکھنے کی ایک وجہ لعل باغ کے مقام پر ارڑل ہیڈ برج سے جھیل کے پانی کا دریائے سندھ میں اخراج کرنا بھی بتائی جا رہی ہے

‘منچھر بچاؤ اتحاد’ کے رہنما کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کھیر تھر پہاڑی سلسلے پر ہونے والی موسلادھار مون سون بارشوں کے باعث نئَیں گاج، نئَیں بلی اور گاج ڈیم سمیت دیگر مقامات سے منچھر میں بارش کا پانی پانچ فٹ سے زائد داخل ہوچکا ہے، تاہم منچھر میں جمع ہونے والا بارشوں کا قدرتی میٹھا پانی لعل کے مقام پر قائم ارڑل ہیڈ ٹیل کے ذریعے دریائے سندھ میں خارج کیا جا رہا ہے۔ پانی کے اخراج سے مچھلیوں کی افزائش نہیں ہو رہی اور وہ مر رہی ہیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ایک طرف سے بارشوں کا پانی منچھر میں آنا شروع ہوا ہے تو دوسری جانب محکمہ آبپاشی وہ پانی نکال رہا ہے۔’

ان کے مطابق ‘عام دنوں میں منچھر میں اٹھارہ سے بیس فٹ کے درمیان پانی ہوتا ہے، اس وقت منچھر میں ساڑھے نو فٹ پانی موجود ہے اور اس کا بھی اخراج کیا جا رہا ہے۔’

Tags:

Mancher LakeSindh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بادل پھٹنا یا کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟

Next

روس میں کورونا سے مرنے والے مریض کے پوسٹ مارٹم کی تہلکہ خیز خبریں اور حقائق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme