Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

منکی پاکس کا خوف۔۔ برازیل میں لوگوں نے بندروں پر حملے شروع کر دیے

By Akhtar Rasool
اگست 10, 2022 2 Min Read
0

برازیل میں بندروں پر انسانوں کے حملوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، ان میں ساؤپولو کے جانوروں کی ایک پناہ گاہ میں دس بندروں کو زہر دینے کا واقعہ بھی شامل ہے

بتایا جاتا ہے کہ ان حملوں کی وجہ منکی پاکس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے پھیلنے والا خوف ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے برازیل میں منکی پاکس وائرس کے پھیلنے کے خوف سے بندروں پر حملے کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے منگل کے روز جینوا میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ منکی پاکس کا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیل رہا ہے“

ہیرس نے یہ بیان برازیل کی نیوز ویب سائٹ جی-1 کی طرف سے اتوار کے روز شائع ان خبروں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جنوبی ساؤ پولو ریاست کے ساؤ جوس ڈو ریوپریٹو شہر میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں دس بندروں کو زہر دے دیا گیا

ہیرس کا کہنا تھا ”گو کہ اس بیماری کا آغاز جانوروں سے انسانوں میں ہوا لیکن حالیہ دنوں میں یہ بیماری صرف انسانوں کے درمیان پھیل رہی ہے۔ لوگوں کو جانوروں پر کسی بھی صورت میں حملہ نہیں کرنا چاہئے“

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق دیگر شہروں میں بھی بندروں پر حملوں کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لوگوں نے بندروں پر پتھر برسائے یا انہیں زہر دے دیا

منکی پاکس کے کیسز

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق برازیل میں منکی پاکس کے سترہ سو سے زائد کیسز درج ہوچکے ہیں۔ برازیل کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے 29 جولائی کو ایک شخص کی موت ہوگئی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق منکی پاکس وائرس کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال سے یا تنفس اور چھونے والی سطحوں کے ساتھ رابطے دونوں کے ذریعے یا متاثرہ شخص کے استعمال شدہ آلودہ چیزوں سے انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔ یہ بیماری بالعموم دو سے چار ہفتے تک رہتی ہے۔ مریض کو بخار، ٹھنڈ، تھکن محسوس ہوتی ہے اور جسم پر دانے نکلتے ہیں۔ دس میں سے ایک مریض کے لیے منکی پاکس خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

بیماریوں کی روک تھام کے یورپی مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق یورپ میں منکی پاکس کے اب تک 13912 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے

مئی کے بعد سے تقریباً نوے ملکوں نے منکی پاکس کے 29000 سے زائد کیسز کی اطلاعات دی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے اس بیماری کو جولائی میں عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔

Tags:

BrazilMonkey PoxMonkeypoxmonkeys
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

واٹس ایپ نے ’ڈلیٹ فار آل‘ کا دورانیہ بڑھا دیا، آنے والے دیگر تین نئے فیچر کون سے ہیں؟

Next

سافٹ اسکِلز: سی وی پر موجود چیزیں اب کافی نہیں، ملازمت کے لیے یہ ہنر بھی ضروری ہیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme